کسان تحریک:راکیش ٹکیت کی دو ٹوک،دباؤ میں نہیں ہوگی بات

نئی دہلی:اگلے ہفتہ کسان تحریک فیصلہ کن ہوسکتی ہے۔ حکومت کسانوں کو مذاکرات کی ایک نئی شکل دے سکتی ہے اور اس کا دائرہ بھی بڑھا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت جلد ہی کسان تنظیموں کو کھلی بات چیت کرنے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اس میں حکومت صرف کسانوں سے تجاویز طلب کرے گی اور ان کے سامنے تفصیل سے اس پر بات کرے گی۔ گفتگو اگلے ہفتے کے آخر تک دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف کسان لیڈرراکیش ٹکیت نے دباؤ کی شرط پربات کوٹھکرادی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اکتوبر تک تحریک جاری رکھنے کی تیاری ہے، آگے کافیصلہ بعد میں لیا جائے گا۔دراصل 22 جنوری کو مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سے حکومت اور کسانوں کے مابین کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ 2 جنوری کو حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس قانون کو ڈیڑھ سال تک ملتوی کرنے کی تجویز کے بعد وہ مزید کچھ نہیں دیں گے، تب کسان تنظیموں نے بھی کہا تھا کہ قانون واپس لینے کی شرط سے کم قابل قبول نہیں ہے۔