کسان تحریک:اپوزیشن نے صدرجمہوریہ سے ملاقات کی،زرعی قوانین کومنسوخ کیاجاناچاہیے

نئی دہلی:صدرسے ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈروں نے کہاہے کہ حکومت کو کسانوں کی بات کو سمجھنا چاہیے، زرعی قانون کو منسوخ کیاجانا چاہیے۔کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کی ہے اور تینوں زرعی قوانین کوواپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔اس معاملے پراپوزیشن کی 5 جماعتوں کے رہنماؤں نے صدر سے ملاقات کی ہے۔جن لیڈروں نے صدررام ناتھ کووند سے ملاقات کی ان میں شرد پوار ، راہل گاندھی ، سی پی ایم رہنما سیتارام یچوری ، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ اور ڈی ایم کے رہنما ٹی کے ایس ایلنگوان شامل ہیں۔سیتارام یچوری نے کہاہے کہ 25 سے زیادہ اپوزیشن جماعتوں نے زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ قوانین ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہیں اور اس سے ہماری غذائی تحفظ کو بھی خطرہ ہے۔ سیتارام یچوری نے کہاہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے وفدنے صدر رام ناتھ کووند کوبتایاہے کہ حکومت نے کسان مخالف بل کو منظور کرنے کے لیے جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کی ہے اور تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے پراپوزیشن کی 5 جماعتوں کے قائدین صدر سے ملاقات کریں گے۔ جن لیڈروں نے صدر رام ناتھ کووند سے ملاقات کی ان میں شرد پوار ، راہل گاندھی ، سی پی ایم رہنما سیتارام یچوری ، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ اور ڈی ایم کے رہنما ٹی کے ایس ایلنگوان شامل ہیں۔سیتارام یچوری نے کہاہے کہ 25 سے زیادہ اپوزیشن جماعتوں نے زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ قوانین ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہیں اوراس سے ہماری غذائی تحفظ کو بھی خطرہ ہے۔ ستارام یچوری نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے وفد صدر رام ناتھ کووند کو بتائیں گے کہ حکومت نے کسان مخالف بل کو منظور کرنے کے لیے جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر کو یہ بھی بتایا گیاہے کہ 14 دن سے کسان سردی میں احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت ان کے مطالبات کو مسترد کر رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے کسانوں کو تحریری طور پر بھیجی گئی تجاویز پر سیتارام یچوری نے کہاہے کہ ہم نے تجویز دیکھی ہے۔ لیکن حکومت ایسی تجاویز دے رہی ہے جو زرعی بحران کوحل نہ کریں۔