کسان تحریک میں خالصتانی’ کنکشن ‘ کے اِن پٹ ، وزیراعلیٰ ہریانہ کھٹر کا دعویٰ

نئی دہلی:زرعی بلوں کیخلاف پنجاب اور ہریانہ میں کسانوں کے مظاہروں کا ہفتے کو تیسرا دن تھا۔ دریں اثنا مرکزی حکومت نے کسانوں سے مذاکرات کی پیش کش کردی ہے۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے ہفتے کے روز کہا کہ ہم نے کسان یونینوں کو 3 دسمبر کو میٹنگ کےلیے مدعوکیا ہے۔ امید ہے کہ وہ 3دسمبر کو ملاقات کے لیے آئیں گے،تاہم ادھر ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے کسان تحریک میں خالصتان کے حامیوں کی موجودگی کا ’دعویٰ‘ کرڈالا ہے ۔ کھٹر نے ہفتہ کے روز کہا کہ کسان کی تحریک میں مبینہ طور پر ’انتہا پسندوں ‘ کی شمولیت کا ’ان پٹ ‘موصول ہوا ہے۔وزیر اعلی منوہر لال کھٹرنے باور کرایا کہ ہمارے پاس مکمل رپورٹیں ہیں، جیسے ہی ان رپورٹوں کی تصدیق ہوگی ، ہم جلد اس کا انکشاف بھی کریں گے ۔ تحریک کار کسان ابھی بھی دہلی کی سرحد ( سندھواور ٹکری بارڈر )کے محاذپرڈٹے ہوئے ہیں ۔جمعہ کو سندھو بارڈر پر جھڑپ اور پولیس کے آنسو گیس کے گولے داغے جانے کے بعد حکومت نے دہلی میں ’داخلے ‘کی اجازت دے دی۔ دہلی حکومت نے کہا کہ کسان براڑی کے نرن کار ی گراؤنڈ میں احتجاج کرسکتے ہیں ، لیکن کسانوں نے دہلی میں داخلے سے انکار کردیا۔ان تحریک کار کسانوں کی منطق بھی بالکل ’دہقانی‘ ہی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہلی کو گھیرنے آئے ہیں ، دہلی میں گھر جانے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ ایک کسان نے بتایا کہ ہمارے پاس 6 ماہ کا راشن ہے، ہم مسلسل بے تکان زرعی قانون کے خلاف محاذ پر ڈٹے رہ سکتے ہیں۔ کسانوں کیخلاف کالے زرعی قوانین سے نجات کے بعد ہی واپس آجائیں گے۔وہیںمیرٹھ میں بھارتی کسان یونین (بی کے یو) کے کارکنان ٹول پلازہ پر جمع ہوئے کسان ہفتہ کی صبح 11:30 بجے دہلی کے لیے روانہ ہوگئے تھے، یہ کھیپ شام تک دہلی پہنچے گی۔ بی کے یو کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا کہ یہ فکری جنگ ہے، جب ایک دوسرے کے خیالات مساوی ہوں گے تویہ جنگ از خود ختم ہوجائے گی۔ اس بار مسئلہ حل ہونا چاہیے ، مذاکرات نہیں۔ واضح ہو کہ دہلی این سی آر کے کئی کالجوں نے کسانوں کے مظاہروں کی وجہ سے امتحانات ملتوی کردییے ہیں۔ اس سے باہر سے آنے والے طلبہ کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگا ۔ دہلی پولیس نےسندھو بارڈر پر تین پرتوں میں بیری کیڈنگ کھڑی کی تھی، سب سے آگے خاردار تاریں تھیں۔ اس کے بعد ٹرکوں کو بیرکیڈس کی طرح لگایا گیا تھا۔ آخر میں واٹر کینن تعینات تھے۔ اس طرح کے انتظامات بھی کسانوں کو نہیں روک سکے۔ پنجاب-ہریانہ بارڈر سے دہلی بارڈر تک تین ریاستوں کی پولیس نے 8 بار بڑی ناکہ بندی کرکے کسانوں کو روکنے کی کوشش کی ، لیکن ہر بار کسان ٹریکٹر کی مدد سے آگے بڑھتے گئے ، درمیان میں سنگ باری بھی کئی گئی۔وہیں پانی پت میں دوسرے دن پولیس اور کسانوں کے مابین جھڑپ ہوئی۔ بڑی تعداد میں کسان بیریکیڈنگ توڑ کر دہلی کی طرف بڑھ گئے۔