کسان تحریک کی پوسٹر خاتون بنیں 80 سالہ دادی،کنگنا کو دیامنہ توڑ جواب

نئی دہلی:گذشتہ ایک ہفتے سے پنجاب – ہریانہ کے کسان مرکزی حکومت کے نئے زرعی قانون کے خلاف سڑکوں پر کھڑے ہیں اور اس میں تبدیلی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کسانوں کے اس بڑے احتجاج میں نہ صرف پنجاب کے مرد کسان اور نوجوان حصہ لے رہے ہیں بلکہ پنجاب کی بوڑھی خواتین بھی اس میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس طرح کی دو دادیاں ہیں مہیندر کور اور جنگیڈ کور جو اس قانون کے خلاف احتجاج میں سڑک پر ہیں اور میڈیا سمیت عام لوگوں کی توجہ مبذول کر رہی ہیں۔ ضلع بھٹنڈا کی مہیندر کور اور برنالہ کی جنگید کور دونوں 80 سال سے زیادہ عمر کی خواتین ہیں، لیکن کسانوں کی حمایت میں ان کے جذبے کے پیش نظر آپ کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی عمر آخری مرحلے میں ہے۔ ستمبر کے بعد سے یہ دونوں خواتین زرعی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں حصہ لے رہی ہیں۔ اداکارہ کنگنا رناوت نے گزشتہ دنوں کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے پر مہیندر کور کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا موازنہ 82 سالہ خاتون بلقیس بانو جو سی اے اے پروٹیسٹ میں شامل تھیں اس سے کرتے ہوئے طنز کیا تھا ۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھاکہ یہ وہی دادی ہیں جنہیں ٹائم میگزین میں سب سے زیادہ طاقتور ہندوستانی افراد کی فہرست میں جگہ ملی۔ یہ 100 روپے کے عوض دھرنے میں ہیں۔ پاکستانی میگزینوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی پی آر کو شرمناک انداز میں پیش کیا ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں سے بین الاقوامی سطح پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس ٹویٹ کو بعد میں کنگنا کی ٹیم نے حذف کردیاتھا۔ اب کنگنا کے اسی الزام پر فتح گڑھ جنڈیا گاؤں کی مہندر کور نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان کے پاس 12 ایکڑ اراضی ہے۔ کنبہ کے پاس کافی پیسہ ہے۔میں پیسوں کے لیے احتجاج کرنے کیوں جاتی؟ بجائے اس کے ہم چندہ دیتے ہیں۔انھوں نے ستمبر میں اپنے شوہر لبھ سنگھ کے ساتھ بادل گاؤں میں ایک احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ وہ کہنے لگیں اب میں دہلی جانے کی منتظر ہوں۔ مہیندر بڑھاپے کی وجہ سے کوبڑ کے مسئلے میں مبتلا ہیں۔ مہندر کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے کھیتی باڑی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب بھی میں گھر میں اگنے والی سبزیوں اور پھلوں کی دیکھ بھال کرتی ہوں۔ میں کھیتی باڑی کے خلاف اس قانون کی مخالفت کرنے جارہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا ایک مہینہ پہلے میں اس قانون کے خلاف احتجاج کرنے سنگت گاؤں ضلع بھٹنڈا کے ایک پٹرول پمپ پر گئی تھی جہاں کسی نے فوٹو کھینچ لیا تھا جو اب کسانوں کی تحریک کے دوران وائرل ہوگیا ہے۔