کسان تحریک: مودی کابینہ نے پاس کی کسان بل کو واپس کرنے کی تجویز

نئی دہلی: بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی تجویز کو متفقہ طور پر منظور کیا۔ مرکزی حکومت کے اس اقدام کے بعد اب بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کرکے کہا کہ یہ تحریک ابھی ختم نہیں ہوگی۔ٹکیت نے کہا کہ ایم ایس پی پر گارنٹی کارڈ لے کرجائیں گے۔راکیش ٹکیت نے کہا کہ 27 نومبر کو ہماری میٹنگ ہے، جس کے بعد ہم مزید فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی نے کہا ہے کہ یکم جنوری سے کسانوں کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی، تو ہم پوچھیں گے کہ اسے کیسے دوگنا کیا جائے گا۔ کسان جیت جائیں گے جب انہیں ان کی فصلوں کی قیمت ملے گی۔ایک اور ٹویٹ میں راکیش ٹکیت نے سوال کیاکہ کسانوں کو فصل کا نقصان ہوا ہے اور ایم ایس پی کی ذمہ داری کون لے گا؟ ایم ایس پی پر گارنٹی کارڈ کے ساتھ جائیں گے۔کابینہ کے فیصلے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہاکہ آج کابینہ کی میٹنگ میں باضابطہ طور پر زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پارلیمنٹ کی کارروائی اگلے ہفتے میں شروع ہوگی، وہاں دونوں ایوان میں زرعی قوانین کو واپس لینے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔