کسان تحریک :  11 کسان 24 دن رکھیں گے’ اپواس ‘

 

نئی دہلی:

زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کے احتجاج کا آج 26 واں دن ہے۔ کسانوں نے آج سے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ یہاں 11-11 کسان دہلی ، ہریانہ اور اتر پردیش کی سرحدوں پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ 24 گھنٹوں کے بعد 11 دوسرے کسان اس عمل کو آگے بڑھیں گے۔اسی کے ساتھ ہی ہریانہ کو 25 سے 27 دسمبر تک ٹول فری بنایا جائے گا۔جس کا اعلان کسانوں نے اتوار کے روز کیا۔ اس کے محض 5 گھنٹے بعد ہی حکومت نے ایک خط بھیجا ،جس میں مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی۔ اس میں کسانوں سے تاریخ طے کرنے کو کہا گیا ہے۔ کسان آج اس پر فیصلہ کرسکتے ہیں۔وہیں فیس بک پر کسانوں کے پیج بلاک کرنے کے الزامات کو پیر کے روز فیس بک نے واضح کیا ہے۔ فیس بک کے ترجمان نے کہا کہ کسان یکتا مورچہ کے فیس بک پیج پر اچانک بڑھتی ہوئی سرگرمی کی وجہ سے ہمارے خودکار نظام نے اسے اسپام کردیا ہے ،کیونکہ یہ ہمارے معیار پر پورا نہیں اترتا ہے، تاہم معاملہ کو سمجھنے کے بعدہم نے 3 گھنٹوں میں پیج بحال کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپام کے خلاف ہمارا بنیادی کام خود کار نظاموں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر کسی اکاؤنٹ میں تھوڑی دیر کے لئے بہت زیادہ سرگرمی ریکارڈ کی جاتی ہے تو ، اس سے ہمیں شبہ ہوتا ہے کہ یہاں کچھ غلط ہوسکتا ہے۔اس سے قبل اتوار کے روز ’کسان ایکتا مورچہ‘ نے فیس بک پر مرکزی حکومت کے دباؤ میں اپنا پیج بلاک کا الزام لگایا تھا۔خیال رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اتوار کے روز بنگال میں کہا کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور کسانوں کے درمیان ایک یا دو دن میں میٹنگ ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف کسان رہنماؤں نے اتوار کو کنڈلی بارڈرپر میٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ27دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی جتنی دیر ’ من کی بات‘کریں گے ، اتنی دیر ہم تالیاں اور تھالیاں بجائیں گے۔ہندوستانی کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹیکیت نے کہا ہے کہ حکومت کی حمایت کرنے والے کسان تنظیموں سے ملاقات کریں گے۔ ہم ان سے یہ سیکھیں گے کہ وہ نئے زرعی قوانین میں کیا دیکھ رہے ہیں ، نیز یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ ان کی فصلوں کو بیچنے کے لئے کون سی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہیں۔واضح ہوکہ23 دسمبر یوم کسان ہے ،کسان تنظیموں نے اپیل کی ہے کہ اس دن ملک بھر کے لوگ ایک دن کا ’اپواس ‘رکھیں۔ 26 اور 27 دسمبر کو کسان این ڈی اے میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور ان سے اپیل کریں گے کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں اور تینوں قوانین کو واپس لے،بصورت دیگر ان کے خلاف بھی مظاہرے شروع کردیئے جائیں گے۔ اڈانی- امبانی کا بائیکاٹ جاری رہے گا