کسان مظاہرین پر آنسو گیس فائر کے بعد وزیراعلیٰ کھٹر کی کسانوں کی میٹنگ منسوخ

کرنال:ہریانہ کے کرنال ضلع کے کملا نامی گاؤں میں بی جے پی کی جانب بلائی گئی کسان مہاپنچایت ریلی میں کسانوں اور پولیس کے مابین تصادم کے بعد ریاست کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے گاؤں کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں وزیراعلیٰ کھٹرکو کسانوں سے خطاب کرنا تھا۔ ہزاروں کسان ان کی مخالفت میں جمع ہوئے تھے، پولیس نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی ، لیکن کسان راضی نہیں ہوئے۔ پولیس نے احتجاجی کسانوں پر ٹھنڈے پانی کا واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے فائر کئے،اُس کے بعد وہاں کی صورتحال کشیدہ ہوگئی ۔آس پاس کے علاقہ سے سیکڑوں کسان وہاں جمع ہوگئے۔ پولیس سے جھڑپ کے بعد اب یہ تمام کسان دیہات اور کھیتوں کے گوداموں کی طرف بڑھ گئے،جہاں پولیس فورس کی ایک بڑی تعداد وہاں تعینات کی گئی ہے ۔ ادھر کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے سی ایم کھٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر منوہر لال جی ، کرنال کے گاؤں کملا میں کسان مہاپنچایت کا ڈھونگ بند روکیں۔ کسانوں کے جذبات میں الجھا کر نقضِ امن کی سازش روکیں۔ اگر آپ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو 46 دن سے کسان جو سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں، ان سے بات و شنید کریں۔بی جے پی کے زیر اقتدارریاست ہریانہ نے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت سرخیاں حاصل کی تھیں، جب پنجاب سے دہلی آنے والے کسانوں کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا اور ان پر پولیس طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ کسانوں کے ساتھ پولیس جھڑپوں کی اطلاعات ،ویڈیو فوٹیج، بیری کیڈس کی توڑ پھوڑ ، آنسو گیس اورواٹر کینن کے استعمال کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔