کسان بل:حکومت کی دھاندلی اور پارلیمنٹ کا شرمناک استحصال ـ سمیع اللہ خان

بھارت میں جمہوریت اور سیکولرزم کی نام نہاد زندگی اب اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے اس کا ایک کھلا ہوا ٹریلر آجکل ہندوستان کی پارلیمنٹ میں آپ دیکھ سکتےہیں ـ
گزشتہ کل پارلیمنٹ میں کسانوں کے تعلق سے تین بل پاس کیے گئے، انہیں پاس کرنے میں پارلیمانی اصولوں کو روند دیا گیا، کھلی ہوئی دھاندلی اور شرمسار جھوٹ کے عمل سے انہیں منظوری دی گئی، پارلیمانی ڈسکشن شفاف ووٹنگ اور تمام آئینی مراحل کو پھینک دیاگیا، اسپیکر نے بل کو قانون بنانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ آنکھوں میں دھول جھونکنے والا نہیں بلکہ موجودہ جمہوریت کی حقیقت بیان کرتا ہے، بل لایا گیا ، ممبران پارلیمنٹ نے مخالفت کی تو ڈپٹی چیئرمین نے صوتی ووٹنگ کا اعلان کیا، چیئرمین صاحب کی دیدہ دلیری قابلِ دید ہے کہ جس ہال میں شور و غوغا کا یہ عالم تھا کہ کان پڑتی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اس ہال میں انہوں نے ایسے ہی چیخ و پکار کے ماحول میں صوتی ووٹنگ کرواکے یہ بتلا دیا کہ اکثر ووٹ بل کی حمایت میں ہیں اور اس طرح انہیں قانون بنایا جاتا ہے، ممبران کا حال یہ تھا کہ وہ کاغذ کے پرزے اچھال رہے تھے، نعرے لگ رہےتھے، جس پارلیمنٹ کے ذریعے جمہوری حقوق کا بھرم بنایا جاتاہے اظہار رائے کی آزادی کا یقین دلایا جاتاہے اسی پارلیمنٹ میں اس کے نمائندگان سے بولنے کی آزادی، اختلاف کی آزادی، مخالفت کا حق چھین لیا جاتاہے، جب حکومتی غنڈہ گردی کے سامنے اس جمہوریت کے نمائندہ ممبران اتنے بے بس اور لاچار کردیے گئے تو آپ اندازہ لگا سکتےہیں کہ اس پارلیمنٹ کے ذمہ داروں کے یہاں بھارت واسیوں کی آزادی کا مطلب کس قدر چھوٹا ہوگا؟ شرمناکی صرف اتنی نہیں کہ ممبران کو بولنے نہیں دیا گیا بلکہ مخالفت کرنے والوں کو آج سزا دیتے ہوئے راجیہ سبھا سے معطل کردیاگیا ہے، ایک ہفتے کے لیے ان پر پابندی عائد کردی گئی،۸ ممبران جنہوں نے حکمران جماعت کی غنڈہ گردی کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا انہیں آج معطل کردیاگیا، کل جس دھاندلی سے قانون پاس کیاگیا اور آج جس بے شرمی سے مخالفت کرنے والوں کو سزا سنائی گئی ہے وہ بہت ہی تشویشناک ہے، یہ پورا ایپی سوڈ جمہوریت کے مندر میں آمریت کا ناچ ہے جو آنے والے بھارت کی فاشسٹ جھلک دکھا رہا ہےـ
آج ۸ ممبران پارلیمنٹ کو اس حال میں معطل کیاگیا کہ ان کی بات نہیں سنی گئی، معطلی کے لیے ریزولوشن کا بھی لحاظ نہیں کیاگیا، اپوزیشن لیڈر سے بھی رائے نہیں لی گئی، جبکہ معطلی سے پہلے یہ مراحل ضروری ہیں لیکن یہاں بھی صرف ڈکٹیٹرشپ نظر آئی، معطل ہونے والے آٹھ میں سے ۳ ممبران ” رپن بورا ” ” راجیو ستو ” اور ” سید نصیر حسین ” کانگریس سے، CPiM کے ۲ ممبران ” کے کے راگیش ” اور ” ایلامرم کریم ” ترنمول کانگریس کے ۲ ممبران ” دولا سین ” اور ” ڈیریک او برائن ” اسی طرح عام آدمی پارٹی کے ایک ممبر سنجے سنگھ ہیں ـ انہیں پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی وجہ سے معطل کردیاگیا اور معطلی کے لیے بھی مطلوبہ شفاف مراحل کو نظرانداز کردیاگیاـ

ہمیں نہ ہی ان پارٹیوں سے ہمدردی ہے اور ناہی معطل ہونے والے لوگوں سے کوئی خاص امیدیں ہیں، یہاں آپ کو پارلیمنٹ کی وہ صورتحال دکھانا مقصود ہے جو جھنجوڑنے والی ہےـ
بھاجپا کسانوں کے خلاف استحصالی قوانین لاتی ہے ،یہ قانون صرف اور صرف کارپوریٹ سیکٹر کی خوشنودی اور مفاد میں ہے، کسان اس بل کے خلاف مشتعل اور بپھرے ہوئے ہیں لیکن جیسے ظالمانہ شہریت قانون پر مسلمانوں کے پرامن غصے کا لحاظ ہٹلر نے نہیں کیا تھا وہ کسانوں کے مشتعل غصے کو بھی پولیس کی لاٹھی سے ہانک رہےہیں انہیں تو کارپوریٹ آقاؤں کی رضا سے مطلب ہےـ
اب تک ایسا تھا کہ چلو پارلیمنٹ کی ووٹنگ میں اپوزیشن اگر متحد ہوکر کسی بل کی مخالفت کردے تو وہ قانون نہیں بن سکےگا لیکن اب ایسا ہے کہ اگر اپوزیشن مخالفت کرے تو کرتا رہے بھاجپا اپنی من مانی سے جھوٹا اعلان چیئرمین سے کروائے گی کہ قانون پاس ہوگیا جوکہ کبھی ہوا ہی نہیں اور نا ہی ان مراحل سے گزارا گیا، اس کو بھی سفید جھوٹ بول کر کہا جائےگا کہ تمام مراحل مکمل کرلیے گئے، پارلیمانی ریکارڈ میں مخالفت کو سرے سے درج ہی نہیں کیا جائےگا تاکی آنے والی تاریخ میں ان لوگوں کی ڈکٹیٹرشپ اجاگر نہ ہو، پھر ایک استحصالی قانون جسے غیرآئینی طریقے سے پاس کروادیا گیا اس کی مخالفت کرنے والوں کو بھی تانا شاہی انداز میں پارلیمنٹ سے معطلی کا فرمان سنا دیا جائے گا ـ
یہ ہے نیا بھارت، یہاں پارلیمنٹ میں پارلیمانی اقدار کا قتل ہورہاہے یہ پارلیمنٹ جسے جمہوریت کا مندر بتایا گیا اس مندر کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، اس مندر میں استحصال اور فاشسزم کا کھیل ہوتاہے جو مندروں کے تئیں بھاجپا اور آر۔ایس۔ایس کے اصل نظریے کو واضح کررہاہے، پارلیمنٹ میں یہ کھلا ہوا کھیل دیکھ کر بھی اگر آپ کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ رياست کے فاشسٹ ہوجانے کے آفیشل اعلان کا انتظار کیجیے لیکن تب آپ اس اعلان کو صرف سننے کے مجاز ہوں گےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*