کسان اورحکومت کے مابین دسویں دورکی میٹنگ:سرکارنے ڈیڑھ برس تک قوانین کے التواء کی تجویزپیش کی،کسان 22جنوری کوجواب دیں گے

نئی دہلی:کسانوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے 11 ویں دور میں حکومت قدرے جھکی ہوئی نظر آئی۔ مرکز نے کسانوں کے سامنے دو تجاویز پیش کی ہیں۔ مرکز نے کسانوں کو تجویز پیش کی ہے کہ ڈیڑھ سال تک زرعی قوانین نافذ نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایم ایس پی پر بات چیت کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ تاہم کسان قوانین کی واپسی پرقائم ہیں۔حکومت کی تجویزپرکسانوں نے ایک الگ میٹنگ کی۔ اس نے ابھی تک اپنا فیصلہ نہیں بتایا ہے۔کسانوں نے کہاہے کہ وہ حکومت کی تجویزپر22جنوری کوجواب دیں گے۔ کسانوں کولگتاہے کہ اگراس باروہ واپس چلے گئے او رحکومت اپنے وعدے سے پھرگئی توتحریک آسان نہیں ہوگی۔اوراب تک کی کوششیں بربادہوں گی۔ کسانوں اورحکومت کے مابین اگلی میٹنگ 22 جنوری کو ہوگی۔وگیان بھون میں جب وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور وزیر تجارت پیوش گوئل نے 40 کسان تنظیموں کے رہنماؤں سے بات چیت شروع کی تو کسانوں نے صرف قانون واپس لینے کامطالبہ کیا۔ دوپہر کے کھانے کے دوران کاشتکاروں نے کہاہے کہ حکومت ہمارے بڑے مطالبات پر بات چیت نہیں کررہی ہے۔ جب ہم نے ایم ایس پی پرگفتگوکے بارے میں بات کی تو مرکز نے قوانین کا معاملہ اٹھایا۔ کسان رہنماؤں نے تحریک سے وابستہ لوگوں کو قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے)کی جانب سے نوٹس بھیجنے کی بھی مخالفت کی۔ تنظیموں کاکہناتھاکہ کسانوں کو ہراساں کرنے کے لیے این آئی اے کااستعمال کیا جارہا ہے۔ اس پر حکومت نے جواب دیاہے کہ اگر آپ کو ایسا معصوم کسان نظر آتا ہے تو آپ ایک فہرست دیں،ہم فوری طور پر یہ معاملہ دیکھیں گے۔بزرگ کسان دھنہ سنگھ ، جو ٹکی بارڈر پر ایک مظاہرے میں شامل تھے ، بدھ کے روز انتقال کر گئے ، موت کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ ادھر ، 42 سالہ کسان جئے بھگوان رانا کی بھی موت ہوگئی۔ رانا ، جو روہتک ضلع کا رہنے والاہے ،نے منگل کو سلفاس کھایا۔ وہ ٹکی بارڈر پر مظاہروں میں شامل تھا۔ رانا نے خودکش نوٹ میں لکھا تھاہے کہ اب یہ تحریک اب نہیں ، بلکہ معاملات کی لڑائی بن گئی ہے۔منگل کے روز دہلی میں زرعی قوانین کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے 3 ارکان کی میٹنگ ہوئی ہے۔ اس میں مزید کاروائی پر غور کیا گیا ، میٹنگیں کب اور کہاں ہوں گی ، تجویزاور رپورٹ کی تیاری کس طرح ہوگی۔ اس پربات ہوئی۔ کمیٹی کے مطابق 21 جنوری کو کمیٹی کسان تنظیموں سے ملاقات کرے گی۔ جو نہیں آئیں گے،ان سے بھی ملیں گے۔ آن لائن تجاویز لینے کے لیے ایک پورٹل تشکیل دیاگیاہے۔ کسانوں کی تجاویز 15 مارچ تک لی جائیں گی۔