کسان احتجاج کے چھ ماہ مکمل ہونے پریوم سیاہ منانے کااعلان،کسانوں کاہجوم سنگھوبارڈرروانہ

چنڈی گڑھ:مرکزکے تین زرعی قوانین کے خلاف کسان ایک بار پھر ایک بڑا احتجاج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے 6 ماہ مکمل ہونے پر کسان 26 مئی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔ اس کے تحت اتوار کے روزہریانہ کے کرنال سے ہزاروں کسان دہلی کے قریب سنگھو بارڈرکے لیے روانہ ہوئے۔بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے رہنما گرنام سنگھ چدھونی کی قیادت میں ، کسانوں کی ایک بڑی تعداد سینکڑوں گاڑیوں میں سوار کرنال کے ٹول پلازہ سے نکلی۔ کسان رہنما چدھونی نے کہاہے کہ دہلی بارڈر پہنچنے کے بعد وہ ایک ہفتہ تک لنگر خدمت کریں گے۔ انہوں نے کہاہے کہ کسان روانہ ہوگئے ہیں تاکہ دہلی کے مختلف اضلاع میں اس تحریک کی اچھی نمائندگی ہوسکے۔مرکزکے تین متنازعہ زرعی قوانین کے بارے میں کسان گذشتہ کئی مہینوں سے مظاہرہ کر رہے ہیں۔مظاہرین کاشتکاروں کامطالبہ ہے کہ حکومت ان تینوں قوانین کو واپس لے۔ نیز کسان کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کی ضمانت کے لیے ایک نیا قانون چاہتے ہیں۔ اس معاملے پر حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین متعدد دورکی میٹنگ ہوئی ہے۔ تاہم یہ میٹنگیں غیر نتیجہ خیز تھیں۔اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ اس وبا کے دوران احتجاج تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ، چدھونی نے کہا کہ حکومت ہی انفیکشن پھیلا رہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کسانوں پر صرف ان کی نااہلی چھپانے کا الزام لگا رہی ہے۔ نہ تو ایمبولینس ہے ، نہ بستر اور نہ ہی اسپتال۔ ہماری اپنی مجبوری ہے ، لیکن جہاں بھیڑ جمع ہوتی ہے وہاں حکومت ایسے پروگراموں کا اہتمام کیوں کررہی ہے؟بھارتیہ کسان یونین کے رہنما نے بھی کسانوں کے اس طرز عمل کا اعادہ کیا کہ وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے تیارہیں۔ متحدہ کسان مورچہ (ایس کے ایم) جس نے 40 سے زیادہ کسان تنظیموں کی نمائندگی کی ہے ، نے جمعہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔