کس کس سے لڑیں گے مودی ؟ـ حسام صدیقی

کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت کے کسانوں کی حمائت میں بیان دیا جسے بھارت نے پسند نہیں کیا، کرنا بھی نہیں چاہیے تھا کیونکہ کسان تحریک بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور کوئی بھی ملک اپنے اندرونی معاملات میں کسی دوسرے ملک کی دخل اندازی برداشت نہیں کرتا ہے۔ دہلی میں تعینات کنیڈائی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں بلا کر سخت اعتراض ظاہر کیا گیا، اس کے باوجود ٹروڈو نے پھر کسان تحریک کی حمائت میں بیان دے دیا۔ دوسرا بیان دے کر انہوں نے اپنے ملک میں رہ رہے سکھوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ کناڈا سرکار پورے ملک کے کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ٹروڈو کی بیان بازی سے ناراض بھارت سرکار نے سات دسمبر کو کناڈا میں کووڈ-۱۹ پر ہونے والی دنیا بھر کے لیڈران کی اہم میٹنگ کا بائیکاٹ کردیا۔ کیا یہ فیصلہ مناسب ہے مودی سرکار کناڈا کو سخت ڈانٹ پلا کر معاملہ رفع دفع کرسکتی تھی۔ کووڈ-۱۹ جیسے مسئلے پر میٹنگ میں بھارت کو شرکت ضرور کرنی چاہیے تھی۔ صرف کناڈا ہی نہیں چونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں جیسی ہوگئی ہے اس لیے بھارت ہو، امریکہ ہو یا چین اور روس ہر ملک میں ہونے والی سرگرمیوں کی جانکاری سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پہونچ جاتی ہے۔ آپ کچھ چھپا نہیں سکتے۔
اب سوال یہ ہے کہ کسانوں کے معاملہ میں وزیراعظم نریندر مودی کس کس سے لڑیں گے؟ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بھی کسانوں کی حمائت میں بیان دے چکے ہیں۔ ان کے بیان پر تو مودی سرکار نے کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیا۔ امریکہ کے درجنوں شہروں میں ہندوستانی کسانوں کی حمائت میں احتجاجی جلوس نکلے ہیں۔ یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ برطانیہ کے تین درجن سے زیادہ پارلیمنٹ ممبران نے کسانوں کی تحریک پر سخت رخ اختیار کررکھا ہے، ان ممبران نے اپنے وزیر خارجہ کوخط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر سے بات کرکے کسانوں کے حالات کی حقیقت معلوم کریں۔ ان لوگوں نے اقوام متحدہ کو بھی خط لکھا ہے کہ وہ بھارتی کسانوں کے معاملے میں دخل دے۔ برطانیہ کے بھی کئی شہروں میں بھارتی کسانوں کی حمائت میں جلوس نکل رہے ہیں۔ یہی حال آسٹریلیا کا ہے۔ سڈنی جیسے شہروں میں تو احتجاجی جلوس نکلے ہی ملبورن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے بھی کسانوں کی حمائت میں مظاہرہ ہوا ہے۔ دنیا کے کئی اور ممالک سے بھی اسی طرح کی خبریں آئی ہیں۔
کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دوسرے کسی بھی ملک کو دخل دینے کا نہ تو حق ہے اور نہ اسے برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن کیا خود وزیراعظم نریندر مودی نے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کی ہے؟ امریکہ کے ہیوسٹن میں ’ہاؤڈی مودی‘ پروگرام کے دوران ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ اور اس سال فروری میں ملک کے خزانے کا سیکڑوں کروڑ روپیہ خرچ کرکے احمد آباد میں ’نمستے ٹرمپ‘ پروگرام کیا ۔ کیا نریندر مودی نے امریکی الیکشن پر بھارتی ووٹرس کے ذریعہ اثر ڈ النے کا کام نہیں کیا تھا۔ دنیا کی تاریخ میں کبھی کوئی بھی وزیراعظم یا صدر نے دوسرے ملک میں جا کر وہاں کے کسی سیاست داں کی حمائت میں اس قسم کی مہم نہیں چلائی ہے۔ مودی کو دراصل یہ غلط فہمی تھی کہ امریکہ میں رہنے والے ہندوستانی ووٹر ان کے کہنے پر ڈونالڈ ٹرپ کو ووٹ دے دیں گے۔ لیکن مودی کی اپیل کا تو الٹا اثر ہوا۔
نریندر مودی جب سے ملک کے وزیراعظم بنے ہیں پورے ساڑھے چھ سالوں سے وہ کسی ڈکٹیٹر کی طرح کسی سے بھی مشورہ کئے بغیر اپنی مرضی کے فیصلے تھوپتے آئے ہیں۔ چونکہ ملک کی ایک بڑی آبادی نےمسلم مخالف ذہنیت کی وجہ سے مودی پر بھرپور بھروسہ کیا، بھروسہ ایسا کہ مودی صحیح فیصلہ کریں یا غلط عام لوگوں کو ان کے فیصلوں کی بھرپور حمائت کرتے دیکھا گیا ۔ اگر کسی نے مودی کے کسی فیصلے کے خلاف آواز یا اعتراض اٹھانے کی کوشش کی تو مودی نے اپنے غلام میڈیا اور اپنی پروپگینڈہ فیکٹری یعنی آئی ٹی سیل کے ذریعہ اعتراض کرنے والوں کو غدار، اربن نکسل، ٹکڑے ٹکڑے گینگ، ایوارڈ و اپسی گینگ، جہادی، آئی ایس آئی اور نہ جانے کیا کیا بنوا دیا اس کام میں مودی نے انکم ٹیکس، انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ، سی بی آئی اور این آئی اے جیسی ایجنسیوں کا بھرپور استعمال کیا۔ ساڑھے چھ سالوں میں مودی سرکار نے اپنے فائدے کے کئی نئے قوانین بغیر کسی سے مشورہ کئے ہوئے یا اپوزیشن کو اعتماد میں لئے بغیر ہی شور شرابے کے درمیان پارلیمنٹ سے پاس کرالئے۔ مودی کا بنایا ہوا ایک بھی ایسا قانون نہیں ہے جس پر ماہرین سے، قانون سے متاثرہونے والے طبقات سے، پارلیمنٹ کے ممبران سے، پارلیمانی کمیٹیوں سے یا سلیکٹ کمیٹی سے کوئی مشورہ کیا ہو۔ جو ان کے دل میں آیا ملک کا نفع نقصان دیکھے بغیر انہوں نے کر ڈالا۔ انتہا یہ کہ مسلم خواتین کے لئے انہوں نے جو قانون بنایا اس میں اسلام کے جاننے والے کسی عالم سے تو دور اپنی پارٹی کے ایم جے اکبر، مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین تک سے کوئی مشورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا، نوٹ بندی کرکے انہوں نے ملک کا جو بیڑہ غرق کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ وہ تعلیم یافتہ بھلے نہ ہوں لیکن ان کے اندر یہ گھمنڈ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ دنیا میں ان سے زیادہ قابل کوئی نہیں ہے۔
نریندر مودی کا’ اشومیدھ‘ بے روک ٹوک دوڑ رہا تھا تبھی اپنے کارپوریٹ دوستوں کے مشورے پر وہ کورونا کے دوران ایک نہیں تین تین زراعتی بل لے آئے۔ انہوں نے شائد یہ سوچا ہوگا کہ جس طرح شہریت قانون(سی اے اے) وہ لے آئے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی غیر موجودگی میں اسے پاس کرالیا، فوراً بعد ان لاء فل ایکٹوٹیز پریوینشن ایکٹ(یو اے پی اے) لے آئے تاکہ سی اے اے کی مخالفت کرنے و الوں کو جیلو ں میں ٹھونسا جاسکے، اسی طر ح وہ تینوں کسانی بل بھی پاس کراکر کاشتکاروں کی فصل کے ساتھ ان کی زمینوں پر بھی اپنے کارپوریٹ دوستوں کا آسانی سے قبضہ کرادیں گے۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ کسانی بلوں پر انہوں نے ماہرین اور کسان یونینوں یاان کے نمائندوں سے کوئی رائے مشورہ نہیں کیا۔ اسی لیے کسانوں کا الزام ہے کہ جس طرح کارپوریٹ ہاؤسوں سے بل کا مسودہ آیا تھا مودی نے ویسے ہی پاس کرادیا۔ اب مودی کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں لمبی بحث کے بعد ہی یہ بل پاس کیے گئے۔ ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ کیونکہ لوک سبھا میں جب یہ آیا تھا تو ہنگامہ ہوگیا تھا اپوزیشن ایوان سے بائیکاٹ کرگیا تھا۔ راجیہ سبھا میں ہنگامہ اتنا ہوا تھا کہ وہاں ووٹنگ کے ذریعہ یا آوازکے ووٹ سے ان بلوں کو پاس ہی نہیں کیا گیا پھر پارلیمنٹ میں اس پر بحث کہاں ہوئی تھی قائدہ سے تو یہ بل پارلیمنٹ سے پاس ہی نہیں ہوئے ہیں۔
کسانوں نے ان بلوں میں کچھ ترمیم کرنے اور منیمم سپورٹ پرائس کو قانونی شکل دینے کا مطالبہ کیا تو اقتدار کے گھمنڈ میں ڈوبے مودی نے کہہ دیا کہ وہ جو بل لا ئے ہیں وہ کسانوں کے وسیع مفاد میں ہیں کچھ اپوزیشن پارٹیاں خصوصاً کانگریس ملک کے کسانوں کو بہکا رہی ہیں۔ کسان اپنے مطالبات پر زور دینے کے لئے دو مہینوں تک پنجاب میں ریلوے لائن پر بیٹھ کر دھرنا دیتے رہے۔ سرکار اور سرکار کے غلام میڈیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ آخر نومبر کے آخر میں کسانوں نے پنجاب میں دھرنے پر بیٹھے رہنے کے بجائے دہلی میں مظاہرہ کرنے کا اعلان کرکے دہلی کوچ کا اعلان کردیا۔ تب بھی مودی اور ان کے لوگ اسی غلط فہمی میں رہے کہ کسان ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ مودی سرکار نے اپنے غلام میڈیا اور آئی ٹی سیل کے جھوٹوں کے ذریعہ کسانوں کے ساتھ بھی وہی رویہ اختیار کیا جو سی اے اے مخالف شاہین باغ کے مظاہرے کے ساتھ کیا تھا۔ افواہیں پھیلائی گئیں کہ کسانوں کوتو خالصتانیوں اور پاکستان سے فنڈنگ ہورہی ہے۔ پھر کہا کہ جینس، صاف ستھرے کپڑے، ہاتھوں میں لاکھ روپیوں کا آئی فون اور پچیس سے چالیس لاکھ کی لگژری گاڑیوں میں چلنے والے کسان ہو ہی نہیں سکتے۔ اس کے علاوہ بھی اسی قسم کے کئی گھٹیا الزام لگائے گئے۔
مودی اور ان کے لوگ کسانوں کو بدنام کرنے کی مہم چلاتے رہے ادھر پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اترپردیش، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے کسان بھی دہلی گھیراؤ میں شامل ہوتے رہے۔ سیکڑوں ڈاکٹرس اور ہزاروں سوشل ورکرس بھی کسانوں کی مدد میں پہونچنے لگے۔ کسانوں نے آٹھ دسمبر کو صبح سےدوپہر بعد تین بجے تک بھارت بند کا اعلان کیا تو پورا ملک وہ ٹرک والے اور کاروباری جن کا دہلی سیل ہونے سے کروڑوں کا نقصان ہوچکا تھا وہ بھی کسانوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ مودی کو اب یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیےکہ مسلسل عروج پر چڑھ رہے ان کے ستارے کو کارپوریٹ دوستوں نے کسانوں کی شکل میں ایک گرہن لگوا دیا ہے۔اگر وہ اپنی ضد پر قائم رہے تو اپنا سیاسی اور ملک کا بڑا معاشی نقصان کرا دیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*