کرشن چندر کی گدھاسیریز-توصیف خان

ہر زمانے میں گدھے کی عظمت کا طرح طرح سے اعتراف کیا گیا، کبھی یہ پیغمبروں کی سواری بنا، کبھی انسانوں کا بوجھ اٹھایا، کسی پارٹی کے انتخابی نشان کے طور پر پہچانا گایا، کبھی سیاسی جلسوں میں ڈسکس ہوا، ہمارے ہاں گدھا محض بوجھ اٹھانے والا جانور ہی نہیں ایک قابل قدر جنگی ہیرو بھی ہے جس کی خدمات کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور اس کے مزار پر عرس تک ہوتے ہیں، اردو زبان کے دسیوں محاورے موصوف کے نام سے موسوم ہیں، آج صنعتی اور سائنسی ترقی کے بعد بھی انسانی معاشرے سے گدھے کی ضرورت ختم نہ ہوسکی۔ پچھلے دنوں خبر آئی کہ چین میں گدھوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے کم ہو کر صرف ساٹھ لاکھ رہ گئی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چین نے دوسرے ممالک کی طرف رجوع کرنا شروع کردیا ہے۔ گدھے کی کھال سے نکالے جانے والے عرق سے تیار شدہ دوا کی چین میں بہت مانگ ہے۔ دروغ برگردن راوی، اب تو گدھا خوری بھی عام ہورہی ہے، چنانچہ مراداباد کی بریانی اور کراچی کی قورمے میں گدھے کا گوشت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، گدھا خوری کے تعلق سے ایک قطعہ سنتے چلئے:
خر شناسی تھی بے مثال ان کی
مولوی جی نے کیا کمال کیا
بوٹیاں ساری کھا کے یہ پوچھا
کس گدھے نے گدھا حلال کیا
اس عظیم جانور کے ساتھ یہ سلوک قابل مذمت ہے کیونکہ امریکہ میں تو ڈیموکریٹک پارٹی کا انتخابی نشان ہی گدھا ہے، اورہمارے کرشن چندر جی نے تو اسے دھوبی گھاٹ سے نکال کر ایوان تک پہنچا دیا۔ ایک طرح سے یہ گدھے کی عظمت کا اعتراف ہے اور کیوں نہ ہو، آخر محنت میں عظمت ہوتی ہے اور گدھے سے زیادہ جانفشانی کا دعویٰ کون کر سکتا ہے۔ تاہم منٹو کے ہم عصر ، ترقی پسند تحریک سے وا بستہ ممتاز افسانہ نگار۔شدید رومانوی اور سماجی حقیقتوں کی کہانیاں لکھنے کے لیے معروف کرشن چندر نے سلسلہ وار تین ناول لکھے جن میں گدھا لیڈ رول میں ہے۔ یہ ناول اپنے زمانے میں بہت مشہور ہوئے،یہ سیریز "شمع” سے شروع ہوئی،جہاں یہ قسط وار شایع ہوتے تھے، قسطوں کی بڑھتی مقبولیت اور قارئین کے اصرار نے کرشن چندر سے تین ناول لکھوا ڈالے۔ اس سلسلے کا پہلا ناول "ایک گدھے کی سرگزشت” ہے۔
یہ ناول "شمع” کی قسطوں سے نکل کر پہلی بار ۱۹۵۷ میں کتابی صورت میں نمودار ہوا، ہندوساتنی معاشرے پر یہ ایک طنزیہ ناول ہے، اس ناول کا مرکزی کردار ایک گدھا ہے جو انسانوں کی طرح بات کرتا ہے، لکھنا پڑھنا بھی جانتا ہے، اور کافی باشعور ہے، یہ کسی طرح راجدھانی دہلی آتا ہے، وزیر اعظم سے ملاقات کرتا ہے، ایوان تک رسائی بھی مل جاتی ہے، اور اس طرح ہر طرف لوگ اس کی عزت کرنے لگتے ہیں، مگر جب لوگوں کو سچائی کا پتا چلتا ہے تو پھر اس کے ساتھ وہی گدھوں والا سلوک شروع کردیتے ہیں، یہ اصلا بارہ بنکی کا رہنے والا ہے، جہاں کے گدھے بہت مشہور ہیں، بارہ بنکی کا یہ گدھا راست گوئی، بے باکی، ایمانداری اور سادہ لوحی کا مظہر ہے، اور جیسا کہ جگ ظاہر ہے کہ ان اوصاف کے حامل شخص کو کچھ اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا، اس بیچارے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے، ناول کا اختتام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابھی دنیا میں سچ برداشت کرنے کی طاقت نہیں پیدا ہوسکی ہے۔ اس ناول میں دفتری زندگی کی بہت سچی عکاسی کی گئی ہے، انگریزی میں بات کرنے پر مرعوب ہوجانا، ہاتھوں میں نوٹ دیکھ کر بچھ جانا، اور سیدھے سادے غریب آدمی کو منہ تک نہ لگانا، فائل گردان کروانا، یہ سب ہماری دفتری چونچلے بازیاں ہیں، رامو دھوبی کے مرنے کے بعد جو دفتری چکر بازی شروع ہوتی ہے تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی، یہاں مصنف نے ہمارے دفتری نظام اور ان کے چلانے والوں پر طنز کا نمکین تڑکہ لگایا ہے۔ یہ ناول کرشن چندر کے طنزیہ و مزاحیہ اسلوب کا بہترین شاہکار ہے۔
جب "ایک گدھے کی سرگزشت” ختم ہو گئی تو لوگوں کا اصرار ہوا کہ اس کو مزید آگے بڑھایا جائے۔ لوگوں کی گزارش کو دھیان میں رکھتے ہوئے کرشن چندر نے "گدھے کی واپسی” کے عنوان سے ایک نیا ناول تحریر کیا۔ پچھلے ناول میں سچائی جاننے کے بعد گدھے کو لوگ مارتے پیٹتے ہیں، وہ اپنی مرہم پٹی کے لئے ایک ہاسپٹل میں داخل ہوجاتا ہے، اب اس ناول میں پاسپٹل سے "گدھے کی واپسی” ہوتی ہے، گدھا ہاسپٹل سے نکل کر گھیسو گھسیارے کی نوکری کرنے لگتا ہے، پھر وہاں سے جوزف اسے خرید کرشراب کی اسمنگلنگ کے لئے استعمال کرتا ہے، اب وہ پھر ایک عام گدھا ہے، وہی زور زبردستی، وہی استحصال۔ لیکن کسی طرح سٹے وٹے میں تین لاکھ روپئے کما کر یہ ایک فلم پروڈیوسر بن بیٹھتا ہے، جہاں وہی فلمی دنیا والے راگ شروع ہوجاتے ہیں، چمک دمک، کھوکھلی، دکھاوے کی زندگی، حتی کہ ایک ہیروئن موصوف سے عشق بھی فرمانے لگتی ہیں، مگر جیسے ہی جیب خالی ہوتی ہے اور ستارۂ اقبال گردش میں آتا ہے، وہی پرانی پھٹکاروں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح کرشن چندر کا یہ گدھا مختلف طبقوں کو آئینہ دکھاتا ہوا ایک کسان کے ہمراہ پونے روانہ ہوجاتا ہے، ناول یہیں ختم ہوجاتا ہے۔ ناول کی پوری جان کرشن چندر کے اسلوب پر ٹکی ہوئی ہے۔ ناول کے بعض مکالمے تو اتنے مزیدار ہیں، مکالمے کیا پنچ لائنیں ہیں جن کو بار بار دہرانے کا من کرتا ہے۔
"ایک گدھا نیفا میں”ـ یہ گدھا سلسلے کا تیسرا ناول ہے، یہ بھی ہمارے معاشرے پر طنزیہ تیر برساتا ہے، اس ناول کا گدھا بھی مخلتلف مراحل سے گزرتا ہواـ فلم ڈائریکٹر کے ساتھ شوٹنگ کے لئے نیفا کے جنگلوں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں ان دنوں ہندوستان اور چین کی جنگ چھڑ جاتی ہے، اس بیچارے کو پوری فلم یونٹ چھوڑ کر روانگی کا راستہ طے کرتی ہے، وہاں کسی طرح موصوف کو چینی وزیر اعظم سے نہ صرف گفتگو کا موقع ملتا ہے بلکہ وہ ہندوستان اور چین کے باہمی مسائل پر گفتگو بھی کرتا ہے، ناول کا یہ حصہ خاص اہمیت کا حامل ہے، جہاں کرشن چندر نے حالات و مسائل کا بہت خوبصورتی سے جائزہ لیتے ہوئے اپنی عمدہ سیاسی بصیرت کا اظہار کیا ہے۔ان تینوں ناولوں میں کرشن چندر کا شگفتہ اور دلکش طنزیہ اسلوب تحریر پوری طرح نکھر کر سامنے آیا ہے۔ ویسے اردو ادب میں کرشن چندر کی شخصیت بڑی پہلودارہے، نثر کی تقریبا تمام اصناف میں طبع آزائی کی،بہت کچھ لکھا اور سبھی میں کامیاب بھی ہوئے، البتہ شاعری کی طرف توجہ نہیں دی، لیکن سردار جعفری نے انہیں شاعری کا سرٹیفیکٹ دیتے ہوئے فرمایا "کرشن چندر نثر میں شاعری کرتے ہیں”، جس کے تمام لہجے اور اسلوب پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ریختہ ای۔ لائبریری میں کرشن چندر کے ذخیرۂ تخلیقات میں سے چند اہم کتابیں موجود ہیں۔ اہلِ ذوق استفادہ کر سکتے ہیں ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)