کیجریوال نے لوگوں سے پوچھا:کیا 17 مئی کے بعد لاک ڈاؤن میں ڈھیل دی جانی چاہیے؟

نئی دہلی:کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سمیت تمام مسائل کو لے کر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پریس کانفرنس کیا۔ انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن 17 مئی تک ہے۔حالانکہ وزیر اعظم جی نے اس پر بحث کی تھی۔وزیر اعظم نے پوچھا کہ کون سا صوبہ کیا چاہتا ہے؟وزیر اعظم نے کہا کہ 15 تاریخ تک اپنی اپنی تجاویز بھیج دیجئے اور ان تجاویز پر پھر مرکزی حکومت فیصلہ لے گی۔میں آج دہلی کے لوگوں سے تجاویز مانگنا چاہتا ہوں۔17 مئی کے بعد کیا ہونا چاہئے؟ کیا لاک ڈاؤن میں رعایت دی جانی چاہئے؟ اگر دی جانی چاہئے تو کتنی اور کس علاقے میں کتنی کتنی دی جانی چاہئے؟دہلی کے وزیر اعلی نے یہ بھی کہاکہ کیا آٹو ٹیکسی چالو ہونے چاہئے؟ کیا اسکول، مارکیٹ اور انڈسٹریل ایریا کھولنے چاہئے؟ ظاہر سی بات ہے کہ سوشل ڈسٹیسنگ پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔سب کے لئے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔کل شام 5:00 بجے تک اپنی تجاویز مجھے بھیج دیجئے۔میں عوام کی تجاویز بھی لے رہا ہوں۔ایکسپرٹ سے بات کروں گا۔ڈاکٹر سے بھی بات کروں گا اور جتنے بہتر تجاویز آئیں گی ان کوڈاکٹر اور ایکسپرٹ سے بات کرکے ہم دہلی والوں کی جانب سے ایک تجویز بنا کر مرکز کو بھیج دیں گے۔پرسوں تک ہم اپنی تجویز مرکزی حکومت کو بھیج دیں گے۔سی ایم کیجریوال نے مزید کہاکہ میونسپل کے اسکول میں ایک ٹیچر تھی، ان کی خدمت کرتے کرتے کورونا وائرس سے موت ہوگئی۔ وہ کنٹراکٹ پر تھیں اور ان کی ڈیوٹی لگی تھی کہ غریبوں کے لئے جو دہلی حکومت کھانا تقسیم کررہی ہے اس کو غریبوں کو تقسیم کرے۔4 مئی کو ان کا انتقال ہو گیا۔کھانا تقسیم کرتے وقت ان کو بھی کورونا وائر س ہو گیا۔ ان کے خاندان کو دہلی حکومت ایک کروڑ روپے دے گی۔ہمیں ایسے لوگوں پر فخر ہے۔انہوں نے کہاکہ دہلی میں بہت سارے تعمیراتی کام کرنے والے مزدور ہیں۔گزشتہ ماہ ہم نے 10 نامزد مزدوروں کے اکاؤنٹ میں 5000 ڈالے تھے اس مہینے دوبارہ 5000 ان کے اکاؤنٹس میں ڈال رہے ہیں۔