خطوطِ شبلی بنام خواتینِ فیضی: شبلی شناسی میں ایک اہم اضافہ ـ شکیل رشید

عطیہ بیگم فیضی کے لیے شبلی نعمانی کا رومال! شاید لوگ یقین نہ کریں،پر یہ حقیقت ہے کہ علامہ شبلی نعمانی نے چکن کے کام کا ایک ایسا رومال تیار کرایا تھا جس پر عطیہ نام کاڑھا گیا تھا! یہ سنی سنائی بات نہیں ہے ، خود علامہ شبلی نے زہرا بیگم کے نام ، جو عطیہ کی بڑی بہن تھیں، ایک خط میں اس کا ذکر کیا ہے ۔علامہ لکھتے ہیں ’’ میں نے ایک ہلکا سا رومال چکن کے کام کا جس پر عطیہ کا نام کاڑھا گیا ہے، تیار کرایا ہے۔چاہتا ہوں کہ ان کے پاس بھیجوں ،کس کے پتے سے بھیجوں؟‘‘۔خط سے، عطیہ بیگم فیضی کو کاڑھا ہوا رومال بھیجنے کے لیے ،علامہ شبلی کی بے قراری کو محسوس کر کے ،قارئین بدگمان ہو سکتے ہیں کہ مولانا محترم عطیہ بیگم سے عشق فرماتے تھے !عطیہ کے نام ،بلکہ فیضی خاندان کی خواتین کے نام علامہ شبلی نعمانی نے جو خطوط لکھے ہیں،انہیں پڑھ کر بدگمانی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ان خطوط میں علامہ نے عطیہ کا ذکر بڑی ہی محبت سے کیا ہے ،یوں جیسے ان کی عطیہ سے بہت ہی زیادہ قربت رہی ہو۔ لیکن بات عشق کی نہیںتھی، علامہ دراصل عطیہ کی ذہانت سے متاثر تھے ،اور اس قدر متاثر تھے کہ ان سے ملنے کا یا ان سے رابطے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۔ عطیہ کے نام بھیجے گیے چند خطوط کے اقتباسات ملاحظہ کریں؛
’’ عطیہ بیگم! مجھ کو معلوم نہیںکہ اب کب ملنے کا اتفاق ہو سکتا ہے، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ اگر یہ موقع پھر ملا تو میں چاہوں گا کہ میں تمہاری کچھ علمی خدمت کرسکوں۔۔‘‘
’’ میرا ارادہ اور قطعی ارادہ تھا کہ میں تمہاری روانگی کے وقت بمبئی میں موجود رہوں گا اور تم کو خدا حافظ کہہ سکوںگا ، لیکن پھر خیال آیاا ور غالباً نہ آسکوں گا ۔کسی عزیز اور دوست کی رخصت کے وقت کا میںتحمل نہیں کر سکتا۔۔‘‘
’’ تمہارا خط جو مدت کے بعد ملا تو بے ساختہ میں نے آنکھوں سے لگایا اور دیر تک بار بار پڑھتا رہا،افسوس دیر تک ملنے کی امید نہیں۔۔‘‘
لیکن ان خطوط میں صرف ’ملنے یا نہ ملنے‘ کی باتیں ہی نہیں ہیں،ان میں علم کا ایک دریا بہتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی کی شخصیت کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جو لوگوں کو چونکاسکتا ہے۔ مثلاً ایک خط میں وہ عطیہ سے کہتے ہیں؛’’ میںچاہتا ہوںکہ آپ ان مشہور عورتوںکی طرح اسپیکر اور لیکچرار بن جائیں جو انگریز اور پارسی قوم میں ممتاز ہو چکی ہیں،لیکن اردو میں تاکہ ہم لوگ بھی سمجھ سکیں۔‘‘ ایک خط میں لکھتے ہیں؛ ’’نصابِ تعلیم کے متعلق میں سرے (سے) اس کا مخالف ہوں کہ عورتوں کے لیے الگ نصاب ہو۔ یہ ایک اصولی غلطی ہے، جس میں یورپ بھی مبتلا ہو رہا ہے۔ کوشش ہونی چاہیے کہ ان دونوں صنفوں میں جو فاصلہ پیدا ہو گیا ہے وہ کم ہوتا جائے نہ کہ بڑھتا جائے اور بات چیت، رفتار و گفتار،نشست برخاست، مذاقِ بیان سب الگ ہو جائیں۔ یوں تفرقہ بڑھتا رہا تو دونوں مختلف نوع ہو جائیں گے۔‘‘علامہ نے ان خطوط میں زبان کی باریکیوں پر بھی بات کی ہے اور ہندو فرقہ پرستی پر بھی۔ایک خط میں وہ لکھتے ہیں؛ ’’ہندو جو اپنی لغویات (ہستیالوجی) کو زندہ کر رہے ہیں ، تو یہ ایک پولٹیکل تدبیر ہے۔ عام پبلک کی کشش ان ہی چیزوں سے پیدا ہو سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ ہندو گائے کا گوشت کھاتا ہے ، لیکن گاؤکشی کے مسئلے پر جان دینے کو آمادہ ہے۔ مسلمانوں پر افسوس ہے کہ نہ تو نئی عمدہ باتوں کو اختیار کرتے ہیں ،نہ پرانی سے کام لیتے ہیں۔‘‘ ان خطوط کو پڑھ کر جہاں علامہ کے وسیع المطالعہ ہونے کا اندازہ ہوتا ہے وہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ علامہ اپنے دور سے کہیں آگے کی شخصیت تھے ، روشن خیال اور خواتین کے تئیںتعصبات سے عاری ذہن رکھتے تھے۔
خطوط پر اتنی بات ہو گئی پڑھنے والے سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کس کتاب کا ذکر ہے! تو تجسس دور کر لیا جائے ۔ حال ہی میں ڈاکٹر شمس بدایونی نے ’’ خطوطِ شبلی بنام خواتینِ فیضی‘‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب اور تدوین کی ہے ، خطوط کےیہ دلچسپ اقتباسات اسی کتاب سے لیے گیے ہیں۔ بتاتے چلیں کہ ڈاکٹر شمس بدایونی اردو دنیا کے ایک بڑ ے اسکالر، نقاد اور محقق ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کی اردو زبان و ادب کی مختلف اصناف اور مختلف موضوعات پر دو درجن سے زیادہ کتابیں ہیں ۔ علامہ شبلی نعمانی پر ان کی حیثیت ایک اتھارٹی کی ہے۔ اس کتاب سے قبل علامہ کی حیات و خدمات پر ان کی کئی کتابیں آ ئی ہیں، جن میں ’’ شبلی اور آزاد ‘‘ اور ’’ شبلی کی ادبی اور فکری جہات ‘‘ بڑی اہم ہیں۔ ساہتیہ اکیڈمی سے علامہ شبلی نعمانی کے خطوط کا یہی مجموعہ 2017میں شائع ہوا تھا ، لیکن افسوس کہ اس پر مرتب کی حیثیت سے ڈاکٹر شمس بدایونی کا نام نہیں تھا ! یہ بڑی بددیانتی تھی ، لیکن کیا کیا جائے کہ بڑے اداروں میں جو احباب بیٹھے ہوئے ہیں وہ بار بار بددیانتی کے مرتکب ہوتے ہیں، اور محفوظ بھی رہتے ہیں ! اب یہ کتاب نئی صورت میں آئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے’ ابتدائیہ‘ میں لکھا ہے ؛’’پیش نظر اشاعت کی عبارتوں میں کہیں کہیں مختصر تبدیلی اور بعض جگہ اضافے بھی کیے گیے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ کتاب سا ہتیہ اکیڈمی ،دہلی کی اشاعت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مفید اورجامع ہو گئی ہے۔ کتاب پہلی با ر 1926میں بھوپال سے، دوسری بار 1935میں لاہور سے اور تیسری بار بھی لاہور سے ہی شائع ہوئی تھی، یہ ایڈیشن ڈاکٹر صاحب کو دستیاب نہیں ہو سکا، نیٹ پر اس کا سرورق موجود ہے۔ چوتھا ایڈیشن وہ ہے جو ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی نے شائع کیا تھا۔ اور یہ پانچواں ایڈشن ہے جو 2020میں شائع ہوا ہے۔کتاب کے مولف امین زبیری ہیں ۔ ڈاکٹر شمس بدایونی نے ’’ تقدیم ‘‘ میں کتاب کا تعارف کراتے ہوئے ان کا تعارف بھی کرایا ہے۔یہ مارہرہ کے رہنے والے تھے اور قیامِ پاکستان کے بعد کراچی چلے گیے تھے ، ان کے قلم سے اتنی کتابیں نکلی ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے بقول ؛’’ یہ کتب تقریباً 4700صفحات پر مشتمل ہوں گی۔‘‘ انہین شبلی کے محسن دوستوں میں شمار کیا جاتا ہے ،شبلی پر ان کی تین کتابیں ہیں،ایک تو یہی مجموعہ خطوط، دوسری کتاب ’ذکرِ شبلی‘ اور تیسری کتاب ’ شبلی کی رنگین زندگی‘ ۔ ڈاکٹر صاحب نے دلیلوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ امین زبیری کا ان خطوط کی اشاعت سے ابتدا میں مقصد شبلی کو بدنام کرنا نہیں تھا ، لیکن بعد میں انہوں نے شبلی کو نشانۂ ملامت بنانے کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا تھا۔ یہ مشن کیوں تھا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امین زبیری ’ سرسید تحریک ‘ سے متاثر تھے اور سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب ’ حیاتِ شبلی ‘ میں سرسید اور علی گڑھ کی کہیں کہیں تخفیف کی تھی ، لہٰذا سرسید کے دیگر عقیدت مند وں کی طرح وہ بھی کبیدہ خاطر تھے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ؛’’ اس دوران عطیہ بیگم فیضی کو بھی آں موصوف کی جانب سے یہ باور کرایا گیا کہ ’ شبلی غائبانہ آپ سے عشق فرماتے تھے اور اپنے خاص دوستوں سے آپ کے چرچے کرتے تھے؛دراصل وہ آپ سے شادی کے خواہش مند تھے۔۔۔‘(صفائی میں) عطیہ کا ایک مضمون ’ مولانا شبلی اور خاندانِ فیضی ‘ انہی دنوں ماہنامہ ’ادبی دنیا ‘ لاہور میں شائع ہوا ، جس کا اختتام اس عبارت پر ہوا:’ میں محمد امین زبیری کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہماری پوزیشن کو ’ تبصرۂ حیاتِ شبلی‘ میں بیان کر کے صاف کر دیا اوردنیا کو اصل حقیقت بتا دی۔ واقعی سعدی کا یہ قطعہ کس قدر صداقت پر مبنی ہے کہ انسان کے علم کا اندازہ تو ایک دن میں ہو جاتا ہے ، لیکن نفس کی خباثت برسوں میں بھی نہیں معلوم ہوتی، اور ہم بھی اسی علم و لا علمی میں رہے۔،‘‘ڈاکٹر صاحب نے ’تقدیم‘ میں اس پورے ہنگامے پر بڑی تفصیلی بات کی ہے ۔ ’تقدیم‘ میں مولوی عبدالحق کے اس ’ مقدمہ ‘ پر بھی ،جو کتاب میں شامل ہے، روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ڈ اکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ اس ’ مقدمہ‘ سے قبل بھی ’ نقاد ‘ کے فرضی نام سے عبدالحق نے شبلی کی مخالفت میں مضمون لکھا تھا ۔ ’ مقدمہ‘ میں مخالفت کھلی ہوئی تو نہیں ہے مگر ڈاکٹر صاحب کے مطابق ؛ ’’مولوی عبدالحق نے خطوط شبلی کے مقدمہ کو اس طور مرتب کیا گویا وہ شبلی کی داستانِ محبت قلم بند کر رہے ہوں ۔‘‘ ’تقدیم ‘ میں ڈاکٹر صاحب نے بڑےہی دلچسپ پیرائے میں ’ شبلی شکنی کی روایت ‘ کا تذکرہ کیا ہے اور بڑے بڑے ادیبوں نے علامہ شبلی نعمانی کو بدنام کرنے کے لیے جو ’ کارنامے‘ کیے ،وہ اجاگر کر دیئے ہیں۔ بدایونی صاحب بتاتے ہیں ’’ مولانا عبدالماجد دریابادی نے انہیں ( مولوی عبدالحق )شبلی کا باغی شاگرد لکھا ہے۔‘‘ پتہ چلتا ہے کہ عبدالحق ،شبلی کی زندگی ہی میں ان کے خلاف لکھتے لکھاتےرہتے تھے۔امین زبیری کی کتاب کا عبدالحق نے جو ’ مقدمہ‘ لکھا ہے ، وہ بلاشبہ بلند پایہ ہے ، لیکن اسے پڑھ کر یہ احساس واقعی ہوتا ہے کہ جیسے یہ ’’ شبلی کی داستانِ محبت ‘‘ہے۔ امین زبیری کے دونوں اشاعتوںکے دیباچے بھی اس کتاب میں شامل ہیں،ان میں پہلے دیباچے میں اس تنازعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے بس علامہ کی تعریف ہے لیکن دوسرے دیباچے میں علامہ کی تعریف کے ساتھ اس تنازعہ پر امین زبیری نے صفائی پیش کی ہے ، وہ لکھتے ہیں؛ ’’ بعض لوگوںنے مولف سیرۃالنبی ﷺکے ساتھ ان خطوط کی نسبت کو ناپسند کیا، بعض نے ان کی اشاعت کو اس عقیدت و نیازمندی کے خلاف جاناجو راقم کو مولانا مرحوم کی ذاتِ گرامی کے ساتھ ہے ۔بعض نے مولوی عبدالحق صاحب کے مقدمہ میں متعصبانہ جھلک دیکھی جو خود ان کے اپنے خیالات نے پیدا کر دی ؛ حالانکہ مقدمہ تو ایک بہترین ادبی تبصرہ ہے ،لیکن یہ سب توہمات اور اپنے نفوس کے قیاسات تھے اور اپنی طبیعت کا رنگ۔ان سب کا جواب انہی خطوط میں ہے۔اگر ناظرین ان کو غور سے پڑھیں گے اور راقم نے اس دیباچے کے آغاز میں مولانا کے جذبات وغیرہ کی نسبت جو کچھ لکھا ہے ، اسے مطالعہ فرمائیں گے تو ان کو اپنے خیالات پر خود ہنسی آئے گی ۔‘‘
کتاب کے بیک کور پر کتاب کے تعلق سے مرحوم شمس الرحمن فاروقی کی رائے پیش کی گئی ہے ، وہ لکھتے ہیں ؛’’ میرا خیال ہے شبلی اور خاندان جنجیرہ کی خواتین سے روابط اور ان کی ’اصل حقیقت‘پر آپ سے زیادہ منصفانہ اور معروضی انداز میںکسی نے نہیں لکھا۔‘‘ فاروقی صاحب خطوط پر اٹھے تنازعہ پر بھی اپنی بات رکھتے ہیں؛’’اگر ان (شبلی)کو عطیہ اور زہرا میں ایسی عورتیں نظر آئیںجو ان کے تمام معیاروں پر پوری اترتی تھیںتو اس میںکیا برائی ہے؟ اگر وہ عطیہ سے متاثر ہو گیے تو کیا گناہ ہوا؟اور اگر عطیہ ان سے شادی بھی کر لیتیںتو کیا عیب تھا؟اب یہ اور بات ہے کہ مدتوں بعد عطیہ نے ان باتوںسے برأت چاہی اور کہا کہ ہم تو ان کو صرف ایک شریف مولوی اور اسلامی عالم سمجھتے اور اسی حیثیت میں ان سے ملتے تھے اور ہمیں کیا معلوم کہ ان کے دل میںکیا (خبث؟)تھا ،تو ٹھیک ہے ۔امین زبیری نے کیچڑ اچھالی تو اس کا جواب عطیہ سے نہیں بن پڑا ،یہ ان کی کمزوری تھی۔‘‘
ڈاکٹر شمس بدایونی نے اس کتاب کو مرتب کرنے اور اس کی تدوین میں بڑی محنت کی ہے، انہوں نے ’ خطوطِ شبلی ‘ کے طبع اول و دوم کے متن کے لفظی اختلاف پر بھی توجہ دی ہے اور خطوط کی تاریخی و زمانی ترتیب پر بھی۔ اس کتاب میں خواتینِ فیضی کے نام مجموعی خطوط کی تعداد 103 ہے ۔ عطیہ بیگم فیضی کے نام 55خطوط ہیں، 47خطوط ان کی بڑی بہن زہرا بیگم فیضی کے نام اور ایک خط سب سے چھوٹی بہن نازلی رفیعہ سلطان کے نام ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ’ تقدیم ‘ میں تینوں بہنوں کے کوائف بھی شامل کر دیئے ہیں ، جو دلچسپ بھی ہیں اور بھرپور بھی۔ محمد امین زبیری اور ان کی کتاب کے مرتب سید محمدیوسف قیصر کو حالاتِ زندگی بھی شامل کتاب ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے بڑی محنت اور مشقت سے حواشی تحریر کیے ہیں ،یہ حواشی بلاشبہ ایک کارنامہ ہیں کہ یہ شبلی کو بھی ،ان کے دور کے حالات کو بھی اور شخصیات کو بھی سمجھنے میں بڑی مدد دیتے ہیں۔ کتاب میں ’کتابیات‘ کے ساتھ ’اشاریہ ‘بھی ہے ۔ آخر میں 27صفحات میں شبلی اور ان کے متعلقین کی، بشمول فیضی خواہران اور ان کے خاندان اور شبلی پر تحریر کتابوں کی تصاویر شامل ہیں۔ڈاکٹر شمس بدایونی نے اس کتاب کو مرتب کرکے اور اس کی تدوین کر کے شبلی کے چاہنے والوں پر ایک احسان کیا ہے ،اس احسان کے بدلے شبلی نوازوں کو ،اور ادب نوازوں کو بھی،چاہیے کہ یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لیں۔
کتاب 258صفحات اور 300 روپئے کی ہے ،اسے اپلائڈبکس، نئی دہلی (011-23266347)نے بہت خوبصورت انداز سے شائع کیا ہے۔