خوش رہو،خوش رکھو ـ محی الدین غازی

مسجد کے امام صاحب کی اس کے دل میں بہت قدر تھی، وہ نماز میں پُر سوز تلاوت کرتے اور جمعہ کے خطبے میں زندگی کے عملی مسائل پر بات کیا کرتے۔ قرآن و سنت پر ان کی گہری نظر تھی، اور ان کی کوشش یہ ہوتی کہ جمعہ کے ہر خطبے میں زندگی کے کسی ایک مسئلے کے بارے میں دین کی تعلیمات کھول کھول کر بتادیں۔ ان کا خطبہ سننے دور دور سے لوگ آتے، وہ بھی بڑی توجہ سے ان کا خطبہ سنتا۔
آج خطبے میں انھوں نے ایک حدیث سنائی اور اس حدیث کے عملی تقاضے بتائے۔ حدیث کا مفہوم یہ تھا کہ تم میں سے ہر ایک ذمے دار ہے اور ہر ایک اپنی رعایا کے سلسلے میں جواب دہ ہے۔ مرد اپنے گھر والوں کا ذمے دار ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے۔ آج کا خطبہ اس نے کچھ زیادہ ہی توجہ سے سنا کیوں کہ اسی مہینے اس کی شادی ہونے والی تھی۔ نماز کے بعد وہ امام صاحب کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور سلام کیا۔ امام صاحب کا معمول تھا کہ وہ نماز بعد کچھ دیر بیٹھتے اور کسی کے ذہن میں خطبے سے متعلق کوئی سوال ہوتا تو اس کا جواب دیتے۔
اس نے امام صاحب سے کہا، حضرت اس ماہ میری شادی ہونے والی ہے، آپ کے خطبے سے معلوم ہوا کہ شادی کے بعد انسان کی ذمے داری بہت بڑھ جاتی ہے اور وہ اپنے گھر والوں کے سلسلے میں جواب دہ ہوجاتا ہے۔ مجھے مشورہ دیجیے کہ اس ذمے داری کے تقاضے ادا کرنے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے۔
امام صاحب نے تھوڑی دیر کے لیے سر جھکالیا ایسا لگا کہ وہ کسی گہری سوچ میں گم ہیں، اس کے بعد انھوں نے سر اٹھایا، ان کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے کوئی بہت خاص بات بتانے والے ہوں، انھوں نے کہا: سمجھ داری اور اخلاق۔ ان دونوں چیزوں کا ساتھ رہے تو گھر کی ذمے داری کو بڑی خوبی سے انجام دیا جاسکتا ہے۔ گھر میں پیدا ہونے والے بہت سے مسائل نا سمجھی اور بد اخلاقی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور بہت سے مسائل سمجھ داری اور اعلی اخلاق کے ذریعے ختم کیے جاسکتے ہیں۔ اپنے سلسلے میں کوشش کرو کہ زیادہ سے زیادہ سمجھ داری اور اخلاق سے کام لو۔ اپنے گھر والوں کی سمجھ داری اور اخلاق کی سطح اونچی کرنے کی کوشش بھی کرتے رہو۔
پہلے تو اسے لگا کہ امام صاحب نے اسے کوئی خاص بات نہیں بتائی ہے۔ وہ تو سوچ رہا تھا کہ وہ اسے تفصیل سے بہت سی باتوں کی نصیحت کریں گے۔ وہ یہی سوچتا ہوا گھر آگیا۔ گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسے محسوس ہوا کہ امام صاحب کی چھوٹی سی بات گھر کے کونے کونے سے سنائی دے رہی ہے۔ وہ جدھر دیکھتا اور جس معاملے پر غور کرتا اسے وہ بات یاد آجاتی۔
اس کے ابا اور بڑے بھائی صاحب پریشان سے لگ رہے تھے، ایک ہزار آدمیوں کو ولیمے کی دعوت دی تھی وہ بھی شہر کے مہنگے شادی ہال میں، کھانے کا مینو زمانے کے شایان شان، خرچ بہت زیادہ، آج کل قرض کون دیتا ہے، بینک سے لون لینے کی بات چل رہی تھی۔ اس کو امام صاحب کی بات یاد آگئی، اس نے سوچا یہ سب کچھ سمجھ داری کا کام تو نہیں ہے۔ ولیمہ کم افراد کے ساتھ سادگی اور بے تکلفی سے بھی تو ہوسکتا ہے، جتنی بساط ہو اتنا ہی خرچ کیا جائے، اپنے اوپر غیر ضروری بوجھ نہ لادا جائے، یہ تو کامن سینس کی بات ہے پھر لوگوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔ تبھی اسے لڑکی کے گھر کا خیال آیا، انھیں بھی تو کافی انتظامات کرنے پڑیں گے، تین سو میل دور سو آدمیوں کی بارات جائے گی، ان کے لیے پرتکلف انتظامات اور مہنگے ہوٹل میں قیام وطعام۔ پھر جہیز جوڑے اور زیورات لاکھوں روپے خرچ ہوجائیں گے۔ یہ صحیح ہے کہ ہم نے مطالبہ نہیں کیا، مگر ہم نے منع بھی تو نہیں کیا ہے۔ زمانے اور رواج کی پکار تو ان کے کانوں میں پڑتی ہی ہوگی۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا اخلاق کا تقاضا یہ نہیں تھا کہ شادی کے ان تکلفات کا غیر ضروری بوجھ نہ اپنے اوپر لادا جاتا اور نہ اپنے ہونے والے عزیزوں کے اوپر ڈالا جاتا۔ آخر ایک آسان عمل اور سادہ تقریب کو ہم نے اتنا مشکل اور پییچیدہ کیوں بنالیا۔ اس نے گھر والوں کو بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن گھر کے چھوٹے بڑے مرد عورت سب کے سب کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ شادی کی تقریب کو دونوں خاندانوں کے لیے مشکل بنائے بغیر انھیں شادی سے خوشی حاصل نہیں ہوسکے گی۔
عشاء کی نماز کے بعد وہ مسجد میں امام صاحب کے پاس بیٹھ گیا، اور ان سے کہا حضرت آپ کئی مرتبہ جمعہ کے خطبوں میں بڑی تاکید کے ساتھ سمجھاچکے ہیں کہ شادی کی تقریبات پر فضول خرچی نہ کرو، سادگی سے شادی کرو، لیکن لوگ اس بات کو کیوں نہیں مانتے جس میں ان کے لیے آسانی بھی ہے، فائدہ بھی ہے اور برکت بھی ہے۔ امام صاحب نے کہا بیٹا رواج ایک سماجی عادت ہے، اور عادت کا بت بڑی مشکل سے ٹوٹتا ہے۔ عادت بھی عجیب چیز ہے، آدمی کو اگر مشکل طریقے سے کسی کام کو کرنے کی عادت پڑجائے اور اسے اسی کام کو کرنے کا آسان طریقہ بتایا جائے تو بھی وہ اس تبدیلی کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوتا ہے، یہی حال سماج کا بھی ہوتا ہے۔ مگر تم مایوس نہ ہو، جس حد تک کوشش کرسکو حکمت کے ساتھ کرتے رہو۔ اگر تمھارا موقف مضبوط ہے تو خود تمھیں بھی اپنے موقف کے لیے مضبوط ہونا چاہیے۔
رات میں وہ سونے کے لیے لیٹا تو نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ امام صاحب کی بات اس کے دماغ میں گردش کررہی تھی۔ اسے یاد آیا کہ اس کے بڑے بھائی صاحب اور بھابھی میں کچھ دن پہلے بہت لڑائی ہوئی تھی، جس کے بعد بھابھی ناراض ہوکر اپنے میکے چلی گئی تھیں۔ بات ذرا سی تھی، بھائی صاحب کے دوست آئے ہوئے تھے، ادھر بھابھی کے میکے سے فون آیا ہوا تھا، چائے بننے میں دیر ہوئی۔ دوستوں کے جانے کے بعد بھائی صاحب نے بھابھی کو سب کے سامنے ڈانٹ دیا، بس پھر کیا تھا بھابھی نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھالیا، بھائی صاحب بھی دہاڑتے رہے، گھر میں سوگ کا ماحول چھاگیا۔ ابا نے خاموشی مناسب سمجھی، امی اور بہن نے بیٹے کا ساتھ دیا، تو بھابھی کی ان سے بھی ٹھن گئی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر بھابھی نے فون تھوڑی دیر کے لیے رکھ دیا ہوتا تو کیا بگڑ جاتا، اور اگر وہ فون پر تھیں تو بہن یا امی نے کیوں نہیں چائے بنادی، اسے خیال آیا اگر وہ خود جاکر کے چائے بنادیتا تو اتنا بڑا ہنگامہ ٹل جاتا، مگر وہ تو مرد ہے وہ کچن کے کام کیوں کرے، لیکن پھر اس نے سوچا کہ وہ مرد ہے تو کچن کے کام کیوں نہیں کرے، پھر اگر چائے دیر سے بنی تو کیا اتنی بڑی غلطی تھی کہ بھائی صاحب نے سب کے سامنے ڈانٹ دیا، اور اگر ڈانٹ بھی دیا تو بھابھی خاموش کیوں نہیں رہیں، سوری کیوں نہیں کہہ دیا، ابا نے خاموشی کیوں اختیار کی، دونوں کو سمجھانے کی کوشش کیوں نہیں کی، امی اور بہن نے بھائی صاحب کا ساتھ کیوں دیا، اس کے ضمیر نے اسے ٹوکا کہ خود اس نے بھی تو ماحول کو خوش گوار بنانے اور دونوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ اسے امام صاحب کی بات یاد آگئی کہ گھر میں پیدا ہونے والے بہت سے مسائل نا سمجھی اور بد اخلاقی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور بہت سے مسائل سمجھ داری اور اعلی اخلاق کے ذریعے ختم کیے جاسکتے ہیں۔
اس نے گھر کے نظام پر غور کرنا شروع کیا، بھابھی ہر وقت کام میں لگی رہتی ہیں۔ امی اور بہن نے گھر کے زیادہ تر کام بھابھی پر کیوں ڈال رکھے ہیں، امی کی صحت تو ابھی ماشاء اللہ ٹھیک ہے کچھ کاموں میں ساتھ تو دے سکتی ہیں، صحیح ہے بہن گریجویشن کر رہی ہے اور روز روز اسائنمنٹ پورے کرنے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اتنا وقت تو ضرور ملتا ہے کہ بھابھی کا ہاتھ بٹادے، گھر کے کاموں سے بالکل الگ رہنا تو اچھی بات نہیں ہے، پھر اس نے سوچا کہ وہ خود بھی تو وقت نکال کر صبح اور شام گھر کے کچھ کام کرسکتا ہے، گھر میں جھاڑو لگاسکتا ہے، کپڑے اور برتن دھو سکتا ہے، دیواروں کے جالے صاف کرسکتا ہے، کپڑوں پر پریس کرسکتا ہے۔ پھر بھائی صاحب کو بھی بھابھی کے کچھ کاموں میں تو شریک ہونا چاہیے اس سے انھیں ضرور بہت اچھا لگے گا۔ یہ تفریق کہ بہو کام کرے اور ساس اور نند آرام کریں، یا عورتیں محنت کریں اور مرد عیش کریں صحیح نظام نہیں ہے، یہ تو سمجھ داری کے بھی خلاف ہے اور اخلاق کے بھی منافی ہے۔ کامن سنس کی بات تو یہ ہے کہ سب لوگ مل جل کر کام کریں۔ اس نے طے کیا کہ شادی کے بعد وہ گھر کے نظام کو بدلنے کی کوشش کرے گا، اگر کسی نے ساتھ نہیں دیا تو بھی وہ تو اپنی بیوی کے ساتھ گھر کے کاموں میں شریک رہے گا۔ ہوسکتا ہے اسے دیکھ کر گھر کے باقی لوگ بھی خود کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اس نے تصور میں دیکھا کہ وہ آفس سے آنے کے بعد اپنی چہیتی بیوی کے ساتھ کچن میں کام کررہا ہے، اسے بہت بھلا لگا۔ انھی خوب صورت خیالوں میں بہتے ہوئے وہ نیند کے جزیرے میں پہنچ گیا۔
اگلے دن چھٹی تھی اور وہ گھر پر ہی تھا، بھائی صاحب کے تین بچے تھے، اور وہ صبح سے نانیہال جانے کی ضد کررہے تھے۔ بھائی صاحب کی سسرال شہر کے دوسرے کنارے پر تھی۔ اس نے سوچنا شروع کردیا، بھابھی کی اپنی ساس اور نند سے ٹھنی رہتی ہے، اکثر کہا سنی بھی ہوجاتی ہے، اس کا بچوں کے ذہن پر کتنا برا اثر پڑتا ہے۔ بچے اپنے دادیہال والوں کو اپنی ماں کا دشمن سمجھتے ہیں اور نانیہال والوں کو اپنا ہم درد سمجھتے ہیں۔ اگر بڑوں میں تعلقات خوش گوار ہوں تو بچوں کے دل میں سب کے لیے محبت رہے گی۔ بھائی صاحب اپنا رعب جمانے کے لیے سارے گھر والوں پر اور خاص طور سے بھابھی پر دہاڑتے ہیں، اس کا بچوں کی نفسیات پر کتنا خراب اثر پڑتا ہوگا۔ کبھی بھابھی کو ناراضگی ہوتی ہے تو وہ بھی اپنا سارا غصہ بچوں پر اتار دیتی ہیں۔ اس دن بھی دونوں نے بچوں کے سامنے ہنگامہ کیا تھا، تینوں بچے سہمے ہوئے ایک طرف دبکے بیٹھے تھے۔ اگر بچوں کا خیال کرلیا جائے تو بڑوں کا رویہ کتنا درست ہوسکتا ہے۔ اسے امام صاحب کی بات یاد آگئی، سمجھ داری کی روشنی اور اخلاق کی خوشبو پھیلاکر بچوں کو گھر کے اندر بہت اچھا ماحول دیا جاسکتا ہے۔
آج ناشتہ بناتے ہوئے باتوں میں باتوں میں پھر بھابھی نے اپنا پرانا مطالبہ دہرادیا، کہ گھر میں چھوٹی بہو کے آنے کے بعد وہ الگ گھر میں منتقل ہونا چاہتی ہیں۔ اس کا گھر بہت کشادہ تھا، اس کے باوجود بھابھی کا کافی پہلے سے یہ مطالبہ تھا کہ انھیں الگ گھر میں رہنا ہے، اس گھر میں انھیں گھٹن ہوتی ہے، گھر کے سارے لوگ ان کے اس مطالبے سے ناخوش تھے، وہ سوچنے لگا کہ ان کی بات ایک طرح سے درست ہے، جب گھر میں کاموں کی صحیح تقسیم نہیں ہوگی، اور گھر کے افراد میں جذباتی ہم آہنگی نہیں رہے گی، بات بات پر روز جھگڑے ہوں گے تو کشادہ سے کشادہ گھر بھی تنگ قیدخانہ لگے گا، لوگ الگ الگ رہیں گے تو یہ روز روز کے جھگڑے تو نہیں ہوں گے، لیکن پھر اسے پڑوس کے گھر کا خیال آیا، اس گھر میں تو بس میاں بیوی اور ایک بچہ ہے، وہ لوگ دو سال پہلے اپنے بڑے گھر سے الگ ہوکر اس کے پڑوس میں آکر رہنے لگے تھے، لیکن ان کے یہاں بھی تو روز میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں، اور چیخ پکار کی آواز اس کے گھر تک سنائی دیتی ہے، کبھی شوہر طلاق دینے کی دھمکی دیتا ہے اور کبھی بیوی میکے جانے کی دھمکی دیتی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ساتھ رہنا اور الگ رہنا اصل مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ کی جڑ میں تو ناسمجھی اور بداخلاقی پائی جاتی ہے۔ لوگ مل جل کر جینے کا سلیقہ سیکھ لیں تو چھوٹی سی کٹیا میں بھی اچھی گزر بسر ہوسکتی ہے، نہیں سیکھیں تو عالیشان محل میں بھی قبر جیسی گھٹن اور تنگی رہتی ہے۔
گھر کی گھٹن کا خیال آیا تو اس نے سوچا کہ چھٹی کے دن اگر بھائی صاحب اور بھابھی کہیں گھومنے کے لیے چلے جایا کریں تو دونوں کے درمیان تعلقات میں خوش گواری بھی بڑھے اور گھر کی گھٹن سے تھوڑی دیر کے لیے سہی خلاصی بھی ملے۔ پھر اسے یاد آیا کہ کچھ مہینے پہلے دونوں اپنے بچوں کے ساتھ کسی تفریحی مقام پر گھومنے گئے تھے، لیکن جب واپس آئے تو دونوں کے منھ پھولے ہوئے تھے، بچوں نے بتایا کہ ہم لوگ پکنک کے مقام پر بیٹھے ناشتہ کررہے تھے، اتنے میں کسی پرانی بات کا ذکر آگیا، امی ابو میں اس بات کو لے کر تکرار شروع ہوگئی اور پھر دونوں کا موڈ خراب ہوگیا۔ موڈ صحیح ہونے میں کئی دن لگ گئے۔ وہ سوچنے لگا کہ جب تفریح کرنے گئے تھے تو پرانی باتوں کو ساتھ لے کر جانے کی کیا ضرورت تھی، صرف کامن سنس کو ساتھ لے گئے ہوتے۔ تفریح کے موقع پر تو بس تفریح کرنی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر مل جل کر جینا نہیں آتا ہے تو تفریح میں بھی ناراضگی کا بہانا نکل آتا ہے۔ اسے امام صاحب کی بات یاد آگئی کہ گھر میں پیدا ہونے والے بہت سے مسائل نا سمجھی اور بد اخلاقی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور بہت سے مسائل سمجھ داری اور اعلی اخلاق کے ذریعے ختم کیے جاسکتے ہیں۔
بھابھی کے الگ گھر کے مطالبے سے امی بہت ناراض بیٹھی تھیں، وہ امی کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور پوچھا امی جب آپ اس گھر میں بہو بن کر آئی تھیں تو آپ کو اپنی ساس اور نندوں سے کتنی زیادہ شکایتیں تھیں کچھ آپ کو یاد ہے، امی نے کہا بیٹا مت یاد دلا اس زمانے کو، تو تو جانتا ہی ہے کہ کتنی تکلیفوں میں میری زندگی گزری ہے۔ اب امید تھی کہ بہوویں آرام دیں گی، کتنے ارمانوں سے بڑی بہو کو لائی تھی، اس نے تو مایوس کردیا، اب دیکھنا ہے چھوٹی بہو آکر کیا گل کھلاتی ہے۔ اس نے کہا پیاری امی جن لوگوں نے آپ کو ستایا تھا آپ انھی کے راستے پر کیوں چل رہی ہیں ان سے الگ راستہ کیوں نہیں اختیار کرلیتیں، امی نے گھور کر دیکھا کیا مطلب ہے تیرا؟ تو کیا سمجھتا ہے ساری میری غلطی ہے؟ اس نے کہا نہیں میرا مطلب یہ نہیں ہے، میری پیاری امی، میں تو یہ سوچتا ہوں کہ دوسروں کے جس رویے سے آپ برسوں پریشان رہیں اس رویے سے آپ نے اتنی محبت کیوں کرلی کہ پھر اسی کو خود اختیار کرلیا، اس رویے سے تو آپ کو نفرت ہوجانی چاہیے تھی۔ امی سوچ میں گم ہوگئیں اور وہ امی کے پیر دبانے لگا۔ اسے یاد آیا کہ جب کبھی امی کی طبیعت خراب ہوتی اور ان کے سر میں درد ہوتا تو بھائی صاحب بھابھی سے امی کا سر دبانے کو کہتے، اور وہ ان کے حکم پر عمل کرتیں۔ اسے امام صاحب کا ایک خطبہ یاد آگیا جو انھوں نے والدین کی خدمت کے اوپر دیا تھا، انھوں نے تو قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ بتایا تھا کہ والدین کی خدمت اولاد کو کرنی چاہیے، لیکن جب سے بھائی صاحب کی شادی ہوئی ہے ابا اور امی کی خدمت کی ساری ذمہ داری بھابھی کے اوپر ڈال دی گئی ہے، بہن کے پاس تو پڑھائی کا سدا بہار بہانہ ہے۔ بھائی صاحب اکثر کہہ بھی دیتے ہیں کہ میں نے تو ابا امی کی خدمت کرنے کے لیے شادی کی ہے۔ خود اسے بھی ابھی یہ خیال آیا، اس سے پہلے تو وہ بھی یہی سمجھتا تھا کہ ابو امی کی خدمت کرنے کا کام بھابھی کا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بھائی صاحب سمجھتے ہوں کہ بھابھی سے والدین کی خدمت کراکے وہ ثواب کا کام کررہے ہیں اور انھیں الٹا اس کا گناہ مل رہا ہو کہ جو کام اللہ نے ان پر فرض کیا وہ بھابھی کی مرضی کے بغیر ان کے اوپر ڈال دیا۔ یہ تو فرض سے فرار کی بڑی خراب شکل ہے۔
دن بھر وہ سوچتا رہا، امام صاحب کی بات اس کے سامنے زندگی کے نئے نئے راز آشکارا کررہی تھی، اسے اپنے بہت سے رویے ایک ایک کر کے یاد آرہے تھے، اس کا بے وجہ ضد کرنا، اس کا چیخنا چلانا، اس کا بات بات پر گھر والوں سے ناراض ہوجانا، گھر کی ذمے داریوں سے لاپرواہی برتنا، وہ اپنے آپ میں شرمندہ ہوا جارہا تھا۔ کتنے زیادہ مواقع تھے جب اس نے نادانی سے کام لیا تھا، اور کتنے زیادہ موقعوں پر وہ بد اخلاق بن گیا تھا۔
وہ عشاء کی نماز کے بعد امام صاحب کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، وہ کہہ رہا تھا حضرت میں اب خود کو بدلنا چاہتا ہوں، اپنے خاندان کو بدلنا چاہتا ہوں، اپنی ہونے والی بیوی کو ایک مضبوط خاندان کا حصہ بنانا چاہتا ہوں، میرا خاندان مضبوط بنے گا تو پورے سماج کو مضبوطی ملے گی، میرا خاندان کم زور ہوگیا تو سماج کیسے مضبوط ہوسکے گا۔ میں آپ کا احسان مند ہوں آپ نے صحیح وقت پر مجھے میری ذمے داری یاد دلادی، حضرت میرے لیے دعا کیجیے۔ امام صاحب کی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں اور انھوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے۔
(بہ شکریہ خصوصی شمارہ دعوت ‘‘مضبوط خاندان مضبوط سماج)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)