تخلیق کی ندرت ،تنقید کی رفعت اور بیان کی لذت کا نام ہے خورشید حیات: پروفیسرطرزی

المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ”ایک شام خورشید حیات کے نام“ کا انعقاد
دربھنگہ (نمائندہ):المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ”ایک شام خورشید حیات کے نام“ کا انعقاد دربھنگہ ٹائمز ، شوکت علی ہاﺅس ، پرانی منصفی ، دربھنگہ میں کیا گیا ۔ یہ پروگرام پروفیسر عبدالمنان طرزی کی صدارت میں ہوا۔ عبدالمنان طرزی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ تخلیق کی ندرت ،تنقید کی رفعت اور بیان لی لذت کا نام خورشید حیات ہے ۔انہوں نے ان کی افسانہ نگاری میں زبان کی خوبیوں کا ذکر کیا۔ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے ان کا تعارف کراتے ہوئے ان کی افسانہ نگاری اور تنقید کو تخلیقی قوت سے آراستہ بتایا۔ان کے افسانوی مجموعہ ”ایڈز “ کا احاطہ کرتے ہوئے موضوعاتی جدت اور بیان کی سحر انگیزی کو موضوع بنایا۔ ان کی کتاب ”لفظ تم بولتے کیوں ہو “ کو تخلیقی تنقید کی عمدہ مثال بتایا ۔ اس موقع پر جناب انورآفاقی نے ان کے افسانوں میں موجود مٹی پانی سے جڑاﺅ اور الفاظ کے حسن انتخاب کو سراہا ۔ ڈاکٹر احسان عالم نے جناب خورشید حیات کے اسلوب پر گفتگو کی، دربھنگہ تشریف آوری پر ان کا استقبال کیا۔ڈاکٹر احتشام الدین نے فرمایاکہ خورشید حیات کا افسانہ ہو کہ تنقید وہ زندہ ،جمالیاتی اظہار کا نمونہ ہوتا ہے۔ایک ایک لفظ سسکیاں لیتا ،چیختا،ذہن و دل کو گرفتار کرتا نظر آتا ہے۔انہوں نے ادب کے مزاج کو دیکھا اور پرکھا ہے ۔ خورشید حیات نے کہا کہ دربھنگہ ٹائمز اور المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ ادبی اور تہذیبی روایت کی وراثت کو نئی صدی میں ایک نئے ویژن کے ساتھ جس طرح روشن کئے ہوئے ہے وہ قابل تعریف ہے۔ بلاس پور ، چھتیس گڑھ سے آئے مہمان افسانہ نگار خورشید حیات نے اپنا افسانہ ”چھالیا“ سنایا۔ ان کی اس کہانی میں الگ الگ کردار سے آزاد ہوتی ہوئی لفظ لہریں جن سمتوں کی طرف لے گئیں وہاں وہاں کہانی پسند سامعین لاشعوری طور پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ احساس و اظہار کے جتنے بھی دیار ملتے گئے وہاں لمحہ لمحہ ہم سب قیام کرتے چلے گئے ۔ سچ تو یہ ہے کہ خورشید حیات میں جو تخلیقیت ہے اس میں کسی چیز کو روک رکھنے یا تھام لینے کی کیفیت ہے ۔ خورشید حیات کی تخلیقی جمالیات کو اس شام افسانہ میں سامعین نے محسوس کیا۔ ایک طرح کی دانشورانہ تخلیقیت کا احساس ”چھالیا“ میں سامعین نے محسوس کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر منصور خوشتر نے اپنے اظہاریہ میں کہا کہ خورشید حیات افسانہ نگاروں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو جدیدیت کا طوفان تھمنے کے بعد ہمارے سامنے آیا تھا۔ مہمان خصوصی کے طور پر اس تقریب شامل ہوئے صدر شعبہ اردو متھلا یونیورسیٹی دربھنگہ نے خورشید حیات کے افسانوں پر تفصیلی گفتگو کی اور ان کے افسانوں کو سراہا۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے کی اور شکریہ کے الفاظ ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے ادا کیے۔ اس تقریب میں محمود احمد کریمی ، ڈاکٹر ریحان قادری ،منظر الحق منظر صدیقی ،محمد اسلم ،ڈاکٹر ایوب راعین ،ڈاکٹر ارشد سلفی وغیرہ نے شرکت کی اور مہمان ادیب کے تئیں نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔