خونِ مسلم کی ارزانی کے چھ سال-ڈاکٹر جسیم الدین

ہم نے ماناکہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

مرزا اسد اللہ خاں غالب کا یہ شعر وطن عزیز کی موجودہ صورتحال کی ترجمانی کررہاہے، آج کوئی بھوک کی شدت کی تاب نہ لاکر لقمۂ اجل بننے کو ترجیح دے رہاہے ،تو کوئی معاشی تنگی کے دباؤ میں آکر اپنے ہی گمچھا کو پھندہ بناکر سرعام جھول جارہاہے تو کوئی اپنے اہل وعیال کے ساتھ اجتماعی خودکشی کرکے معاش کی تنگی سے نجات پا رہاہے، اور جو طبعی زندگی جینا چاہتاہے تو اسے ملک کے اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے شرپسند عناصر آلام ومصائب کی چکی میں پیسنا چاہتے ہیں، کبھی جبرا شری رام کے نعرے لگانے کے نام پر موت کے گھاٹ اتارنا ، تو کبھی بچہ چور کا الزام لگاکر ہجومی تشدد کا شکار بنانا انھوں نے اپنا مقصد حیات بنالیاہے۔ یہ کوئی افسانوی کردار نہیں ہے ،بلکہ زمینی حقیقت ہے بھوک کی شدت سے تڑپ کر جان دینے والی ماں کی خبر گونج ہی رہی تھی کہ کل گیا میں ایک معمولی دکاندار لاک ڈاؤن کی وجہ سے مالک کی طرف سے کرایہ کے لیے بار بار دباؤ بنائے جانے پر اپنے گمچھاکو ہی پھندہ بناکر سرعام دکان کے بالائی حصے پر بنی گیلری سے باندھ موت کو گلے لگا لیا، ایسے ہی اترپردیش کا ایک خانوادہ اپنے ارکان کے ساتھ معاشی تنگی کے سبب زندگی کو خیرباد کہہ دیا۔ وطن عزیز میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو زندگی کے تمام مصائب وآلام کو سہتے ہوئے اپنے دم پر جینا چاہتاہے تو اسے اکثریتی فرقے کا شرپسند طبقہ موت کے گھاٹ اتارنے میں لیت ولعل سے کام نہیں لیتا۔ کل ہی نان پور بلاک ضلع سیتامڑھی کے ددری پنچایت میں آنے والے بہورار موہن پور ٹولہ کے باشندہ محمد وحید عرف پپو کو گوری پنچایت کے اکثریتی فرقہ کے شرپسندوں نے چاقو سے تابڑ توڑ وار کرکے اس کا جسم زخموں سے چھلنی کردیا، شرپسندوں کو آخر اتنا حوصلہ کہاں سے مل رہاہے کہ وہ اتنے بدمست ہوکر قانون کو ہاتھ میں لینے میں کوئی تامل نہیں کرتے۔ظلم وجبر کی سنگین ترین واردات کو انجام دینے کے بعد بھی وہ بے خوف وخطر آزاد گھومتے ہیں ـ ددری اور گوری پنچایت کے باشندگان میں آپسی میل جول بے مثال رہاہے، ماضی میں کبھی اس طرح کے ناخوشگوار واقعات پیش نہیں آئے،لیکن آج کیا شہر اور کیا دیہات اور گاؤں ، ہرشہر ، ہرقریہ اور ہر بستی میں فرقہ پرستی کا ننگا ناچ جاری ہے، آخر انسانی معاشرے میں مذہبی بالادستی کے نام پر زہر کون گھول رہاہے؟ کبھی چمپارن کے مسلم نوجوان کو اکثریتی فرقے کے شرپسند عناصر نشانہ بناتے ہیں تو کبھی سیتامڑھی کے مسلم نوجوانوں کو ہدف بناتے ہیں،آخر بے موت مرنے یامارے جانے کا تسلسل کب تک قائم رہے گا؟ کیا مودی حکومت اقتدار کے نشے میں اتنا بدمست ہوگئی ہے کہ اس نے انسانی جان کو شیٔ حقیر سمجھ کر ان کے خون کو ارزاں ٹھہرا دیا ہے۔ کیاقانون کی بالا دستی ختم کردی گئی ہے، یا پھرکمزوروں اور بے بسوں سے جینے کا حق سلب کرلیا گیا ہے، اگر جواب نفی میں ہے تو پھر حکمراں طبقہ کی خاموشی کس بات کا اشارہ دیتی ہے؟
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اگرمودی حکومت کے چھ سالہ دور اقتدار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آفتاب نصف النہار کی طرح سامنے آئے گی کہ ملک کے بیشتر باشندگان خواہ وہ تعلیمی ادارے سے وابستہ ہوں، یاملک کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے صنعتی کارخانوں کے کارکنان، یا ملٹی نیشنل کمپنیوں میں برسرکار ملازمین، یا پھر روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرکے پیٹ کی آگ بجھانے والے یومیہ مزدور بحیثیت مجموعی سب کے سب پریشان حال اور منتشر الخیال ہیں۔ایک انصاف پسند حکمراں کی اساسی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعایاکے بنیادی حقوق کا خیال رکھے، ناخواندگی کی شرح کو کم کرنے کے لیے نئے تعلیمی ادارے قائم کرے۔ متوسط اور کمزور طبقہ کی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے لیےصنعت وحرفت کو فروغ دے ۔کم ازکم خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے ایسا نظم ونسق قائم کرے کہ وہ بھوک کے مارے لقمۂ اجل نہ بن جائیں۔بلکہ وہ طبعی زندگی گزار سکیں۔ متوسط طبقہ کی بھی اتنی پاسداری کرے کہ وہ اپنے چھوٹے موٹے کاروبار کے ذریعے خود کفیل ہوجائے۔خود کفیل (آتم نربھر) موجودہ حکومت کا سلوگن بھی بن چکا ہے، لیکن یہ صرف زبانی جمع خرچ سے منطقی انجام تک نہیں پہنچے گا ،بلکہ اسے عملی طور پر نفاذ کی راہیں ہموار کرنا ہوں گی۔ یہ سچ ہے کہ سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتااور نہ اس قافلہ کے ارکان آپس میں ایک دوسرے کے فدائی ہوتے ہیں، بلکہ ان کی رفاقت بسنت میں اڑنے والے پتنگوں کی طرح ہے جو آپس میں اڑتے اور آپس میں ہی کٹتے ہیں۔ ایسے ہی اقتدار کسی کا دائمی ساتھی نہیں ہوتا، دوست کا دوست تو کیا،خود اپنا دوست نہیں، جو لوگ بھی اقتدار کی کشتی پر سوار ہوتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں یہ کشتیاں کبھی غرقاب بھی ہوسکتی ہیں، سلطنتوں کا جاہ وجلال، وزارتوں کا عروج وزوال یہ سب روزوشب کے تماشے ہیں، موجودہ حکومت کی فضول خرچیوں اور وسائل کی غلط تقسیم و بندر بانٹ، نا تجربہ کاری اور بعض غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج عوام کی اکثریت مشکلات کی شکار اور غیر مطمئن نظر آتی ہے۔ ارکان حکومت اور ان کے محبوب نظر سرمایہ داروں کی لوٹ مار کا تسلسل، ناکافی وسائل، مذہبی انتہا پسندی، ناقص العقل مشیروں کی کج روی، جہالت اور بے سوچے سمجھے لیے گئے فیصلے ملک کو مزید اندھیرے میں دھکیل رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نے نہ ماضی سے سبق سیکھا نہ حال کی فکر ہے اور نہ ہی مستقبل کی پروا ہے۔ ماضی قریب کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو عجیب تماشا نظر آتا ہے۔ پچھلے چھ سال کی مدت میں اگر ملک کا حکمراں طبقہ صدق دل سے چاہتا تو ملک کی تقدیر بدل سکتاتھا مگر ایسا ہو نہ سکا اور وقت کا بے رحم پہیہ آگے نکل چکا ہے۔گاؤں گاؤں اور شہر شہر الغر ض ملک کے طول وعرض میں فرقہ پرستی کا عفریت سر ابھارچکاہے۔حکومت وقت کی عدم توجہی یا صلاحیتوں کے فقدان کی وجہ سے جہاں ملک کی اقتصادی صورتحال نہایت تشویشناک ہے، وہیں عام سہولتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے اور عوام پر بے یقینی اور مایوسی کی کیفیت طاری ہے۔ ایسا لگ رہاہے کہ قیامت سے پہلے اس حکومت نے قیامت برپا کردی ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)