خودکشی ایک سنگین جرم ہے؛ لیکن… ـ عبداللہ ممتاز

 

عن جابر أن الطفيل بن عمرو الدوسي، أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، هل لك في حصن حصين ومنعة؟ قال: حصن كان لدوس في الجاهلية، فابى ذلك النبي صلى الله عليه وسلم للذي ذخر الله للانصار، فلما هاجر النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة، هاجر إليه الطفيل بن عمرو، وهاجر معه رجل من قومه، فاجتووا المدينة ، فمرض فجزع فاخذ مشاقص له فقطع بها براجمه، فشخبت يداه حتى مات، فرآه الطفيل بن عمر وفي منامه فرآه، وهيئته حسنة، ورآه مغطيا يديه، فقال له: ما صنع بك ربك؟ فقال: غفر لي بهجرتي إلى نبيه صلى الله عليه وسلم، فقال: ما لي اراك مغطيا يديك؟ قال: قيل لي: لن نصلح منك ما افسدت، فقصها الطفيل على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” اللهم وليديه، فاغفر ".
صحيح مسلم: كتاب الايمان: باب 49

‏‏‏‏ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایک مضبوط قلعہ اور لشکر چاہتے ہیں (اس قلعہ کے لیے کہا جو دوس کا تھا جاہلیت کے زمانے میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ کیا اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے حصے میں یہ بات لکھ دی تھی (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہیں ان کی حمایت اور حفاظت میں) تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی۔ پھر مدینہ کی ہوا ان کو ناموافق ہوئی۔ (اور ان کے پیٹ میں عارضہ پیدا ہوا) وہ شخص جو حضرت طفیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا تھا، بیمار ہوا اور تکلیف کے مارے اس نے چوڑی گانسیاں لے کر اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے اور خون بہنا شروع ہوا دونوں ہاتھوں سے یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ پھر سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس کو خواب میں دیکحھا اور اس کی شکل اچھی تھی مگر اپنے دونوں ہاتھوں کو چھپائے ہوئے تھا۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے کہا: بخش دیا مجھ کو اس لئے کہ میں نے ہجرت کی تھی۔ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وجہ ہے میں دیکھتا ہوں تو دونوں ہاتھ اپنے چھپائے ہوئے ہو تو وہ شخص بولا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ ہم اس کو نہیں سنواریں گے جس کو تو نے بخود بگاڑا۔ پھر یہ خواب سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی بخش دے۔“ (یعنی جیسے تو نے اس کے سارے بدن پر کرم کیا ہے، اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی درست کر دے)

معروف شارح مسلم امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
أما أحكام الحديث ففيه حجة لقاعدة عظيمة لأهل السنة أن من قتل نفسه أو ارتكب معصية غيرها ومات من غير توبة فليس بكافر، ولا يقطع له بالنار، بل هو في حكم المشيئة. وهذا الحديث شرح للأحاديث التي قبله الموهم ظاهرها تخليد قاتل النفس وغيره من أصحاب الكبائر في النار. اهـ.
شرح النووی:۲/۱۳۲

کہ احکام حدیث کے متعلق اس روایت میں اہل سنت والجماعت کے لیے "قاعدۂ عظیمہ” ہے کہ جو شخص خود کشی کرلے یا اس کے علاوہ کسی اور گناہ کا مرتکب ہوا اور بغیر توبہ کے مرگیا وہ کافر نہیں ہے اور نہ ہی یقینی جہنمی ہے؛ بلکہ یہ اللہ کی مرضی پر موقوف ہےـ
اور یہ روایت ان تمام روایت کے لیے شرح ہے جو سابق میں آئیں، جن کے ظاہر سے یہ وہم ہو رہا تھا کہ خود کشی کرنے والا یا گناہ کبیرہ کا مرتکب شخص ہمیشہ کے لیے جہنمی ہےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*