خودکشی سے پہلے-خلیل جبران

ترجمہ: احمد سعید قادری بدایونی

اِس انوکھے پر سکون کمرے میں کل میری محبوبہ بیٹھی تھی۔یہ گلاب کی طرح نرم و نازک مسندیں وہی ہیں جن کے حصّے میں کل اُس کے خوبصورت سر کو چھونے کا شرف آیا تھا اور یہ شراب سے بھرا کانچ کا گلاس اُس کے حسین و معطر ہونٹوں سے کیا لگا کہ ساری شراب اِس کے ہی سر چڑھ گئی تھی۔

یہ سب کل کی باتیں ہیں، وہ کل جو ایک حسین خواب کی طرح بیت گیا اور اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا جبکہ آج میری دلرُبا مجھ سے بہت دور ایک ایسی بے جان ٹھنڈی جگہ چلی گئی ہے جس کو حسرت و یاس کا شہر کہتے ہیں۔

میری معشوقہ کی انگلیوں کے نشان ہنوز میرے آئینے پر موجود ہیں، ابھی تک اُس کی سانسوں کی خوشبو میرے کپڑوں میں بسی ہے، اُس کی میٹھی آواز ابھی بھی میرے گھر کے در و دیوار میں گونج رہی ہے۔
ہائے رے ستم! یہ سب موجود ہے لیکن میری جان ایک ایسے مکان میں سکونت پذیر ہو چکی ہے جس کو ہجر و فراق کی بستی کہتے ہیں۔
اُس کی انگلیوں کے نشان، یادوں کی خوشبو، روح کی تازگی کل صبح تک اسی کمرے میں مقیم رہے گی اور جب صبح میں کمرے کی کھڑکی کھولوں گا تو ہوا کے جھونکے اِس کمرے کی دہلیز پر قدم رکھیں گے اور اپنے ساتھ اُس پری وش جادوگرنی کی ساری یادیں لے جائیں گے۔

میرے دل میں بسی میری جانِ جاں کی تصویر اُس کے بھیجے ہوئے وہ سارے خطوط جن کو میں نے عقیق و یاقوت سے سجے چاندی کے ڈبے میں بڑی محبت سے رکھا ہوا ہے، اُس کے سنہرے بالوں کی وہ چوٹی جو آج بھی مجھے اُس کی یاد دلاتی ہے، جس کو میں نے کبھی بھی مشک و بخور سے بندھے ریشم کے غلاف سے باہر نہیں نکالا، یہ سب بس کل صبح تک کے مہمان ہیں اور صبح کمرے کی کھڑکی کھلتے ہی باد صبا اِن یادوں کے پٹارے کو عدم کی ایسی تاریکیوں میں لے جائے گی جہاں صرف خاموشی کا راج ہوتا ہے۔
اے نو جوانو! تمہیں پتا ہے، میری سجنی اُن عورتوں میں سے ایک تھی جن کی محبت کا خواب ہر جوان اپنی آنکھوں میں سجاتا ہے،وہ سنجیدگی و متانت، محبت و الفت کا ایسا عجیب پیکر تھی جس کو خدا نے کبوتر کی معصومیت، سانپ کی چال، مور کی خود بینی، بھیڑیے کی درندگی، سفید گلاب کی خوبصورتی اور تاریک رات کی ہولناکی کو ایک مشت ریت اور ایک چلّو سمندر کے جھاگوں میں ملا کر تخلیق کیا تھا۔

میں اپنی محبوبہ کو بچپن سے جانتا تھا جب میں کھیتوں میں اُس کے پیچھے کھڑا ہوجاتا تھا اور جب وہ سڑکوں پر نکلتی تھی تو اُس کا دامن پکڑے پکڑے اُس کے ساتھ چلتا تھا۔

جب میں نے نوعمری کی دہلیز پر قدم رکھا تو کتابوں میں مجھے اُس کا چہرہ نظر آنے لگا، نظر اٹھاتا تو آسمان میں اُس کا قامتِ ناز دکھتا، تو بادلوں کی گڑگڑاہٹ میں اُس کی میٹھی اُبھرتی ہوئی آواز سنائی دیتی۔
جب جوان ہوا تو اُس کے ساتھ بیٹھ کر اُس سے دنیا جہان کی باتیں کرتا، طرح طرح کے سوالات کرتا، دل میں موجود درد کی شکایت کرتے ہوئے روح کے رازوں سے سکون حاصل کرتا۔

مگر افسوس! اِن ساری حسین یادوں کو بیتے کل نے وقت کی دبیز پرتوں، منٹوں اور ساعتوں کی اونچی دیواروں کے پیچھے چنوا دیا اور آج وہ غزال سی آنکھوں والی گُلبدن یادوں کی گھنگھور گھٹا میں پھنس کر حسرت و یاس کی بھول بھلیاں میں کہیں کھو گئی۔

اے ہمنواؤں! میری محبوبہ کوئی اور نہیں بلکہ زندگی ہے۔

وہ زندگی جو اُس خوبصورت جادوگرنی کی طرح ہوتی ہے جو ہمارے دلوں میں خواہشیں جگاتی ہے، روحوں کو پراگندہ کرتی ہے، حسین خواب دکھا دکھا کر سوچنے سمجھنے کی طاقت چھین لیتی ہے جس کے بعد اگر خواہشات پوری نہ ہوں تو ہم صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور اگر حسرتوں کا سلسلہ دراز ہو جائے تو ہم کوفت و ناگواری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

وہ زندگی جو ایک ایسی عورت ہے جو اپنے عاشقوں کے آنسوؤں سے غسل کرتی ہے اور اپنے مقتولین کے لہو کا عطر لگاتی ہے۔

زندگی جو ایک ایسی دلرُبا ہے جو روشن دن کو اندھیری رات کی کالی چادر اوڑھا دیتی ہے۔

زندگی جو ایسی جانِ جاں ہے جو پہلے انسانی دِلوں کو اپنا گرویدہ بناتی ہے اور پھر انہیں کو حلال کردیتی ہے۔

زندگی جو اُس خوبصورت بدچلن عورت کی طرح ہے کہ اگر کوئی انسان اُس کی بدچلنی دیکھ لے تو اُس کی خوبصورتی سے بھی نفرت کرنے لگے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*