خود کشی کا بڑھتا رجحان اور ہماری ذمہ داریاں- شمیم اکرم رحمانی

مورخہ 27/ فروری کی بات ہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا اور بڑی تیزی سے لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں تک پہونچ گیا ، ویڈیو گجرات کے احمد آباد کی رہنے والی عائشہ عارف خان کا تھا جس میں وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا درد بیان کررہی تھی اس کے الفاظ تھے

"میرا نام ہے عائشہ اور میں جوبھی کچھ کرنے جارہی ہوں وہ اپنی مرضی سے کرنے جارہی ہوں، مجھ پر کسی کا زور یا دباؤ نہیں ہے، اور بس، کیا کہیں؟یہ سمجھ لیجئے خدا کی (دی ہوئی) زندگی اتنی ہی ہوتی ہے، مجھے اتنی زندگی ہی بہت سکون والی ملی، اور ڈِیر ڈیڈ ! کب تک لڑیں گے اپنوں سے؟ کیس وڈرال کردو، عائشہ لڑائیوں کے لیے نہیں بنی، پیار کرتے ہیں عارف سے، اسے پریشان تھوڑی نہ کریں گے؟ اسے آزادی چاہیے, ٹھیک ہے وہ آزاد رہے، میں خوش ہوں کیونکہ میں اللہ سے ملوں گی، انہیں کہونگی کہ میرے سے غلطی کہاں رہ گئ؟ ماں باپ بہت اچھے ملے، دوست بھی بہت اچھے ملے، شاید کہیں کمی رہ گئ، مجھ میں یا شاید تقدیر میں، میں خوش ہوں، سکون سے جانا چاہتی ہوں اور اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ اب دوبارہ انسانوں کی شکل نہ دکھائے، ایک چیز ضرور سیکھ رہی ہوں محبت کرنی ہے تو دو طرفہ کرو ایک طرفہ میں کچھ حاصل نہیں، کچھ محبت تو نکاح کے بعد بھی ادھوری رہتی ہے، یہ پیاری سی ندی، پرے کرتی ہوں کہ یہ اپنے آپ میں سما لے، میرے پیٹھ پیچھے جو بھی ہو ، پلیز! زیادہ بکھیرا مت کرنا، میں ہواؤں کی طرح ہوں، بس بہنا چاہتی ہوں، اور بہتے رہناچاہتی ہوں، کسی کے لیے نہیں رکنا، میں خوش ہوں آج کے دن، مجھے جو سوال کے جواب چاہیے تھے وہ مل گئے، مجھے جس کو جو بتاناتھا سچائ وہ بتا چکی ہوں، بس کافی ہے، تھینک یو مجھے دعاؤں میں یاد کرنا، کیاپتہ جنت ملے یا نہ ملے، چلو الوداع ”

مورخہ 25/فروری 2021 کو عائشہ نے مذکورہ بالا گفتگو کی ویڈیو بناکراپنے متعلقین کو بھیجا اور پھر سابرمتی ندی میں کود کر خود کو ہلاک کرلیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عائشہ کا واقعہ بھی عام واقعات کی طرح عوام میں نہیں آتا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ واقعہ جلد ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے تبصرے اور سوالات کئے جانے لگے،
عام طور پر لوگوں نے عائشہ کی خود کشی کی جو وجہ دریافت کی وہ شوہر کی طرف سے جہیز کا مزید مطالبہ تھا، عائشہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں گرچہ وجہ کی نشاندہی نہیں کی اور لوگوں سے بھی کہا کہ وہ بعد از مرگ زیادہ بکھیرا کھڑا نہ کریں لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ لوگ وجہ دریافت نہ کریں اور خاموش بیٹھ جائیں، ویسے بھی انسان کو جس کام سے روکا جاتاہے وہ اس کے کرنے پر حریص ہوجاتا ہے، چنانچہ یہی ہوا بھی، لوگوں نے عائشہ کی ان باتوں کو سامنے رکھ کر وجہ دریافت کرنے شروع کردیئے جو انہوں نے اپنے والدین سے کی تھیں اور پھر جہیز کی قباحتوں پر گفتگو شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں اصل موضوع غائب ہوگیا بلاشبہ جہیز کا مطالبہ مذموم شئ ہے لیکن خود کشی(خواہ کسی بھی وجہ سے کی جانے) اس سے زیادہ مذموم شئ ہے، عائشہ کی خود کشی کی اور بھی وجوہات ہیں جن کی نشاندہی اس نے گرچہ صاف صاف نہیں کی لیکن اشاروں اشاروں میں ضرور بتادیا ہے کہ وہ کیوں زندہ نہیں رہناچاہتی تھی، پھر یہ کہ معاملہ صرف ایک عائشہ کا نہیں ہے بلکہ سینکڑوں عائشہ کے ساتھ ساتھ ہزاروں زید، عمرو، اور بکر کا بھی ہے، حیرت ہوتی ہے کہ لوگ خودکشی کے بارے میں گفتگو کرنے سے کتراتے ہیں یا کم گفتگو کرتے ہیں حالانکہ دنیا بھر میں خود کشی کا رجحان بڑی تیزی سے بڑھتا جارہا ہے W H O کے مطابق ہر چالیس سیکینڈ میں ایک شخص خودکشی کے ذریعے ہلاک ہوتا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا میں مختلف جنگوں، دہشت گردیوں، اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے جتنی اموات نہیں ہوئ ہیں اتنی خودکشیوں کے نتیجے میں دیکھنے کو مل رہی ہیں، خود ہندوستان کی اگر بات کی جائے تو یہاں بھی خود کشی کا گراف کافی بڑھا ہوا ہے اور آئے دن بڑھتا جا رہا ہے ، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں روزاانہ 381 لوگ خودکشی کر رہے ہیں، ای ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2018 میں خودکشی کے واقعات کی تعداد ایک لاکھ 34 ہزار 516 درج کی گئی تھیں جبکہ سنہ 2019 میں تقریباً ایک لاکھ 39 ہزار 123 درج کی گئی، یعنی 2018 کے بالمقابل 2019 میں 4 ہزار 607 خودکشی کے معاملات بڑھے ہیں۔ کسانوں کی خودکشیاں ایک مدت سے یہاں موضوع بحث رہی ہیں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق صرف سنہ 2014ء میں 5650 کسانوں نے خودکشیاں کی تھیں
سال 2019 -20 کی ہی بات کریں تو ان دو سالوں کے درمیان متعدد جانی مانی ہستیوں نے خود کشیاں کیں ہیں جن میں مشہور تاجر وی جی سدھارتھ ، ادکار کوشل پنجابی، ادکار سشانت سنگھ راجپوت، اداکار سمیر شرما، کنڈ اداکار سشیل گوڑا، اداکارہ پریکشا مہتا اور ادکارہ سیجل شرما جیسے لوگ شامل ہیں،یہ سچ ہے کہ زندگی کے سفر میں بسااوقات ایسے موڑ آجاتے ہیں جہاں انسان امید اور نا امیدی کے دوراہے پر آکھڑا ہوتا ہے لیکن ایسے موقع پر کامیاب انسان وہ ہوتا ہے جو حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے اور لاکھ پریشانیوں کے باوجود آندھیوں میں چراغ جلانے کی جد جہد کرتا رہتا ہے نتیجتاً حالات بدل جاتے ہیں، بقول علامہ جمیل مظہری

جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر
یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی

خودکشی کی ایک نہیں متعدد وجوہات ہیں؛جن میں معاشی مشکلات، رشتوں کی ناچاقی، امتحان میں ناکامی، حقوق کی پامالی، جہیز اور ناجائز مطالبات کا رواج- وغیرہ اہم ہیں لیکن مجموعی طور پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کی خود کشی کی مستقل وجہ ہوتی ہے جس کا اظہار خود کشی کرنے والا نہیں کرسکتا ہے یا ناقص طریقے پر کرتا ہے بسااوقات بات کچھ ہوتی ہے اور سامنے کچھ اور آتی ہے، لیکن وجہ چاہے جو بھی ہو خود کشی تمام شکلوں میں بزدلی، کم ہمتی، اور ذہنی کمزوری کی طرف صاف صاف اشارہ کرتی ہے، تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ بلکہ ایک طبقہ خودکشی کی حمایت بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ زندگی انسان کی اپنی ہے اسے جس طرح اپنی زندگی جینے کا حق ہے اسی طرح ختم کرنے کا بھی حق ہے لیکن اسلام خود کشی کے جواز کے لیے فراہم کی گئی تمام توجیہات کو مسترد کرتاہے، صاف صاف کہتا ہے کہ خودکشی حرام ہے، اور اس قبیح عمل کا مرتکب جہنمی ہے، اس لیے کہ اسلام کی نگاہ میں زندگی کسی انسان کی نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے جسے ختم کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے، انسان کو نہ اپنی زندگی ختم کرنے کا حق ہے اور نہ دوسرے کی زندگی،جس طرح دوسرے کی زندگی ختم کرنےوالا انسانیت کے قتل کا گنہگار ہے اسی طرح اپنی زندگی ختم کرنے والا بھی مجرم ہے جس کے ساتھ اظہار ہمدردی روا نہیں ہے، متعدد آیات و روایات میں خود کشی پر مرتب ہونے والے عذاب بلکہ عذاب کی نوعیت تک کا تذکرہ موجود ہے، خود کشی کرنے والے شخص کے جنازے کی نماز ادا کئے جانے کی گنجائش ضرور فراہم کی گئی ہے لیکن اہل فضل کے لئے جنازے کی نماز میں نہیں شریک ہونے کو مسنون قرار دیا گیا ہے، خود کشی تو درکنار مایوسی جو خودکشی کی طرف لے جانے والا پہلا قدم ہے اسلام اسے بھی حرام قرار دیتا ہے اور مشکل سے مشکل وقت میں بھی فرد سے لیکر معاشرے تک کو مایوسی کے دلدل سے نکل امید کی شمع روشن کرنے کا پابند بناتا ہے جب ڈوبنا ہی ہے تو ہاتھ پاؤں ہلانے سے کیا فائدہ کہنے والوں کے سامنے سینکڑوں نظائر پیش کرتا ہے جن میں ہاتھ پاؤں ہلانے کے نتیجے میں چند لوگ بڑے بڑے میدانوں کو سر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اسلامی تعلیمات کا ہی اثر ہے کہ آج بھی دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے بالمقابل مسلمانوں میں خودکشیاں کم ہوتی ہیں لیکن ادھر چندسالوں سے جو نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ اطمینان بخش نہیں ہیں لوگ اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر اپنی جان خود سے ختم کرنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں اگر فوری طور پر بیداری پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو قوی امکان ہے کہ خود کشی کا تشویش ناک رجحان مسلمانوں میں بھی مزید بڑھے گا اس لیے ایک طرف جہاں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست اور ملک میں اپناکردار اداکریں وہیں مسلم سماج کے علماء، ائمہ، دانشوران، سماجی خدمت گاروں صحافیوں اور سوشل میڈیا کے صارفین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کھل کرمیدان میں آئیں اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں، مسلمانوں کے سامنے ان روایات کو پیش کریں جن میں خود کشی کی قباحتوں اور خود کشی پر مرتب ہونے والی سزاؤں کا تذکرہ موجود ہے، اس کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج میں اخلاق نبوی کو فروغ دینے کی ہرممکن کوشش کریں ٹانگیں کھنچنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اور خلق خدا میں خیر خواہی ہمدردی اور رواداری کا ماحول بنائیں تاکہ سماج کا کوئی شخص اکیلاپن محسوس نہ کرے-
مجھے بھی معلوم ہے کہ دس ستمبر کو ہر سال دنیا بھر میں خود کشی کی روک تھام کا عالمی دن WSPD منایا جاتا ہے، جس کا اہتمام W H O کے تعاون سے خود کشی کے تدارک کی عالمی تنظیم IASP کرتی ہے لیکن اس کی حیثیت سال میں ایک دن ہنگامہ برپاکرکے سوجانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، تبدیلیاں تسلسُل کے ساتھ کام کرنے کے نتیجے میں جستہ جستہ ہی آتی ہیں، وہ بھی اس وقت جب کام کرنے والے کام کے تئیں مخلص ہوں اور عوامی شعور پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں

رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب
چند شمعوں کے بھڑکنے سےسحر ہوتی نہیں

قابل اجمیری

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)