خدا وندا! یہ حیرانی ہماری ـ جویریہ احمد

خداوندا !یہ حیرانی ہماری
کِسے سونپی نگہبانی ہماری

تمھارے بعد ہم تنہا نہیں ہیں
اداسی بھی ہے دیوانی ہماری

بہت اندر سے گھلتے جا رہے ہیں
کوئی دیکھے یہ ویرانی ہماری

نہ کیسے پھیلتی اپنی رگوں میں
محبت تھی ہی سرطانی ہماری

ہمارا رنگ بدلے جا رہا ہے
کوئی سمجھے پریشانی ہماری

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*