Home اسلامیات خدارا مسجدوں سے سحری کے اعلانات بند کیجیے!- ڈاکٹر محمد واسع ظفر

خدارا مسجدوں سے سحری کے اعلانات بند کیجیے!- ڈاکٹر محمد واسع ظفر

by قندیل

استاذ و سابق صدر، شعبہ تعلیم ، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ اس مبارک مہینے میں جہاں بہت سی نیکیوں کا چلن و رواج ہے، وہیں کچھ غلط رسموں نے بھی اپنا مقام بنایا ہوا ہے۔ ان ہی میں سے ایک مسجدوں سے ہونے والے سحری کے اعلانات بھی ہیں۔ یہ اعلانات عام طور پر ختم سحر یا صبح صادق کے وقت سے 45 ؍ منٹ یا ایک گھنٹہ قبل شروع ہو جاتے ہیں، پھر دس سے پندرہ منٹ کے وقفے پر ان کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ پہلے اعلان میں تو یہ بتایا جاتا ہے کہ سحری کھانے کا وقت ہوچکا ہے، آپ لوگ نیند سے بیدار ہوکر سحری کھالیں۔ اس کے بعد کے ہر اعلان میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اب سحری کا وقت کتنا منٹ باقی رہ گیا ہے اور آخری اعلان میں سحری کے وقت کے اختتام کی خبر سنائی جاتی ہے۔ اس طرح پون یا ایک گھنٹہ کے وقفے میں چار سے پانچ اعلانات تو ہو ہی جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسجد کمیٹی اور مؤذن نے محلہ کے سارے افراد کو سحری کھلانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ مسجد کمیٹی کے ممبران، ائمہ مساجد اور مؤذنین اس بات پر کبھی غور نہیں کرتے کہ ان اعلانات کی ضرورت کیا ہے اور ان سے لوگوں کو کس قسم کی تکلیفیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں؟

سحری کے لیے لوگوں کو جگانے کی ابتدا اس دور میں ہوئی تھی جب گھڑی گھنٹے بہت عام نہیں ہوئے تھے اور اشتہارات کا بھی بہت رواج نہیں تھا۔ ان دنوں مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بھی بہت عام نہیں ہوا تھا ۔ اس دور میں لوگوں کو جگانے کے لیے بعض مقامات پر کچھ مخصوص افراد انفرادی طور پر تو بعض مقامات پر قافلے کی شکل میں گھوم گھوم کر جگنے کی صدا لگایا کرتے تھے۔ بعض مقامات پر پٹاخوں کے دھماکے بھی کیے جاتے تھے تو بعض جگہوں پر سائرن بجانے کا بھی رواج تھا۔ گرچہ یہ باتیں بھی شریعت کے مزاج کے خلاف تھیں لیکن گھڑی گھنٹوں کے عام نہیں ہونے کی وجہ سے ان کا کسی حد تک جواز بنتا تھا لیکن آج کے دور میں جب کہ ہر گھر میں گھڑی گھنٹے اور ہر ہاتھ میں اسمارٹ فون موجود ہے جس میں انگلیوں کے ایک اشارے پر ختم سحری، افطار اور نمازوں کے اوقات وغیرہ معلوم کیے جاسکتے ہیں اور حسب ضرورت الارم بھی لگایا جاسکتا ہے یا کسی کو رنگ کرکے جگانے کے لیے بھی کہا جاسکتا ہے، مسجدوں سے ان اعلانات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ ایک فضول رسم ہے جسے ڈھویا جارہا ہے۔ یہ عوام کو پن گو بنانے کے مترادف ہے۔ ہاں انفرادی طور پر اگر کوئی شخص کسی کو جگانے کے لیے بول دے تو اسے جگا دینا یقینا درست ہوگا لیکن محلوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرنا جس سے سارے لوگ بیک وقت متاثر ہوں قطعاً درست نہیں!

سمجھنا چاہیے کہ یہ وقت گہری نیند کا ہوتا ہے اور ہر شخص اپنی ضروریات کے پیش نظر سونے جاگنے کا اپنا معمول رکھتا ہے۔ لہٰذا سب کو ایک مخصوص وقت پر جگنے کے لیے مجبور کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ محلوں میں بہت سے غیر مسلم افراد بھی رہتے ہیں جنہیں روزوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، نیز مسلمانوں میں بہت سے لوگ انتہائی ضعیف اور بیمار ہوتے ہیں جو روزہ نہیں رکھتے، اور بہت سے بچے جو روزے کے مکلف بھی نہیں ہوتے سب کی نیند خراب ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ جو لوگ پہلے سے جگ کر نماز تہجد، تلاوت قرآن یا تسبیحات و اذکار میں مشغول ہوتے ہیں ان کی یکسوئی میں اس بار بار کے اعلانات سے زبردست خلل واقع ہوتا ہے، جن کی رہائش مسجد کے قریب ہے ، انہیں ان پریشانیوں کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مسجد کمیٹی کے ذمے داران کو یہ باتیں بالکل سمجھ میں نہیں آرہی ہیں اور انہیں لوگوں کی تکالیف کا قطعاً اندازہ نہیں ہے۔ اس عمل سے دراصل ہم اس بات کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے اندر تمدنی شعور (Civic Sense) نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

جاننا چاہیے کہ سحری کھانا یقینا سنت ہے، برکت و فضیلت کا بھی باعث ہے لیکن روزے کے لیے لازمی شرط نہیں ہے یعنی اگر کوئی شخص وقت پر بیدار نہیں ہونے کی وجہ سے یا کسی اور سبب سے سحری نہ کھا سکے اور کچھ کھائے پیے بغیر ہی روزہ رکھ لے جو کہ ایسی صورتحال میں کرنا بھی چاہیے کیوں کہ یہی عزیمت کا پہلو ہے، تو اس کے روزے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ روزہ پوری طرح قابل قبول ہوگا اگر دوسری ضروری پابندیوں کا لحاظ رکھا گیا ہو۔ یہی نہیں، اگر کوئی شخص جان بوجھ کر سحری ترک کر دے تو بھی وہ گنہ گار نہیں ہوگاکیوں کہ سحری کھانا روزے دار کے لیے کوئی فرض یا واجب نہیں ہے بلکہ فقہاء نے اس کے مستحب ہونے پر ہی اجماع نقل کیا ہے جو کہ ایک گھونٹ پانی پی لینے سے بھی متحقق ہوجاتا ہے لیکن ہم لوگوں نے اس کو اتنا بڑا مسئلہ بنا رکھا ہے جیسے اگر کسی کی سحری چھوٹ گئی تو مانو قیامت ہی برپا ہوگئی۔

سحری کھانے سے دراصل دو باتیں مقصود ہیں؛ ایک تو یہ کہ اس سے روزہ دار کو قوت و نشاط حاصل ہو اور روزہ کو نباہنا اس کے لیے آسان ہوجائے اور دوسرے یہ کہ اہل کتاب کے روزوں سے فرق پیدا ہوجائے کیوں کہ وہ لوگ روزوں کے لیے سحری نہیں کھایا کرتے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’فَصْلُ مَا بَیْنَ صِیَامِنَا وَ صِیَامِ أَھْلِ الْکِتَابِ، أَکْلَۃُ السَّحَرِ‘‘ یعنی ہمارے اور اہل کتا ب کے روزوں میں فرق سحری کھانے کا ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث ۲۵۵۰)۔ اور آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَکَۃً‘‘ سحری کھایا کرو کیوں کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث ۲۵۴۹)۔

اس لیے ان مقاصد کے حصول کے پیش نظر سحری کھانے کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے لیکن یہ ہر اس شخص کی ذاتی ذمے داری ہے جو روزے کا مکلف ہے اور جسے اس فرض کی حسن ادائیگی کی فکر ہے کہ وہ اپنے سحری کی خود فکر کرے۔ اس کے لیے مسجدوں سے بار بار اعلانات کا ہونا نہایت تکلیف دہ ہے۔ مسجدیں ویسے بھی اعلانات کے لیے وجود میں نہیں لائی گئیں بلکہ نماز اور ذکر و تلاوت کے لیے وجود میں لائی گئی ہیں لیکن ہم لوگوں نے ان کو مختلف قسم کے اعلانات کا مرکز بنا ڈالا ہے جس سے ان کے تقدس پر ضرب لگ رہی ہے مگر اس پر غور کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ احقر نے اس موضوع پر ایک مضمون بعنوان ’’مساجد میں اعلانات کی کثرت: ایک لمحہ فکریہ‘‘ حال ہی میں رقم کیا تھا اور اس نقطہ پر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی تھی جو مختلف اخبارات میں اور ویب سائٹس پر شائع بھی ہوا، اسے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

اسلامی شریعت کا مزاج یہ ہے کہ فرائض و واجبات کو علی الاعلان اور اجتماعیت کے ساتھ ادا کیا جائے اور نوافل و مستحبات کو انفرادی طور پر ادا کیا جائے۔ نوافل و مستحبات میں اعلان و اظہار کو پسند نہیں کیا گیا۔ نیز عبادات کی ادائیگی میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ حتی الامکان دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ اسی وجہ سے نماز میں قرآن کریم کی تلاوت میں متوسط آواز اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے: {وَ لَا تَجْھَرْ بِصَلَا تِکَ وَ لَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا} ’’تم اپنی نماز نہ بہت اونچی آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے بلکہ ان دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار کرو۔‘‘ ( الاسراء: ۱۱۰)۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق اس حکم کے صادر ہونے کی علت یہ تھی کہ مکہ مکرمہ میں جب رسول اللہ ﷺ بلند آواز سے نمازوں میں قرأت کیا کرتے تھے تو مشرکین کو گراں گزرتا تھا اور وہ قرآن،آپؐ، جبریل علیہ السلام اور اللہ رب العزت کو گالیاں دیتے تھے۔ اس لیے آپؐ سے کہا گیا کہ اتنی بلند آواز سے قرأت نہ کریں کہ مشرکین تک آواز پہنچے اور اتنی آہستہ بھی نہ کریں کہ آپؐ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کریں۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث ۷۴۹۰)۔

یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آج ہندوستان کے مسلمان کیا نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی مکی زندگی جیسے حالات سے نہیں گزر رہے ہیں؟ اور کیا اپنے اس غیر ضروری عمل سے ہم اسلام اور اسلامی اعمال کے تئیں لوگوں کے اندر نفرت نہیں پیدا کر رہے ہوتے ہیں؟ پھر کیا جب کوئی ان اعلانات کو بند کروانے کے لیے کسی دن کیس مقدمہ کرے گا تب جاکر ہی ہماری آنکھیں کھلیں گی؟ اور یہاں تو معاملہ صرف غیروں کا ہی نہیں مسلمانوں کو بھی تکلیف پہنچانے کا ہے جس سے سختی سے روکا گیا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ‘‘ مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے (تکلیف پہنچنے سے ) محفوظ رکھے۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث ۶۴۸۴)۔

ظاہر ہے کہ یہاں زبان سے پہنچنے والی ہر قسم کی تکلیف مراد ہے، صرف سبّ و شتم کرنا ہی نہیں! اسی طرح ہاتھ کا معاملہ ہے کہ اس سے یہاں صرف مار پیٹ کرنا ہی مراد نہیں بلکہ ہر وہ مکر آمیز تدبیر مراد ہے جس میں کسی کا ہاتھ ہو اور جس کی وجہ سے کوئی مسلمان اذیتوں میں مبتلا ہو۔ یاد رہے کہ کسی مسلمان کو تکلیف و اذیت میں مبتلا کرنا حرام ہے اور علماء نے اسے گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے۔ گویا مسجد کمیٹی کے افراد ایک مستحب کے اہتمام کے چکر میں گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کسی کی عبادت اور ذکر میں خلل ڈالنا بھی ایک شیطانی فعل ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے تو قرآن مجید کی تلاوت بھی بہ آواز بلند کرنے سے منع فرمایا ہے بالخصوص رات میں اگر وہ دوسروں کی عبادت میں خلل کا موجب ہو۔ (دیکھیں مسند احمد، دارالسلام، رقم الحدیث ۶۶۳)۔ تو پھر یہ سحری کے بار بار لاؤڈ اسپیکروں پر کیے جارہے اعلانات کیسے درست ہوسکتے ہیں؟

اس لیے مسجد کمیٹیوں کے ذمے داران، ائمہ کرام اور مؤذنین حضرات سے گزارش ہے کہ وہ ان باتوں پر غور کریں، اس تعلق سے اپنے مقتدیوں کی بھی ذہن سازی کریں اور خدارا مسجدوں سے سحری سے متعلق ہونے والے اعلانات کو بند کریں کیوں کہ آپ جسے نیکی سمجھ کر کر رہے ہیں ، دراصل وہ لوگوں کی تکلیف اور خدا کی ناراضگی کا سبب ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عنایت کرے اور اس پر عمل کی بھی توفیق بخشے۔ آمین

You may also like