خداراان احتجاجات کومشرف بہ اسلام مت کیجیے!

نایاب حسن
پورے ملک میں این آرسی/سی اے بی کے خلاف احتجاج ایک پرزور آندھی کی شکل اختیار کرچکاہے،ایسا لگتاہے کہ اب یہ آندھی تھمنے والی نہیں ہے،یہ بل اب حکومت اور عوام کے درمیان آرپارکی جنگ میں تبدیل ہوسکتاہے۔اس کے خلاف ہندوستان ہی نہیں،عالمی سطح پر آوازیں اٹھ رہی ہیں،اقوامِ متحدہ سے لے کر انسانی حقوق کی تنظیموں تک کی طرف سے اسے ردکیاجارہاہے،فوری طورپر اس کے جواثرات مرتب ہوئے ہیں ان میں بنگلہ دیشی وزیر اور جاپانی وزیر اعظم تک کا دورہئ ہند ملتوی ہونا اور خود ہندوستانی وزیر داخلہ امیت شاہ کا اروناچل کا دورہ رد ہونا شامل ہے۔عالمی میڈیا میں کئی ایسی رپورٹس اور مضامین شائع ہوچکے اور ہورہے ہیں،جن میں اس بل کی قانونی و دستوری خامی پر پر زور بحثیں ہورہی ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ این آرسی اور مجوزہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج ابھی دوچار دن سے نہیں ہورہاہے،گزشتہ کئی مہینے سے ہورہاہے،البتہ اب سے ہفتہ بھر پہلے تک یہ شمال مشرقی ریاستوں آسام و تری پورہ و اروناچل وغیرہ میں ہورہاتھا اورجب سے پارلیمنٹ سے یہ بل پاس ہواہے،تب سے اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیل چکاہے اورکل سے تو اس کی شکل ایک تحریک کی ہوچکی ہے۔متعدد سیاسی تجزیہ کار اسے ایک نئی سول نافرمانی تحریک سے بھی تعبیر کررہے ہیں،گویاہندوستان کوایک بار پھر سسٹم کے مظالم و زیادتی سے آزادی کے لیے پوری قوت سے میدانِ احتجاج میں آنا ہوگااور ایسا لگ رہاہے کہ یہ ملک اس کے لیے بالکل تیار ہے۔اگر اپوزیشن کی کوئی مرکزی پارٹی مثلاً کانگریس اس تحریک کو تمام تر دستیاب طاقت و قوت کے ساتھ اٹھاتی ہے،توعین ممکن ہے کہ اس کے لیے زندگیِ نو کا سامان ہوجائے اور گزشتہ چھ سال سے جس سیاسی بن واس کااسے سامنا ہے،وہ ختم ہوجائے۔کانگریس کو غالباً اس کا ادراک ہے؛چنانچہ اس کی طرف سے آج رام لیلامیدان میں ”بھارت بچاؤ“ریلی کا انعقاد کیاگیاتھا،جس میں سونیاوراہل اور پرینکاسمیت دسیوں دیگر کانگریسی لیڈران اور ہزاروں کی تعداد میں عوام موجودتھے۔امید کی جانی چاہیے کہ کانگریس اسی عنوان سے یہ ریلی ملک بھر میں کرے گی اور شہریت ترمیمی بل کے نقصانات اور اس کے خطرناک مضمرات و عواقب سے اس ملک کے عوام کو روشناس کروائے گی۔یہ بل تو سرے سے گاندھی جی کے نظریہئ ہندوستان کے خلاف ہے،اگر آپ مذہب کی بنیاد پر کسی کو ہندوستان کا شہری بنائیں گے یا اسے ہندوستان سے نکالیں گے،تویہ تو ہندوستان کے آئین و دستور کی اساس کے ہی منافی ہے۔اسی چیز کوبنیاد بناکر ملک کے بیشتر حساس شہری،دانشوران اور سماجی کارکن احتجاج کررہے ہیں۔
چند دنوں سے مسلمانوں کے احتجاج میں بھی تیزی آئی ہے،خصوصاً علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دارالعلوم دیوبندوغیرہ کے طلبہ کے احتجاجات کے بعد عام مسلمانوں کے درمیان اس بل کے تعلق سے جاننے،سمجھنے اور پھر اس کی مخالفت کرنے کاماحول بناہے، کل جمعہ کی نماز کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں جمعیۃ علماے ہندنے بھی اپنے طورپر احتجاج کیا،جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں مولانا محمود مدنی بھی موجود تھے۔مسلمانوں کی طرف سے ہونے والے احتجاج میں ایک چیز جودیکھنے میں آرہی ہے اور وہ سراسر نقصان دہ ہے،وہ ہے خالص مذہبی جذباتیت کا اظہار اور احتجاج کے دوران نعرہئ تکبیر وغیرہ لگانا،گویاوہ کسی مذہبی میدانِ جنگ میں اترے ہوئے ہیں اور کفرواسلام کی معرکہ آرائی ہورہی ہے۔بھائی آپ تواحتجاج میں اب اترے ہیں،آپ سے کئی ماہ قبل سے تو غیر مسلم اس آگ میں کودے ہوئے ہیں، ذراشمال مشرقی ریاستوں کی خبر لیجیے،توپتاچلے گاکہ وہاں کے ہندوکس قوت اور بے خوفی کے ساتھ اس حکومت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔احتجاج کرتے ہوئے نماز پڑھنے کی جو تصویریں سوشل میڈیاپر وائرل ہورہی ہیں اور ان پر جو”ایمان افروز“کیپشنز لکھے جارہے ہیں،وہ مسلمانوں کی ایمانی حرارت کوبھلے ہی تازہ کرنے والے ہوں،مگر سوشل پلیٹ فارم پر جب یہ چیزیں آئیں گی،توموجودہ زہرناک سیاسی ماحول میں ان کا منفی اثر مرتب ہونابھی یقینی ہے اور عین ممکن ہے کہ ان احتجاجات میں ”مذہبی روح“پھونکنے کی وجہ سے دھیرے دھیرے ہم میدان میں تنہارہ جائیں اور معاملہ ہاتھ سے جاتارہے۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسے دسیوں سانحات رونما ہوچکے ہیں کہ ہم نے قومی،وطنی ودستوری ایشوز کومشرف بہ اسلام کردیااور اس کی وجہ سے ہمیں شرمناک ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ان موقعوں پر جذبات کی کھیتی کرنے والے بعض افراد اور جماعتوں کو توسرخیاں بٹورنے کا موقع مل جاتا ہے،مگر مجموعی طورپر مسلمان بری طرح پِٹ جاتے ہیں۔پس ہمارے ذہن میں یہ حقیقت اچھی طرح رہنی چاہیے کہ یہ بل صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے،کئی اعتباروں سے یہ ہندووں کے بھی خلاف ہے؛بلکہ یہ دراصل ہندوستان کی جمہوری روح،اس کی ہزاروں سال کی تہذیبی و انسانی روایت،گاندھی جی کے نظریہئ ہندوستان اورآزادہندوستان کے معماروں کے ذریعے تیارکردہ دستور کے خلاف ہے۔تمام تر احتجاجات اور احتجاجی نعروں کا زور اسی پر ہونا چاہیے۔یہ اسلام اور کفر کی جنگ ہرگزنہیں ہے،یہ جنگ اس بات کی ہے کہ ہندوستان ستر سال قبل اختیارکردہ سیکولرزم کی راہ پر چلے گا یامٹھی بھر فرقہ پرست اور تنگ نظرطالع آزماؤں کے ہاتھوں شکست کھاجائے گا!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*