خدا کی مدد یوں ہی نہیں آتی-عرشیہ انجم

ملک اور قوم کے موجودہ ناگفتہ بہ حالات سے میرا ذہن مفلوج اور دل مغموم ہے۔ ہر صبح اُداسی کا سورج طلوع ہوتا ہے اور ہر شام بے چینی اور بیچارگی کے تارے آسمان پر نکل آتے ہیں۔ ہر سمت ظالموں کی یلغار اور مظلوم کی آہ و بکا ہے۔ اس صورت حال میں ایک دردمند دل کا پریشان ہونا یقینی اور فطری ہے۔ ایک احتجاج ہمارے اندر جاری ہے اور ایک احتجاج باہر سڑکوں پر ہو رہا ہے۔ ہم ایک ایسے جنگ میں دھکیل دیے گئے ہیں جس کے لیے ہماری تیاری کچھ بھی نہیں اور دشمن اسلحہ اور ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ ہم بے بس ہیں اور خاموشی سے ظالموں کا خوراک بن رہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ کچھ لوگ ظلم کی مذمت کر رہے ہیں۔ سیکولر طبقہ کندھے سے کندھا ملا کر ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ ہمارے پاس لائحۂ عمل کی کمی ہے۔ ایک ٹھوس پلاننگ کا فقدان ہے۔ ہم تعداد میں اتنے کم نہیں ہیں کہ ظلم سہنے کو اپنا مقدر تسلیم کر لیں۔ ہماری قیادت اتنی کمزور بھی نہیں کہ اپنا شیرازہ بکھرتا ہوا دیکھتے رہیں۔ ہم اتنے مفلوک الحال بھی نہیں کہ تنگ دستی ہمارا دامن تھام لے۔ ہم تعلیم یافتہ بھی ہیں۔ ہمارے پاس اچھے اسکالر اور مفکر ہیں ۔تجارت کے میدان میں بھی ہمارے‌ قدم جمے ہوئے ہیں۔ مذہبی رہنما بھی ہماری صفوں میں ہیں اور سیاست کے ایوانوں میں بھی ہماری موجودگی صفر نہیں ہے۔
پھر کیا وجہ ہے کہ آج ہمیں ہر کوئی ہر جگہ ستا رہا ہے؟ہمارے لیے کوئی گلی، کوئی سڑک اور کوئی شاہ راہ محفوظ نہیں۔ کہیں بھی ایک بھیڑ جمع ہوتی ہے اور پھر دوسرے ہی لمحے میں وہاں ہماری لاش پڑی ہوئی ملتی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ مجھے کیا ضرورت ہے اتنا فکر مند ہونے کی۔ اللہ نے مجھے اچّھا گھر اور اچھی نوکری دی ہے۔ مجھے تو شکر ادا کرنا چاہیے اور خاموش زندگی بسر کرنی چاہیے۔ میں کیوں لب کشائی کروں موجودہ صورتحال پر؟ میں کیوں اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے کسی مصیبت کو دعوت دوں؟
لیکن میں کیا کروں۔ میں اپنے دل سے مجبور ہوں۔ میرے دل کے کسی گوشے میں چھپا کوئی آواز دیتا ہے۔ شاید وہ میرا ضمیر ہے۔ میں نے اپنے ضمیر کو مارنے کی بہت کوشش کی ہے۔ وہ بہت سخت جان ہے، میری ہزار کوششوں کے باوجود وہ نہیں مر سکا۔ وہ زندہ ہے اور مجھے کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہونے دیتا۔ میں جب بھی خود غرض ہونا چاہتی ہوں وہ مجھ سے کہتا ہے کہ کیا تم بےحسی اور خود غرضی کی اس منزل پر آگئی ہو کہ اب اپنے مخصوص دائرے کے تحفظ پر مطمئن ہو جاؤ؟ تم بھول گئی کہ تمہیں کیا تعلیم دی گئی ہے۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ظلم کے خلاف چپ رہنا بھی ظلم ہے۔ کیا تم نہیں جانتی کہ ظلم کے خلاف اگر کچھ کرنے کی طاقت نہیں تو کم از کم اس کا خاموش احتجاج کرنا چاہیے۔ کیا تم یہ بھی نہیں کر سکتی؟
مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ لیکن میں ہی کیوں؟کوئی اور کیوں نہیں بولتا۔ میں اگر بولوں بھی تو ایک اکیلا انسان کیا کر سکتا ہے۔ میرا ضمیر مجھے جواب دیتا ہے:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
ایک میں ہی نہیں، سب کو اپنی اپنی فکر ہے۔ ہر کوئی یہی سوچ رہا ہے کہ اگر وہ بولے گا تو مار دیا جائے گا۔ بس یہی وجہ ہے کہ لوگ خوف زدہ ہوکر گھر میں دبکے پڑے ہیں۔ سب کے سب زندہ لاش بن کر اپنے جسم کو ڈھو رہے ہیں۔ خوف کا بازار گرم ہے۔ ہر کوئی خوفزدہ ہے۔ ہر جگہ دہشت ہے۔ خوف اور نفرت کی اتنی آبیاری کی گئی ہے کہ اب ہر جگہ اسی کی فصل اُگ رہی ہے۔ ہمارے قائدین مفاد پرستی اور خودغرضی کی چادر اوڑھے اپنے خواب گاہ میں آرام فرما ہیں۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر کروڑوں میں سے ہزاروں مر جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں سوچتی ہیں کہ حکومت بنانے میں اب ہمارا رول نہیں رہا۔ ہمارے حق میں بولنا اپنے پیر میں کلہاڑی مارنا سمجھتے ہیں۔ ہم خوف میں رہیں گے تو ہمارے ڈر سے ان کو اپنی سیاست کی راہ ہموار کرنے میں آسانی ہوگی۔
اگر ایسے ہی ظالموں کا کھیل چلتا رہا اور ایسے ہی دشمنوں کے منصوبے کامیاب ہوتے رہے، تو کیا ہم محفوظ رہیں گے؟ تعداد کا کیا ہے، آج ہزار کی بات ہو رہی ہے کل لاکھوں کی بات ہو گی۔ لاکھوں سے کروڑوں کا سفر طے ہوگا اور پھر سب کی کہانی ختم ہو جائے گی۔ میری بھی کہانی اور آپ کی بھی۔ اگر کوئی بچ بھی گیا تو جانوروں کی طرح ظالموں کے پنجرے میں بند رہے گا۔ وہ نہ جی سکے گا اور نہ مر سکے گا۔ موت بھی ان کے ہاتھ میں ہوگی اور زندگی بھی۔

کتنی افسوس کی بات ہے کہ ہم کو اپنا سکھ اور آرام اتنا عزیز ہے کہ ہم ظلم پر خاموش ہیں۔ کہیں سے کوئی مضبوط آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ ایسی آواز کے ظالم کے کان پھٹ جائیں۔ ہم خاموش ہیں اور ظلم کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ہم پر خوف اتنا طاری ہو گیا ہے کہ ہم نے اپنی زبان سے بولنے کی طاقت چھین لی ہے۔ ہم بول سکتے ہیں لیکن ہم گونگے ہو گئے ہیں۔ ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم اس زبان سے ظالموں پر عذاب بھیجنے کے لیے دعا کریں۔ خدا نے بیٹھے بٹھائے اپنے محبوب کو نبوت عطا نہیں کی۔ 40 سال اخلاقیات کی مشق کرائی اور جب مخالفین کی بھی سند ملی تب نبوت عطا کی۔ نہ جانے کتنی مشقتوں، مشکلوں اور شہادتوں کے بعد ہمارے نبی نے اسلام کو زمین کے ہر خطے میں پہنچایا۔ ہم اُس کے رحم کی "فری ڈیلیوری” کیوں چاہتے ہیں؟ حق کی بالادستی کے لیے رسول کے نواسے نے اپنی شہادت پیش کر دی۔ محض کچھ بوند پانی کے لیے حضرتِ ہاجرہ نے پہاڑیوں کے چکر لگائے۔ خواب کی باتوں پر حضرتِ ابراہیم نے اپنی اولاد کی قربانی دینا چاہی۔ ہمیں اللہ کی مدد کیوں ملے گی جب کہ ہم ظلم کو ظلم کہنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ خدا کو کوشش پسند ہے، عمل عزیز ہے اور شہادت محبوب ہے۔۔
میں بھی قصوروار ہوں۔ میں بھی خاموش ہوں۔ خدا کی رحمت کی منتظر ہوں۔ میں سوچتی ہوں کہ اللہ کی کوئی مدد آئے گی۔ ظالم برباد ہو جائے گا اور ظلم رک جائے گا۔ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ میں بول رہی ہوں۔ چپ رہنے والوں!! سن لو!! تمہیں اللہ کی کوئی مدد نہیں آئے گی، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے۔ جو قوم خود اپنی حالت بدلنا نہیں چاہتی ہم اس کی حالت نہیں بدلتے۔ علامہ اقبال نے اسی بات کو اپنے ایک شعر میں اس طرح پیش کیا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)