خدا کی بستی میں:سفرنامۂ لاہور و اسلام آباد

تبصرہ:محمد انس مدنی

کل طبعیت میں اضمحلال تھا، سید شکیل احمد انور کی کتاب ’’رسول اکرمﷺ کی دعوتی حکمت عملی کے چند سیاسی وسماجی پہلو‘‘پڑھ رہا تھا،دس بارہ صفحات پڑھ کر ہی بند کردی، پھر مریم جمیلہ کی کتاب ’’ اسلام ایک نظریہ ایک تحریک ‘‘اٹھالی،اس کا پیش لفظ اور مقدمہ پڑھ کر اسے بھی بند کر دیاـ زوال تک وقت یونہی ضائع ہواـ سوچا کوئی دلچسپ کتاب پڑھتا ہوں جس سے ذہنی نشاط اور علمی ذوق وشوق کو بھی جلا ملےـ لائبریری میں کتابیں دیکھتے ہوئے ایک کتاب ’’خدا کی بستی میں: سفر نامۂ لاہور واسلام آباد ‘‘ پر نظر ٹک گئی کتاب نکالی ،مصنف کانام’’ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی ‘‘نےپڑھنےکے لیے آمادہ کر دیاـ
ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی علمی حلقے کا معتبر نام ہے، برصغیر پاک وہند دونوں میں یکساں مقبولیت کے حامل ہیں،ملکی و بین الاقوامی سمیناروں میں ان کی شرکت سمینار کی’’ کامیابی‘‘سمجھی جاتی ہےـ درجنوں کتاب کے مصنف ومترجم ہیں، مشہور کتابیں ’’ تاریخ دعوت و جہاد:برصغیر کے تناظر میں‘‘ ،’’جدید ترکی میں اسلامی بیداری‘‘ ،’’سید قطب شہید: حیات وخدمات ‘‘،’’قرآن مبین کے ادبی اسالیب“ ،’’مدارس اسلامیہ کی دینی ودعوتی خدمات‘‘ اور’’احیائے دین اور ہندوستانی علما: نظریاتی اور علمی جدو جہد ‘‘قابل ذکر ہیں ـ
یہ کتاب ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی کے دوسفرناموں پر مشتمل ہے،پہلا سفر انہوں مارچ ۱۹۸۸ میں اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے ’’اسلامی ریاست میں شوری کا تصور اور اس کی معاصر تعبیرات ‘‘ کے علمی مواد کی فراہمی کے سلسلے میں کیا تھا،اس سفر میں انہوں جن شخصیات سے ملاقتیں کیں اور جن مقامات کی سیر وسیاحت کی اسے بڑے دلچسپ ادبی اسلوب میں بیان کیا ہے،اس سفرمیں وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے مہمان تھے، ان کی غیر معمولی مہمان نوازی اور زندہ دلی کا خوبصورت پیرائےمیں تذکرہ کیا ہےـ
سفر کی روداد میں خرم جاہ مراد ،جا وید طفیل (فرز ند محمد طفیل ،مدیر نقوش لاہور)قائد اعظم لائبریری کی زیارت ، ڈاکٹر اسرار احمد ؒ، مدیر اشراق جاوید احمد غامدی ،مولانا امین احسن اصلاحی ؒ، ظفر اسحاق انصاری،نسیم حجازی اور ڈاکٹر انیس احمد سے ملاقات کا تذکرہ کیا ہےـ اس تذکرے میں ہر شخصیت کی زندگی کے مختلف گوشوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ان کی علمی وفکری کا کام خوبصورت احاطہ کیا ہےـ
دوسرا سفر اسلام آباد میں مارچ ۲۰۱۱ میں منعقد ہونے والے بین الا قوامی سہ روزہ ’’سیرت ‘‘سمینار میں شرکت کے لیے کیا تھاـ مصنف نے اس میں سیمینار کی روداد بھی قلمبند کی ہےـ اس سمینار میں پڑھے جانے والے مقالات کے عنوانات میں ’’غیر مسلم سیر ت نگار ‘‘،’’مقامی زبانوں میں سیرت نگاری ‘‘اور’’مستشرقین کی سیرت نگاری ‘‘ پر پڑھے جانے والے مقالات کا خصوصی تذکرہ کیا ہےـ
پہلا سفر جو مصنف نےمارچ ۱۹۸۸ میں کیا تھا اس کی روداد محض یاداشت اور ڈائری کی مدد سے ۲۳ سال بعد چند ہفتوں کے علمی اعتکاف کے بعد مرتب کی ہےـ
دوسرا سفرنامہ بھی تقریباََ ایک سال بعد مرتب کیا ہےـ اس سے مصنف کی بلا کی ذہانت اور یادداشت کا پتا چلتا ہےـ پہلا سفر جو انہوں نے علمی غرض سے کیا تھا اس سلسلے میں جن جن لوگوں نےتعاون اوررہنمائی کی اور جو جو کتابیں انہیں فراہم کیں،ان کی تفصیلات تک کا تذکرہ ہے _ کتابوں کے نام سن اور مطبع کے ساتھ درج ہیں ـ
یہ سفر نامہ زبان و بیان ، در وبست ، موضوع اور موادکے لحاظ سفرناموں کی فہر ست میں گراں قدر اضافہ ہےـ اس میں تاریخ و تذکرہ بھی ہے سوانحی خاکہ بھی ہےـ ادبی چاشنی بھی ہے ،سنجیدہ اور فکری موضوعات کا تذکرہ بھی ہےـ سفر نامہ اس قدر دلچسپ لگا کہ پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی گیا، اس کے سفر نامے کے ساٹھ ستّر صفحات محض اس لیے چھوڑ دیے تھے کہ آج پڑھوں گا تاکہ آج یہ لطف کچھ دیر اور باقی رہے،خیر یہ سفرنامہ دلچسپ معلومات سے بھر پور ہے اس کا مطالعہ قاری کے علمی ذوق وشوق کو جلا بخشنے میں بہرحال ممد ومعاون ہوگاـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)