خدا کرے کہ یہ غیرت باقی رہے!-ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی،حیدرآباد

کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب سے متعلق مقدمہ کی سماعت پھر ایک دن کے لئے ملتوی ہوگئی۔ فیصلہ جب بھی ہوگا‘ ہوگا۔ اگر حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا جاتا ہے تو یقینا یہ قابل قبول نہیں ہوگا اور سپریم کورٹ تک بات جائے گی۔ ویسے حجاب کے حق میں کرناٹک کے مشہور وکیل روی کمار ورما نے بہت ہی اچھی، مدلل بحث کی کہ جب پگڑی باندھے والے سکھوں کو، صلیبی لاکٹ پہننے والی عیسائی لڑکیوں، گلے میں منگل سوتر، ماتھے پر بندی، ہاتھ میں کڑا پہننے والی ہندو لڑکیوں کو نہیں روکاجاتا تو پھر آخر حجاب پر پابندی کیوں۔ مسٹر کمار کے دلائل اور ان کی دیانت دارانہ بحث سننے کے بعد اپنے آپ سے ایک سوال کرنے کو جی چاہتا ہے کہ کیا روی کمار ورما ہمارے ملک کے ہندو شہری ہیں۔ جو مسلم لڑکیوں اور خواتین کے حق کے لئے لڑرہے ہیں۔ فخر بھی ہوتا ہے اور اطمینان بھی کہ اب بھی میرے وطن عزیز میں حق بات کہنے والے انسانیت کی بنیاد پر مقابل کی طاقت کی پرواہ کئے بغیر ان سے لڑنے والے غیر مسلم بھائی موجود ہیں۔ بابری مسجد کا مقدمہ بھی مسلمانوں کی جانب سے مسٹر دھون نے ہی لڑا تھا۔ یہ حقائق اپنی جگہ‘ دوسری طرف اس بات کا بھی افسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس ان کے اپنے حق کے لئے لڑنے والے ان کا اپنا کوئی دمدار وکیل نہیں ہے۔ غیر مسلم ایڈوکیٹ ہماری مجبوری بھی ہے۔ اور وقت اور حالات کے لحاظ سے ضرورت بھی۔ کیوں کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران انصاف کی لڑائی لڑنے والے اپنے پیشے سے انصاف نہیں کرپا رہے ہیں۔ کیوں کہ ان کے ذہن زہر آلود کردیئے گئے ہیں۔ جس طرح سے آر ایس ایس کے پاٹھ شالاؤں میں ابتداء ہی سے مسلمانوں کے خلاف ذہنوں میں زہر بھرا جارہا ہے۔ وہ ایک وقت آنے پر اپنا اثر دکھاتا ہے۔ آج پولیس اور عدلیہ میں اس کا اثر دکھائی دے رہا ہے حتیٰ کہ فوج میں بھی ایسی شکایتیں مل رہی ہیں۔ اسے اتفاق کہا جائے یا ذہنیت کہ اکثر و بیشتر سابق فوجی سربراہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دوران سرویس بھی ان کے ذہنوں میں کس قسم کے خیالات پروان چڑھتے رہے ہوں گے۔
حجاب پر فیصلہ چاہے جو بھی ہو‘ یہ آگ پھیل چکی ہے۔ اور اگر ایمانداری اور سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک منصوبہ بند طریقے سے مسلمانوں کو حجاب کے مسئلہ میں الجھا دیا گیا ہے۔ میرا شخصی تاثر اور تجزیہ یہی ہے کہ اس تمام واقعات کے لئے ذمہ دار وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے طالبات کو حجاب پہن کر آنے سے کالج میں روکا اور وہ اڈپی کالج کا پرنسپل ہے۔ اس کے خلاف تحقیقات کروائی جانی چاہئے کہ اس نے اچانک یہ اقدام کیوں کیا۔ وہ کس کا آلہ کار ہے۔ اسے کس نے اس عہدہ پر فائز کیا۔ کیا وہ ہندوستانی رسم و رواج، مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے عقائد سے واقف نہیں۔ اگر اس کے خلاف تحقیقات کی جائیں تو اس کی کڑیاں یقینی طور پر سنگھ پریوار سے ملیں گی۔ حجاب کا تنازعہ ایسے وقت پیدا کیا گیا جب اُترپردیش جیسے اہم ریاست بی جے پی کا سیاسی مستقبل اور وقار داؤ پر لگا ہوا ہے اور ایک طرف یوگی دوسری طرف مختلف ریاستوں کے بی جے پی قائدین اناپ شناپ بکنے لگے ہیں۔ دراصل وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہیں نہ تو کچھ دکھائی دے رہا ہے نہ ہی کچھ سجھائی دے رہا ہے۔ ان کے دماغ اور زبان میں تال میل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرناٹک کا ایک ریاستی وزیر کبھی لال قلعہ پر زعفرانی جھنڈے لہرانے کی بات کرتا ہے اور تاویل یہ پیش کرتا ہے کہ آزادی سے بہت پہلے ہزاروں سے پہلے راجا مہاراجاؤں کے رتھوں پر زعفرانی پرچم ہی لہرایا کرتے تھے۔ کوئی بی جے پی لیڈر کہہ دیتا ہے کہ یوپی میں بی جے پی کو ووٹ نہ دینے والوں کے گھروں میں بلڈوزر چلایا جائے گا اس قسم کے بیانات کا مقصد ماحول کو گرمانا ہے۔ تاکہ جوش اور جذبات میں آکر لوگ بی جے پی کے حق میں ووٹ دے سکے۔ حجاب کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ یوں تو اس سے پہلے بھی ہندوستان کے بعض مقامات پر حجاب پر اعتراضات ہوئے تھے‘ مگر وہ معمولی نوعیت کے تھے۔ کرناٹک میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ کرناٹک میں مسلمانوں تعلیمی میدان میں کافی عرصہ سے بہترین مظاہرہ کررہے ہیں۔ شاہین جیسے اداروں نے جس طرح سے تعلیمی میدان میں خدمات انجام دیں‘ وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ کئی برس سے اس ریاست کے گورنمنٹ میڈیکل، انجینئرنگ، ایم بی اے کالجس کے زیادہ سے زیادہ فری سیٹ پر قبضہ کرتے ہیں۔ اور حجاب تنازعہ گورنمنٹ کالجس میں ہی شروع کیا گیا۔ بعض طالبات نے ایس ایس سی کے پری فائنل امتحانات کا بائیکاٹ بھی کیا ہے۔ انہیں یقینا خراج تحسین پیش کیا جارہاہے مگر سوال یہ ہے کہ جو خراج تحسین پیش کررہے ہیں ان کے اپنے بچے اگر بائیکاٹ کرتے تو ان پر کیا گزرتی۔ جو بھی ہو‘ ان غیور، خوددارطالبات کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی انشاء اللہ ان کا سال بھی برباد نہیں ہوگا کیوں کہ اگر پری ڈگری گورنمنٹ کالجس میں حجاب کے ساتھ امتحان دینے سے روکے جانے کا اندیشہ ہے تو اُن طالبات کو پرائیویٹ اسٹوڈنٹس کی طرح امتحان میں بٹھایا جاسکتا ہے۔امید ہے کہ یہ نوبت نہیں آئے گی۔ اور اس تنازعہ کی یکسوئی ہوجائے گی۔ ہونی بھی چاہئے کیوں کہ حجاب کے مسئلہ پر جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آخر ہندوستان میں کیسی آزادی ہے‘ ناگاسادھو مادر زاد برہنہ خواتین کے درمیان گھومتے ہیں‘ جین، اچاریہ مادرزاد برہنہ ہوکر ریاستی اسمبلی سے خطاب کرتے ہیں۔ خواتین کی حرمت کے نام پر اس قدر سخت قانون بنتا ہے کہ کسی لڑکی یا خاتون کو گھورنے پر بھی سزا ہوسکتی ہے۔ اور اسی ملک میں کوئی غیروں کی نظروں سے خود کو محفوظ رکھنے اپنی نسوانیت کے تحفظ کیلئے اپنا سر اور چہرا ڈھانکتی ہے تو اس پر اعتراض ہی نہیں‘ بلکہ اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔ یہ جاہل لوگ یہ کیوں بھول گئے کہ کرونا بحران کے دوران اور اس کے خاتمے کے بعد بھی چہرے پر ماسک کو لازمی کردیا گیا ہے۔ تاکہ خود کو بھی اور دوسروں کو بھی وائرس سے بچایا جاسکے۔یہی ماسک کا نقاب برقعہ یا حجاب کا ہو تو اس پر اعتراض کیسا۔ نقاب پر اعتراض کرنے والے پھر کووڈ سے بچاؤ کے لئے ماسک کی بھی مخالفت کرے۔ سر پر پلُّو تو خواتین کی پہچان ہی نہیں‘ ان کی شان بھی ہے۔سکھ بہنیں، گجراتی، مارواڑی (راجستھانی) بہنیں‘ جس طرح سے سر کے پلو سے خود کو چھپائے رکھتی ہیں‘ وہ قابل تعریف ہے۔
بے حجابی تو انگریزوں کی دین ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ مسلم لڑکیاں اور خواتین بھی نئی تہذیب اور ماڈرن اِزم کے نام پر خود کو بے حجاب کرنے لگی ہیں۔ ان کا حال دُم کٹی لومڑیوں جیسا ہے۔ کہ وہ دوسروں کو بھی اپنی تقلید کا مشورہ دیتی ہے اور مشرقی اقدار روایات کا پاس و لحاظ کرنے والی لڑکیوں اور خواتین کا مذاق اڑاتی ہیں۔ ان کے شوہروں میں اتنی غیرت اور ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی بیویوں پر کنٹرول کرسکے۔ بلکہ اکثر تو اپنی بیویوں کو شوپیس بناکر ساتھ رکھتے ہیں اور دوسروں کی ہوس بھری نگاہیں ان کی بیویوں پر پڑنے لگتی ہیں تو یہ اس خیال سے ہی خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز تو ہے جس کے قدر دانوں کی کمی نہیں ہے۔ایسی بے حیا، بیہودہ‘ صرف نام کی مسلم لڑکیاں اور خواتین کے مقابلے میں باحجاب لڑکیاں اور خواتین لائق تعظیم، احترام اور ستائش ہیں۔مجھے اپنے انوارالعلوم کالج کا دور یاد ہے‘ایک سے ایک شریر لڑکے ہوا کرتے تھے۔ جن سے پورے کالج کی ناک میں دم ہوا کرتا تھا۔ ہر ایک پر فقرے کسنا چھیڑ چھاڑ کرنا، ان کی کالج کی مصروفیات کا حصہ تھا مگر کوئی برقعہ پوش لڑکی گزرتی تو ان کی زبان بند ہوجاتی اور وہ واقعی ان باحجاب لڑکیوں کا احترام کیا کرتے تھے۔ آج بھی وہی حالات ہیں‘ محلوں کے نکڑوں اور چوراہوں پر اوباش اور منچلے نوجوان اب بھی نظر آتے ہیں۔ جو دس بار مارکھانے کے باوجود لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ اس لئے ختم نہیں کرتے کہ اسے وہ اپنا حق سمجھتے مگر یہی لڑکے برقعہ پوش لڑکیوں یا خواتین سے چھیڑچھاڑ نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی ان سے بدتمیزی کرتا ہے تو اس سے لڑنے مارنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ برقعہ یا حجاب کا غلط استعمال بھی ہورہا ہے۔ بہت ساری غیر لڑکیاں ا ور خواتین برقعوں کی آڑ میں بہت کچھ کررہی ہیں۔ حتیٰ کہ مسجدوں کے پاس‘ ٹریفک سگنلس پر غیرمسلم خواتین برقعہ پہن کر ا ور مرد ٹوپی اور لنگی پہن کر بھیک مانگ رہے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان خیر خیرات میں سب سے آگے ہے۔برقعہ اور ٹوپی دیکھ کر تو لوگ خیرات دیئے بغیر رہ نہیں سکتے برقعہ پہن کر دوسرے مذاہب کی عورتیں جسم فروشی بھی کررہی ہیں۔ اس سے برقعہ کی حرمت و عظمت متاثر ہورہی ہے۔ آج جس طرح ہم حجاب کے لئے اپنے حق‘ عظمت اور وقار کیلئے مقابلہ کررہے ہیں‘ کل ہمارے مخالفین برقعہ کا غلط استعمال کرنے والوں کا حوالہ دے کر ہمیں شرمندہ کرسکتے ہیں۔ اس پر بھی نظر رکھنی چاہئے اور خواتین کی این جی اوز یہ کام کرسکتی ہیں۔
کرناٹک کے بعد مدھیہ پردیش میں بھی فرقہ پرستی کا ماحول تیار کیا گیا ہے۔ حجاب پر پابندی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ کرناٹک میں تو ٹیچرس کے برقعے تک اُتروائے گئے۔ اس کے خلاف کاروائی کی جانی چائے۔ جس نے اس کی ہدایت دی‘ جس نے اس پر عمل کیا ان کے خلاف تحقیقات کرکے انہیں ملازمت سے برطرف کیا جانا چاہئے اِن حالات میں بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار کا یہ تیقن حوصلہ افزا ہے کہ بہار میں حجاب پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے اور کوئی بھی کسی بھی قسم کا لباس پہن سکتا ہے۔ نتیش کمار حالانکہ بی جے پی کے حلیف ہیں۔ مگر لگتا ہے کہ بی جے پی کا اثر ان پر نہیں ہوا۔کرناٹک میں اگر حجاب پر پابندی عائد ہوتی ہے تو کیامسلم طالبات تعلیمی سلسلہ ترک کردیں گی۔ گورنمنٹ اسکولس، کالجس میں داخلہ لینا بند کردیں گی جیسا کہ 1990ء کی دہائی میں جب وندے ماترم اور سوریہ نمسکار کا تمام تعلیمی اداروں میں لزوم کیا گیا تھا تو مولانا ابوالحسن علی ندوی مسلم بچوں کو سرکاری مدارس سے نکال دینے کی قوم سے اپیل کی تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تمام مسلم طلباء و طالبات لے سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہوگا۔اگرچہ کہ میرٹ میں پروفیشنل کورسس میں داخلہ لینے والے کرناٹک کو چھوڑ کر دوسری ریاستی بالخصوص تلنگانہ میں گورنمنٹ کالج کے مقابلہ میں مائناریٹی کالجس میں داخلے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں ماحول میں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا یہ اور بات ہے کہ گورنمنٹ کالجس میں میرٹ کی بنیاد پر ملنے والی سیٹ چھوڑنے کا مطلب کئی مستحق مسلم طلبہ کو داخلہ سے محروم کرنا ہے۔ کیوں کہ اگر وہ گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیتے ہیں تو مسلم مائناریٹی کالج کی سیٹ پر ایک اور مسلم امیدوار کو داخلہ مل سکتا ہے۔ گورنمنٹ کالج کی چھوڑی گئی سیٹ پر کوئی مسلم کو داخلہ ملے ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ کالجس، یونیورسٹیز کے کیمپس میں فرقہ پرستی بڑھ رہی ہے۔ یہاں مسلمانوں کو اپنا مقام بنانے غیروں کے دلوں میں جگہ پیدا کرنے کیلئے بہت محنت کرنی ہوگی۔ اعلیٰ اخلاق،بلند کردار، لب و لہجہ کی شائستگی سے نفرت اور دشمنی پوری طرح سے ختم نہ بھی ہوں تو اس کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔ ہم نے کوشش ہی نہیں کی۔ ہم پہلے اپنے کردار ا ور اخلاق کو پیش کریں اس کے بعد اپنے دین کی تبلیغ کریں۔ آقائے دوجہاں انے ایسا ہی کیا تھا۔ حجاب تنازعہ آج نہیں تو کل ختم ہوجائے گا۔اس تنازعہ نے مسلم لڑکیوں‘ خواتین کیساتھ ساتھ مردوں میں جو غیرت پیدا کی ہے اُسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*