خدا ہے ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

مجھے یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آتی کہ کوئی شخص کیسے خدا کے وجود کا انکار کرسکتا ہے؟ جب کہ کائنات کے ذرّے ذرّے میں ایسی نشانیاں پائی جاتی ہیں جو اس کا پتہ دیتی ہیں ـ

بعض لوگ فخریہ کہتے ہیں کہ وہ ملحد (Atheist) ہیں ، خدا کو نہیں مانتے _ مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ بات بغیر سمجھے بوجھے کہہ دیتے ہیں ـ وہ ذرا بھی غور نہیں کرتے کہ کتنی نامعقول بات اپنی زبان سے نکال رہے ہیں ـ

انسان اپنے ارد گرد پر ایک نظر ڈالےـ وہ جس مکان میں رہتا ہے ، کیا وہ خود بخود بن گیا؟ وہ جس بیڈ پر لیٹتا ہے ، کیا وہ خود بخود وجود میں آگیا؟ وہ جس صوفے پر بیٹھتا ہے ، کیا وہ خود بخود تیار ہوگیا؟ وہ جو کتاب پڑھتا ہے ، جس قلم سے لکھتا ہے ، جس کاغذ پر لکھتا ہے ، کیا وہ خود بخود ظہور میں آگیا؟ وہ جو کھانا کھاتا ہے ، کیا وہ خود بخود تیار ہوگیا؟ اگر ایسا نہیں ہے ، یہ تمام چیزیں اُس وقت وجود میں آئی ہیں جب کسی نے انہیں وجود بخشا ہے تو اتنی بڑی کائنات کیسے خود بخود وجود میں آسکتی ہے؟ عقل کہتی ہے کہ ضرور اس کے پیچھے کوئی ہستی ہے جس نے کائنات کی تمام چیزوں کو وجود بخشا ہے اور جیسے چاہا ہے وہ وجود میں آئی ہیں ـ وہ ہستی ہی خدا ہےـ

بعض لوگ کہتے ہیں : یہ تو فطرت (Nature) ہےـ کائنات کی تخلیق کے پس پردہ نیچر کارفرما ہےـ اس کے مظاہر نیچر کے اصولوں میں جکڑے ہوئے ہیں ـ یہ حضرات یہ نہیں سوچتے کہ نیچر سے خدا کے وجود کا انکار نہیں ، بلکہ اثبات ہوتا ہےـ سورج ہزاروں برس سے صبح نکلتا اور شام کو ڈوبتا ہےـ اس کی وجہ سے سلسلۂ روز و شب جاری ہےـ اس کے نکلنے اور ڈوبنے کے اوقات متعین ہیں ، ان میں منٹ ، بلکہ سیکنڈ کا بھی فرق نہیں آتا _ چاند سے مہینے اور سال کی تعیین ہوتی ہے _ اس کی رفتار میں بھی کبھی فرق نہیں آیاـ نباتات ، پیڑ پودوں اور کھیتی کے اگنے ، بڑھنے ، پھل اور غلّہ دینے کے جو ضابطے ہیں ان میں کبھی فرق نہیں آیاـ یہ چیزیں ایک ایسی ہستی کا پتہ دیتی ہیں جس نے کائنات کی ان چیزوں کو لگے بندھے اصولوں کا پابند کر رکھا ہے ، جن کی پابندی پر یہ مجبور ہیں ـ

خود انسان اپنی پیدائش میں غور کرےـ وہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ کیسے پلتا بڑھتا ہے؟ بچپن سے جوانی ، پھر بڑھاپے کے مراحل سے گزرتا ہے ، یہاں تک کہ موت کی آغوش میں جا پہنچتا ہےـ اس کے اعضائے جسم کیسے کام کرتے ہیں؟ وہ آنکھ سے دیکھتا ، کان سے سنتا ، ناک سے سونگھتا اور زبان سے آواز نکالتا ہےـ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی نے آنکھ سے سونگھنا ، کان سے بولنا ، ناک سے دیکھنا اور زبان سے سننا شروع کردیا ہو؟ انسان کے اندرونی اعضاء : معدہ ، جگر ، دماغ اور دل وغیرہ کو جو کام سونپے گئے ہیں وہ صدیوں سے انہیں انجام دے رہے ہیں ـ یہ کھلی نشانی ہے کہ کوئی ایسی ہستی ضرور ہے جس نے انسان کی تخلیق کی ہے اور اس کے اعضاء کو مخصوص کام سونپ دیے ، جن کی انجام دہی سے وہ سرتابی نہیں کرسکتے، وہ ہستی ہی خدا ہےـ

غرض خدا کے وجود کی کھلی نشانیاں کائنات کے ذرّے ذرّے میں پائی جاتی ہیں ـ آدمی ان نشانیوں پر غور کرے تو وہ ضرور اس تک پہنچے گاـ کوئی شخص لاکھ اپنے کو ملحد کہے ، لیکن اگر وہ ان نشانیوں پر غور کرے تو وہ ضرور خدا کے وجود کا قائل ہوجائے گاـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*