خدا بخش لائبریری کی عمارت کا متوقع انہدام کوئی گہری سازش تو نہیں؟! -صفدر امام قادری

بابری مسجد کا انہدام اور عدالتِ عالیہ کے نام نہاد انصاف کے بعد رام مندر کی تعمیر تک اگر ایسی کوششیں رک جاتیں تو ایک بات تھی مگر ملک کے الگ الگ حصوں میں ایسی کوششیں نظر آتی ہیں کہ ہندستان میں مسلمانوں کے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی آثار کو ملیا میٹ کرنے کا ایک معمولی سا بہانہ بھی حکومتِ وقت کے ہاتھ میں آجائے تو پھر دائیں محاذ کے کارندے اسے آخری منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔ بنارس کے گیان باپی مندر اور مسجد کے سلسلے سے عدالتی فیصلے پر ملک گیر بحث شروع ہی ہوئی ہے، اسی بیچ اخباروں میں یہ خبر گونجنے لگی کہ حکومتِ بہار کے محکمۂ تعمیرات نے عالمی شہرت یافتہ کتب خانہ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کو نوٹس جاری کیا ہے کہ پٹنہ کے گاندھی میدان سے این۔آئی۔ٹی۔ موڑ تک ڈبل ڈیکر فلائی اوور بنانے کے لیے خدا بخش لائبریری کی ایک عمارت کے بارہ پندرہ فٹ حصے کو توڑنے کی ضرورت پڑے گی اور اسی قدر احاطے کی زمین سامنے سڑک سے مزید لائبریری کی لی جائے گی۔ اس اطلاع کے ساتھ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ گورنمنٹ اردو لائبریری، جو ۱۹۳۸ء سے قائم ہے، اس کی آدھی عمارت بھی مسمار کی جائے گی اور اردو اکادمی کیمپس سے بھی زمین لی جائے گی۔
ابھی پچھلے ہفتے انگریزی کے ایک روزنامہ میں اس سلسلے کی پہلی خبر شایع ہوئی تو لوگوں کو یہ پتا چلا کہ حکومت اورخدا بخش لائبریری کے حکام کے درمیان تین مہینے سے زیادہ پہلے سے اس موضوع پر خط و کتابت جاری ہے۔ کمال یہ ہے کہ ان تین مہینوں میں خدا بخش لائبریری نے بھی اپنے چاہنے والوں کے سامنے اس مسئلے کو اجاگر نہیں کیا۔ لیکن جیسے ہی یہ بات اخبارات میں سامنے آئی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اور مختلف زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کے علمبردار اصحاب کے دل میں ایک گھبراہٹ پیدا ہوئی اور احتجاج کی صدائیں بلند ہونے لگی۔ سوال سادہ سا ہے کہ ۱۳۰؍ برس پرانے کتب خانے کی اور اس کے آثار کی بین الاقوامی حیثیت ہے، اسے حکومت کیوں چھیڑنا چاہتی ہے؟خدا بخش لائبریری کا وہ حصہ اس کی ضد میں آرہا ہے جس عمارت کی عمر ۱۱۶؍برس کی ہوچکی اور جسے لارڈ کرزن ریڈنگ روم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ نے اسے ہیریٹیج بلڈنگ کے طور پر تسلیم کررکھا ہے اور اس کا رکھ رکھائو اسی محکمے کی طرف سے ہوتا ہے۔ یوں بھی سو برس سے زیادہ پرانی عمارتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے عالمی سطح پر تہذیب و ثقافت کے ماہرین کا کھلا مشورہ ہے اور جسے بالعموم تسلیم کیا جاتا ہے۔ پٹنہ کے جس علاقے میں لارڈ کرزن ریڈنگ روم ہے، اس کے بعد دربھنگا ہائوس اور وہیلر سینیٹ ہال کے شامل پٹنہ یونی ورسٹی کا مرکزی دفتر بھی ہے۔ ان تمام عمارتوں کی عمر سو برس سے زیادہ ہے اور ان کی دیکھ ریکھ محکمۂ آثار قدیمہ کرتا رہا ہے۔
حکومتِ بہار بالخصوص نتیش کمار کی قیادت نہ جانے کیوں تاریخی آثار کی دشمن کے طور پر سامنے آتی رہی ہے۔ پٹنہ جنکشن کے پاس بانکی پور سنٹرل جیل تھی جس میں جنگِ آزادی کے صف اول کے مجاہدین کو انگریزوں نے قید کر رکھا تھا۔ دہائیوں سے الگ جیل بننے کے باوجود مختلف حکومتوں نے اس کی تاریخی حیثیت کے پیش نظر اسی طور پر محفوظ رکھا تھا۔ یوں بھی ایک صدی سے زیادہ پرانی وہ عمارت تھی۔ نتیش کمار نے اسے مسمار کرکے اس پر بدھ پارک بنایا اور آدھے ادھورے حال میں دلائی لامہ سے اس کا افتتاح کرایا۔ ایک صدی پرانا پٹنہ میوزیم اپنے ذخیرے کے اعتبار سے انڈین میوزیم، کلکتہ کا دوسرا روپ مانا جاتا تھا۔ اس کی عمارت کی ڈیزائننگ بھی انڈین میوزیم کے انداز کی ہوئی تھی۔ پہلے اس کے آثار کو ایک نام نہاد بین الاقوامی میوزیم بنا کر ٹرانسفر کیا گیا۔ ہزار کروڑ سے زیادہ روپے خرچ کرنے کے بعد اس کی حیثیت اسی قدر رہی جسے دیہی روزمرہ میں اس کوٹھی کا دھان اس کوٹھی میں کرنا قرار دیا جاتا ہے۔اگلے مرحلے میں ایک بڑا آڈیٹوریم بنانے کی تجویز کے ساتھ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ مرکزی شاہ راہ سے اس کے متصل مگدھ مہیلا کالج کا راستہ بند کر دیا جائے گا اور کالج آنے جانے والوںکے لیے پیچھے سے ایک راستہ بنایا جائے گا۔ وہ تو کہیے کہ کالج کی پرنسپل، اساتذہ اور طلبا سڑکوں پر چلے آئے اور انھوںنے ہڑتال کردی۔ حکومت کو ایک حد تک جھکنا پڑا ۔ اب دو چار برس کے بعد اسی سڑک اشوک راج پتھ کا اگلا آپریشن حکومت نے شروع کردیا ہے۔ پہلے مرحلے میں مسلم جماعتوں کو بے وقوف بناکر حکومت نے اپنا کھیل کھیل دیا۔ ۱۸۸۵ء کی تاریخی عمارت انجمن اسلامیہ جہاں جنگِ آزادی کے ہر دور کے صف اول کے رہنما عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے رہے، بعد کے دور میں جے پرکاش نارائن کی ۱۹۷۴ء کی تحریک کے بڑے اجلاس بھی اسی احاطے میں ہوئے، اسے مارکیٹنگ کمپلکس بنانے کے نام پر مسمار کردیا گیا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ وقف بورڈ کے عہدے داران اور حکام نے اس مرحلے میں کروڑوںکے وارے نیارے کردیے۔ اب اس سے آگے چار سو میٹر کی دوری پر کتب خانۂ خدا بخش ہے جو ۱۸۹۱ء میں اپنی ذاتی اراضی پر خدا بخش خاں نے قائم کی تھی اور جسے بعد میں مرکزی حکومت نے اپنے اختیار میں لیا ۔ اس لائبریری کا مقدر یہ ہے کہ پہلے ہی پشت کی طرف سے زمین کا ایک بڑا حصہ پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال نے ناجائز طور پر قبضہ کرکے ہمیشہ کے لیے لے لیا۔ اگلی کوششوں میں سڑک کی طرف سے پندرہ بیس فٹ کی زمین اور ایک عمارت کے نصف حصے کو لینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ فلائی اوور چوںکہ ڈبل ڈیکر ہے، اس لیے لائبریری کی عمارت کا جاہ و جلال قدم بوس ہوجائے گا۔ یوں بھی لائبریری کے مختصر تر حصۂ اراضی کو دیکھتے ہوئے ہر نیا آدمی تعجب میںمبتلا ہوتا ہے کہ اس بالشت بھر زمین پر دنیا کا عظیم کتب خانہ کام کررہا ہے۔ مرکزی ریڈنگ روم میں آسانی سے بیس پچیس افراد بھی نہیں بیٹھ سکتے۔ دنیا کے بڑے کتب خانے اور تحقیقی مراکز کو چھوڑیے، ہندستان کے دوسرے شہروں کے بڑے کتب خانوں کی عمارت اور راہ داری یا خالی حصے میں جو کشادگی اور کھلا پن ہوتا ہے، وہ یہاں پہلے سے ہی معدوم ہے۔ اب حالت یہ ہوگی کہ لائبریری کے اندرونی داخلے تک کسی سواری سے آپ نہ جاسکیںگے اور ایسا معلوم ہوگا کہ کتب خانے کا ریسپشن اشوک راج پتھ پر ہی آباد ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ خدا بخش لائبریری سے متصل گورنمنٹ اردو لائبریری اور بہار اردو اکادمی کا احاطہ ہے۔ جواہر لال نہرو کے ہم جماعت اور معروف مجاہد آزادی بیرسٹر سید محمود نے اپنی کوششوں سے زمین کا ایک بڑا خطہ حاصل کیا تھا اور ۱۹۳۸ء میں لائبریری قائم کی جسے اب گورنمنٹ اردو لائبریری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی لائبریری کی زمین کے ایک حصے میں حکومت بہار نے بہار اردو اکادمی کی عمارت بنائی۔ اب فلائی اوور کے نقشے میں گورنمنٹ اردو لائبریری کی آدھی عمارت آرہی ہے جسے توڑ دیا جانا ہے۔ یوں بھی اب وہ لائبریری اور وہ ساری زمین حکومت بہار کی تحویل میں ہے، اس لیے کسی اضافی اجازت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ حکومت آدھی کیا پوری لائبریری کو بھی مسمار کرسکتی ہے۔
پٹنہ شہر کی مرکزی سڑک اشوک راج پتھ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ گاندھی میدان کے بعد باقر گنج، سبزی باغ، دریاپور سے لے کر عالم گنج تک اور پھر وہاں سے پٹنہ سیٹی یعنی قدیم عظیم آباد یعنی مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کے آثار اس خطے میں قدم قدم پر محفوظ ہیں۔یہی علاقہ بعد میں جدید تعلیم کا مرکز بھی بنا۔ میڈیکل کالج، لا کالج، انجینئرنگ کالج اور پٹنہ یونی ورسٹی کے تمام تعلیمی مراکزقائم ہوئے۔ اسی سڑک پر مسلمانوں کی کوششوں سے عوامی اجتماعات کے لیے انجمن اسلامیہ ہال اور اپنی ذاتی کمائی سے مرحوم خدا بخش خاں نے ایک عوامی لائبریری کی ۱۸۹۱ء میں داغ بیل رکھی جسے بعد میں خدا بخش کی وفات کے بعد خدا بخش لائبریری کہا جانے لگا ۔ پھر ایک اور کتب خانہ گورنمنٹ اردو لائبریری کی بنیاد پڑی۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ اس کے آگے پانچ کیلو میٹر تک چلے جائیے، ہر چند کہ وہ مسلم آبادی کے لیے مخصوص ہے مگر تاریخی آثار کی اب کوئی چیز وہاں محفوظ نہیں۔ اس اعتبار سے بچی ہوئی ان عمارتوں کو اسی طور پر محفوظ رہنا لازم ہے۔ اگر آپ کا یہ ایمان ہے کہ پاٹلی پتر کے عہدِ جدید کا صرف نام عظیم آباد نہیں ہے بلکہ تین سو برس سے یہ ہند اسلامی تہذیب کا گہوارہ بھی ہے۔
خدا بخش لائبریری کے سلسلے سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کسی سازش کے تحت پانچ برس تک ڈائرکٹر کا عہدہ خالی رہا اور جب سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر عابد رضا بیدار جنھیں ۲۴؍برس تک اس ادارے کی کمان سنبھالنے کی ذمہ داری ملی تھی، اب ان کی صاحب زادی ڈاکٹر شائستہ بیدار ڈائرکٹر کی حیثیت سے سرفراز ہیں۔ انھوںنے تین مہینے تک اس بڑے مسئلے کو عوامی حلقے میں لانے سے گریز کیا ورنہ عین ممکن تھا کہ حکومت پہلے ہی کسی دوسرے راستے کی طرف جانے کے لیے مجبورہوتی۔ اقبال نے کبھی کہا تھا: کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی۔ ابھی یہی کیفیت ہے ۔ اردو عوام یا تہذیب و ثقافت کے دیوانوں کو مجتمع کرکے سڑکوں تک لے آنے کی سربراہی انھیں کرنی تھی۔ پورے ملک میں اخبارات سے لے کر سماجی ذرائع پر صاحبانِ دانش غم و غصے میں مبتلا ہیں۔ کاش! حکومتِ بہار اس کی تعظیم کرے اور فلائی اوور کے نقشے میں معمولی ترمیم کرتے ہوئے اس ہنداسلامی تہذیب کے آثار کو اور اتنی بڑی آبادی کے جذبات پر ہمدردانہ طور پر غور کرکے کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔
(مضمون نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں شعبۂ اردو میں استاد ہیں)