خدابخش لائبریری کے تحفظ کے لیے اہلِ اردوآگے آئیں:پروفیسرشہپررسول

نئی دہلی:ہندوستان ایک ایسا ملک رہا ہے کہ جس میں علم و ادب کی ہمیشہ قدر کی گئی ہے۔ جس ملک میں وید مقدس، دیوان غالب اور گیتانجلی جیسی کتابیں منظر عام پر آئیں۔ جہاں دنیا کی بہترین دانش گاہیں، لائبریریاں اور میوزیم موجود ہیں۔ ایسی عظیم الشان سرزمین پر علمی ذخائر کی بربادی اور کتب گاہوں کی مسماری بدترین بداعمالی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کو انسانی تاریخ کا گناہ عظیم تصور کیا جائے گا۔ زندہ قومیں اپنی علمی، ادبی اور تہذیبی وراثت کی حفاظت کرتی ہیں نہ کہ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری جیسے ایشیا کے نمائندہ کتب خانے کا انہدام کرتی ہیں۔ان خیالات کااظہارجامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردوکے صدرپروفیسرشہپررسول نے کیا۔انھوں نے کہاہے کہ تمام اہل دانش کو خواہ وہ کس بھی زبان اور ادب سے تعلق رکھتے ہوں، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کے انہدام کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور زبردست احتجاج کرنا چاہیے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ محترم نتیش کمار جی کی علم نوازی اور دانشمندی سے توقع ہے کہ وہ اس طرف خصوصی توجہ فرمائیں گے اور سرکاری اہل کاروں کے مذکورہ ارادے کو پایہئ تکمیل تک نہ پہنچنے دیں گے۔علم، ادب، تہذیب اور تاریخ کے خزانے کی بربادی کا تماشا دیکھنا کسی بھی اہل اقتدار کے لیے اپنے مسمار نامے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں امید ہے کہ نتیش کمار جیسے جہاں دیدہ شخص ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔