خود کو پائے بغیر خدا کو پانا مشکل ہے ـ مولانا عبدالحمید نعمانی

خود کو پانا سب سے بڑا مسئلہ ہے، خود کو پائے بغیر خدا کو پانا بھی مشکل ہے، خدا شناسی کا سفر خود شناسی سے شروع ہوتا ہے، معرفت نفس، معرفت الہی کا زینہ ہے، خالق قدیر کو باقی اور خود کو فانی جان لینا صحیح معرفت ہے، ابن عربی کے تصور وحدت الوجود اور اقبال کے تصور خودی کا اس کے سوا دوسرا مطلب، بھرم میں ڈالنے والا ہے، خود کو اور سب اشیا کو خدا سمجھ لینا، مقام عبدیت اور خدا کی وحدانیت و عظمت کے قطعی خلاف و منافی اور اپنے وجود کی بھی نفی ہےـ اس تصور نے غیر اللہ پرستی کی راہ ہموار کی ہے، نر کے نراین بننے اور گرو، باپ، شوہر اور بھگت کے بھگوان سے بڑا یا برابر ہونے کی بات سراسر مفروضہ، جسارت اور خدا کی عظمت و توقیر کے خلاف ہے، برہمن وادی سماج کی اس طرح کی باتیں، من گھڑت اور خود کو خدا کی جگہ رکھنے کی ناکام، مذموم کوشش اور ناسمجھی کی پیداوار ہیں، وحی الٰہی سے محرومی و دوری سے یہ حالات پیدا ہوتے ہیں، وحی الٰہی کے بغیر غیوب و روحانیات کے سلسلے میں اطمینان و ایقان پیدا نہیں ہو سکتا ہے، ایمان کے منافی وجدان کی کوئی حیثیت و قیمت نہیں ہے، نقل صحیح اور عقل تام و سلیم میں کبھی تصادم و تضاد نہیں ہو سکتا ہےـ
اپنے کو صحیح طور سے جانے بغیر دوسرے کو بھی صحیح طور سے نہیں جانا جا سکتا ہے ،ہندوتو وادی اپنی کمیوں اور ذمےداریوں کو دیگر پر ڈال کر وشو گرو نہیں بن سکتے ہیں، اگر ہم اپنے دین، اسلام کو برتر سمجھتے ہیں تو اس میں غلط کیا ہے،؟ سنگھ کے سابق سربراہ کے سی، سدرشن کا اعتراض معقول نہیں ہے کیوں کہ کسی بھی چیز کو اپنانے اور اس پر قائم رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی وجہ ترجیح ہونا ضروری ہے، کوئی کانگریس، بی جے پی، سنگھ، میں کیوں ہے، اس کی وجہ ہے، سب کو ایک طرح کہنا بالکل نامعقول نظریہ ہے، دین، دھرم اور شریعت، شاستر کے معاملے میں مکمل و محفوظ اور محرف و مسخ کی بات سب سے بنیادی ہے، توریت و انجیل اور ہندو گرنتھوں میں تحریف اور کمی و بیشی باتیں خود متعلقہ مذاہب والے تسلیم کر چکے ہیں اور کرتے ہیں ـ
رگ وید میں ناسدیہ سوتر جس میں مختلف جاتوں کے مختلف اعضا سے پیدا کرنے کی بات کہی گئی ہے، بعد کا اضافہ مانا جاتا ہے، مہابھارت میں ہری ونش پران پورا کا پورا بعد میں ملحق کیا گیا ہے، گیتا کی پوزیشن بھی مختلف نہیں ہے، مہابھارت کم از کم تین مرحلے میں، ساڑھے آٹھ ہزار، چوبیس ہزار، ایک لاکھ شلوک کے ساتھ موجودہ حالت تک پہنچی ہے، منو سمرتی کے متعلق تو آریا سماجی اور سناتن دھرمی دونوں ترامیم و الحاقات کو تسلیم کرتے ہیں، وہ ڈاکٹر امبیڈکر پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے الحاقی شلوکوں سے استدلال کیا ہے، ہمارے پاس گیتا کے دو اڈیشن ہیں، دونوں میں 45 شلوکوں کا فرق ہے، ایک اڈیشن میں 45 شلوک زیادہ ہیں ،اصل رامائن، والمیکی رامائن کے متعلق یہ مانا جاتا ہے کہ پہلا باب بال کانڈ اور ساتواں باب، اتر کانڈ بعد کا اضافہ ہے، ایسی حالت میں تمام مذاہب کے برابر اور ایک جیسے ہونے کا دعوٰی مبنی بر حقیقت و دلیل نہیں ہو سکتی ہے، ہر سال راون کو نذر آتش کرنے اور حج میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا معاملہ پوری طرح ایک جیسا نہیں ہے، اسلام میں بدی کے خلاف جدوجہد و مزاحمت ،عبادت اور خالق سے بندگی تک پہنچ گئی ہے، جب کہ رام لیلا میں راون کو نذر آتش کرنے کا معاملہ ابھی تک لیلا اور کھیل تماشے سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے اور غیر اللہ کا وجود، اصل خالق سے رشتہ بندگی تک رسائی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، اگر سنجیدگی و توجہ سے حضرات امام غزالی رح، شاہ ولی اللہ رح ، اسماعیل شہید رح ،امام نانوتوی رح کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو بہت سے امور مخفیہ کا انکشاف ہوگاـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)