خود کفیل معاشرہ کے لیے تجارت کی اہمیت-مولانا محمد شبلی القاسمی

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دنیا میں انسانی تقاضوں کے ساتھ پیدا کیاہے، ان تقاضوں کی تکمیل شرعی حکم اور عبادت ہے،ان میں کھانا پینا،پہننا اوڑھنا،سرچھپانے کا مکان علاج و معالجہ اور تعلیم و تعلم بھی ہے، اس لیے شریعت نے ان ضرورتوں کی تکمیل کے لیے نماز روزہ کی طرح کسب حلال کو بھی عبادت قرار دیا ہے، اورانسانوں کو اس کے حصول کے لیے تگ ودوکرنے کا پابند بنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :’’طَلَبُ کَسْبِ الْحَلالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ ‘‘(البیھقی ، مشکوٰۃ) دوسرے فرائض کی طرح حلال روزی کی طلب بھی فرض ہے، اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ ، قناعت پسند اورمتوکل بندے انبیاء علیہم السلام نے بھی حلال روزی کے حصول کے لیے تگ ودو کیا، محنتیں کیں، قرآن واحادیث میں اس کے تذکرے موجود ہیں، سید المرسلین ،امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چند قیراط کے عوض مکہ والوں کی بکریاں چرائی ہیں، جب بڑے ہوئے تو تجارت کا پیشہ اختیار کیا، غربت کی وجہ سے تجارت کے مطلوب سامان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالداروں سے ان کا سامان لےکر طے شدہ معاہدہ پر فروخت کرنا شروع کیا، تجارت کی غرض سے دوسرے ملک، شام بھی گئے، اس سفر میں سامان تجارت مکہ کی خدیجہ نامی ایک مالدارخاتون سے لیا، سفر حددرجہ منافع بخش رہا،جس سے متاثر ہوکر حضرت خدیجہ نے نکاح کا پیغام دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا اوران سے نکاح کیا، اہل مکہ بھی زیادہ تر تجارت پیشہ تھے، ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ تجارت تھی ،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے اصحاب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار مدینہ نے ایثار ووفا کی بے مثال تاریخ رقم کی، مہاجرین کے لیے اپنے اموال نثار کردیے اوران سے مواخاۃ قائم کی، لیکن مہاجرین صحابہ نے بھی ان کا اوران کے بال بچوں کا خیال رکھا اور اپنے انصاربھائیوں سے کہاکہ مجھے مدینہ کا بازار دکھادو،میں تجارت کرونگا، اس طرح اپنی اوراپنے بال بچوں کی پرورش کے لیے تجارت کے حلال عمل میں لگ گئے،بلکہ اکثر مہاجرین اصحاب رسولؐ نے مدینہ پاک میں تجارت کا مشغلہ اختیار کیا اورنہ صرف یہ کہ دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بچے ،حرام اور مشتبہ مال سے احتراز کیا بلکہ اپنے بال بچوں کی باعزت پرورش کی اورمعاشرہ کے غرباء اورمساکین کے کام آئے، اوررتجارت کے اس عمل کو اتنا پسندیدہ سمجھ کر اختیار کیاکہ معاشرہ میں تجارت کو عبادت کے طورپر دیکھا اور برتا جانے لگا، تاجروں کو احترام اور عظمت کی نگاہ سے دیکھنے کا عام ماحول بن گیا ، اورہاتھ پرہاتھ ڈال کر بیٹھے رہنے والوں کے لیے ماحول تنگ ہوگیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کردار و اقوال سے تجارتی عمل کی خوب پذیرائی فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے متعددمواقع پرسچے اور ایمان دار تاجروں کی تحسین کی ’’عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: التاجر الصدوق الامین مع النبیین و الصدیقین و الشہداء یوم القیامۃ ‘‘(رواہ الترمذی و الدارمی)ترجمہ:حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔ آپ نے صحابہ کو محنت کر کے اپنے دست و بازو سے رزق حاصل کرنے کی ترغیب دی اور دست سوال دراز کرنے کو نا پسند کیا، ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ألیَدُ العُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلیٰ‘‘ (بخاری و مسلم)دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں لکھاہے، جب بھی کسی نوجوان سے ان کی ملاقات ہوتی تو سب سے پہلے پوچھتے کمارہے ہو؟ کونسی تجارت ہے؟گر نفی میں جواب ملتاتو سخت ناراض ہوتے اور فرماتے ’’سقط من عینی ‘‘یہ میری نظر سے گرگیا،ان کے بارے ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں درج ہے ،یمن کے کچھ لوگ ایک جگہ جمع تھے، حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گذر ہوا توپوچھاتم لوگ کون ہو؟انہوں نے جواب دیا’’ نحن المتوکلون‘‘ ہم لوگ عبادت کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے لوگ ہیں، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا’’ کَذَبْتُمْ مَااَنْتُمْ مُتَوَکِّلُوْنَ اَلْمُتَوَکِّلُ رَجُلٌ اَلْقٰی حَبَّۃٌ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ تَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ ‘‘جھوٹ بول رہے ہو، تم لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر توکل نہیں ہے، توکل کرنے والے تو وہ ہوتے ہیں جو زمین میں دانہ بوکر اللہ تعالیٰ سے اسے پیداوار کے لائق بنا دینے کی دعا کرتے ہیں۔
حضرت امام احمد ؒ سے کسی نے پوچھاکہ ایک شخص ہے جو دن بھر بیٹھارہتاہے اورکہتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری مقدر میں جو کچھ لکھا ہے وہ مل کر رہے گا، حضرت امام احمد ؒ ناراض ہوگئے اورفرمایا ’’ھُوَ رَجُلٌ جَھْلُ اْلعِلْمِ ‘‘وہ آدمی مکمل جاہل ہے، آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نہیں پڑھی کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی روزی نیزے کی چھائوں میں رکھی ہے، چڑیا صبح کو اپنے گھونسلے سے خالی پیٹ نکلتی ہے اور روئے زمین پر پھیل کر اللہ تعالیٰ کی مقدر کردہ روزی تلاش کرتی ہے، اورشام کو پیٹ بھر کر گھونسلے میں واپس آتی ہے، وہ بھی سمجھتی ہے کہ گھر سے نہیں نکلوں گی تو پیٹ نہیں بھر ے گا۔(منہاج القاصدین )
حضرت شقیق بلخی اورحضرت ابراہیم بن ادھم ہم زمانہ بزرگ ہیںایک مرتبہ حضرت شقیق بلخی ؒاپنے دوست حضرت ابراہیم بن ادھم کے پاس آئے اور کہا:میں ایک تجارتی سفر پہ جا رہا ہوں ،سفر لمبا ہے اس لئے آپ سے ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا ہوں اس کے بعد حضرت شقیق بلخیؒسفر کے لیے نکل گئے چند ہی دنوں کے بعد حضرت ابراہیم بن ادھم نے حضرت شقیق ؒبلخی کو دوبارہ مسجد میں دیکھا۔پوچھا:’’آپ سفر پر نہیں گئے؟‘‘کہا:’’گیا تھا، لیکن ایک واقعہ دیکھ کر راستہ ہی سے واپس آگیاوہ واقعہ یہ ہے۔
’’ایک غیر آباد مقام پر پہونچاوہاں میں نے پڑاؤ ڈالا تو میں نے ایک چڑیا دیکھی جو اڑنے کی طاقت سے محروم تھی ۔مجھے اسے دیکھ کر ترس آیا،میں نے سوچا کہ اس ویران جگہ پر یہ چڑیا اپنی خوراک کیسے پاتی ہوگی ؟میں اسی سوچ میں تھا کہ ایک اور چڑیا آئی اس نے اپنی چونچ میں کوئی چیز دبا رکھی تھی ،وہ معذور چڑیاکے پاس اتری تو اس کی چونچ کی چیز اس کے سامنے گر گئی ،معذور چڑیا نے اس کو اٹھا کر کھالیا اس کے بعد آنے والی صحت مند چڑیااڑ گئی ۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا۔۔۔۔۔سبحان اللہ۔اللہ تعالیٰ جب ایک چڑیا کا رزق اس طرح سے اس کے پاس پہونچاتا ہے تو مجھے شہر در شہر رزق کے لیے پھرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ چنانچہ میں نے سفر روک دیا اور میں وہیں سے واپس چلا آیا کہ کو ئی کام نہیں کرونگا، فارغ بیٹھونگا، رزق اللہ تعالیٰ دے گا‘‘یہ سن کر حضر ت ابراہیم بن ادھم ؒنے فر مایا:’’شقیق !تم نے اپاہج پرندہ کی طرح بننا کیوں پسند کیا ؟تم نے یہ کیوں نہیں چاہا کہ تمہاری مثال اس پرندے کی سی ہو جو اپنے قوت بازو سے خود بھی کھاتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلاتاہے ‘‘حضرت شقیق بلخی ؒ نے یہ سنا تو حضرت ابراہیم بن ادھم ؒ کا ہاتھ چوم لیا اور کہا :ابو اسحاق !تم نے میری آنکھ کا پردہ ہٹا دیا ،وہی بات صحیح ہے جو تم نے کہی ہے۔
حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو تجارت کا پیشہ ترجیحی بنیاد پر اپنانا چاہئے ، موجودہ حالات میں معاشی مسائل کے حل کے لیے تجارت سب سے بہتر ذریعہ ہے ۔ علماء وائمہ حضرات بھی تجارت کو شجر ممنوعہ سمجھ کر ترک نہ کریں اورپورے طورپر امامت و تدریس کے وظیفہ پرمنحصر نہ ہو جائیں بلکہ خود کفیل بننے اور خود کفیل معاشرہ کی ماحول سازی کے لیے تجارت کا با برکت پیشہ اختیار کریں ،اس موضوع پر تقریر کریں پھر یہ کہ اس مہنگائی کے دور میں جتنا کم وظیفہ ملتاہے بسااوقات اپنے اوراپنے بچوں کی دوا،علاج اور ان کی تعلیمی اور دیگر ضروریات کی تکمیل مشکل ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ اسلام کی کس تعلیم اور ہدایت کے مطابق اپنے اوراپنے بچوں کو مشقت بھری زندگی گذارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، آپ کی شریعت نے اس پوزیشن میں رکھاہے یا آپ خود سے ہیں؟ تجارت سے کس نے منع کیا؟کس نے کہاکہ علماء وائمہ کے پاس اتنا مال نہ ہوکہ وہ غرباء کا خیال رکھ سکیں، صدقات وخیرات کرسکیں، مساجد ومدارس کی امداد کرسکیں ؟ شاید اس کا معقول جواب نہ بن سکے۔ عام لوگوں یا اپنے مقتدیوں کے طعن و تشنیع کا خیال کر کے اس اہم کام سے اپنے کو نہ روکیں، جو لوگ علماء اور ائمہ کو تجارت پیشہ نہیں دیکھنا چاہتے ، ان کی فکر سطحی اور غیر اسلامی ہے ، جس کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی کاموں کو انجام دیتے ہوئے کسب حلال کے لیے باعزت زندگی گذارنے ،دست سوال دراز کرنے کی ذلت سے بچنے ، حرام مال سے اجتناب کرنے ،اپنے بال بچوں اورمعاشرہ کے غریب لوگوں کی دیکھ ریکھ ا ور دیگر خیر کے کاموں کے لیے تجارت کا نیک عمل اختیار کیاجائے، دنیا کے بیشتر مسلم ممالک کے علماء اورائمہ حضرات تجارت کرتے ہیں،ماضی میں بھی علماء ،فقہاء،محدثین اور ائمہ مجتہدین نے بڑی بڑی تجارتیں کی ہیں ، خود امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تجارت ملک اور بیرون ملک میں پھیلی ہوئی تھی، ان کی سچی تجارت اسلام کے فروغ اوراس کی نیک نامی کا ذریعہ ثابت ہوئی، تاریخ و سیر کی کتابوں میں اس کے واقعات موجود ہیں، ہمارے ملک کی بعض ریاستوں ا ورعلاقوں کے علماء وائمہ الحمد للہ آج بھی تجارت کررہے ہیں، کیا وہ لوگ دین پر قائم نہیں ہیں؟، یا دین کی خدمت انجام نہیں دے رہے ہیں؟ کیا اس سے اسلام کی شبیہ خراب ہورہی ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں ، آخر فقہ کی کتابوں میں کتاب المضاربت ،کتاب البیع والشراء وغیرہ کن لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے؟ اس کے افہام و تفہیم پر ایک بڑا وقت استاد کی نگرانی میں کیوں لگایا؟ اورہم علماء کیا صرف یہ باتیں دوسروں کو بتانے کے لیے پڑھتے ہیں؟ اگر اپنے پاس تجارت کے لیے مطلوب رقم نہیں ہے تو مضاربت کی جائے، لوگوں کے مال لیکر تجارت کیجیے، کئی لوگ مل کر تجارت کھڑی کریں، لیکن میری درخواست ہے کہ ضرورکریں،اس سے قوم کا علماء پر اعتماد بڑھے گا،اور مقام بلند ہوگا،دین اور دعوت دین کا کام مزید آگے بڑھے گااور ہمارے سفید کپڑوں پر بھی انہیں انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کی نیت سے ہی قدم بڑھائیے، اللہ تعالیٰ برکتیں نازل کرے گا۔اہلِ ثروت حضرات کو بھی چاہیے کہ ائمہ، علماء اور بے روزگار نوجوانوں کو تجارت کے لیے مضاربت کے طور پر اپنا مال اور پونجی دیکر انہیں خود کفیل بننے میں معاونت کریں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)