کھلونے دے کے بہلایاگیا ہوں-محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

اس وقت ہمارے ملک کی حالت نہایت خستہ ہے، ایک طرف کوروناکی مارہے، جس کی حقیقت کیاہے؟ یہ ایک فلسفہ ہے ، نہ سمجھنے کانہ سمجھانے کا؛ کیوں کہ بہت سارے ڈاکٹرس یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک عام فلوکی طرح ہی ہے، جس میں مرنے کے چانس بہت زیادہ تو3%ہے، اس سے زیادہ نہیں، کچھ کہہ رہے ہیں کہ اس کے اس طرح اسٹیج ہوتے ہیں، جس طرح کینسراورہارٹ اٹیک کے ہوتے ہیں، ابتدائی مرحلہ میں تشخیص ہوگئی توکوئی مسئلہ نہیں؛ لیکن آخری مرحلہ جان ہی لے کر چھوڑتاہے، عوام کی رائے یہ ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے، بس عوام کوبے قوف بنایاجارہاہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ اس تعلق سے لوگوں کوکچھ تلخ تجربات بھی ہوئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کوروناکامریض صرف اسپتال ہی میں کیوں مرتے ہیں؟ اگریہ اس قدرجان لیوا بیماری ہے توگھرسے بھی جنازہ اٹھناچاہئے، پھرکئی لوگوں کے باڈیز کوجب کھولاگیاتوپورے جسم کاپوسٹ مارٹم کیاہواتھا، جس سے لوگوں کویقین ہے کہ کوروناکی آڑمیں اعضائے رئیسہ کی فروختگی کاکاروباربھی عروج پرہے، لوگوں کوڈرادیاجاتاہے کہ باڈی کھول کردیکھنا نہیں ہے اوراس کی آڑمیں یہ دھندہ بھی زوروں پرہے، باوجودیہ ہے کہ ڈبلو ایچ او کی جانب سے یہ کہا جا چکاہے کہ میت سے یہ بیماری پھیلتی نہیں ہے، بہرحال معاملہ جوبھی ہو؛ لیکن اس نے تباہی توخوب مچادی ہے۔

سب سے زیادہ تباہی غریب عوام پرآئی ہوئی ہے، جہاں یہ مزدوری کرتے تھے، وہ کارخانے ہی بند ہوگئے، اب بے چارے جائیں توکہاں؟ اورکریں توکیا؟ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں سے بہت ساروں کی نوکریاں چلی گئیں، اوروہ گھربیٹھ گئے، جب کہ بہت سارے وہ ہیں، جواس امید پرجی رہے تھے کہ آخری امتحان دینے کے بعد کہیں جاب میں لگ جائیں گے؛ لیکن نہ امتحان ہوتاہے اورناہی جاب ہی لگتی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ وہ ڈپریشن کے شکارہوچکے ہیں، نیچے کلاس کے بچے اپنی تعلیم کے ایک بڑے حصہ کوپکاکرکھاچکے ہیں، جوانھوں نے آج تک اسکول میں پڑھاتھا،جوپڑھا لکھا تھا نیازنے، اسے صاف دل سے بھلادیا، ان کے گارجین پریشان ہیں کہ اب ان بچوں کامستقبل کیاہوگا؟

ملک کی معیشت ڈانواں ڈول ہوچکی ہے، اس کی مثال توگرداب میں پھنسے اس کشتی کی مانند ہوگئی ہے، جواوب ڈوب رہی ہے ، اگرزورکاجھٹکالگے توسیدھے سطح آب پر، بیس لاکھ کروڑکابیکج توایساہی ثابت ہوا، جیسے ہرکھاتہ ہولڈرکے اکاؤنٹ کاپندرہ لاکھ، نوجوان توڑپھوڑپراتررہے ہیں، کل ہی توسہسرام ریلوے اسٹیشن پرتوڑپھوڑمچائی گئی، ظاہرہے کہ وہ ڈپریشن کے مریض بن چکے ہیں، کچھ بھی سکتے ہیں، کہیں بھی توڑپھوڑکرسکتے ہیں، اس صورت حال سے نمٹناحکومت کی ذمہ داری ہے؛ لیکن ہماری حکومت…! آہ! اس تعلق سے بڑی غیرذمہ دارواقع ہوئی ہے، اسے عوام کی بالکل بھی پرواہ نہیں ہے، اسے توبس اپنی حکومت چاہئے، اپنی ٹھاٹ باٹ چاہئے۔

ابھی کچھ دنوں قبل پی ایم صاحب کی تصویروائرل ہوئی تھی، وہ پرندوں کے ساتھ لطف اندوز ہورہے تھے، ایسے حالات میں انھیں لطف اندوزی کی سوجھ رہی ہے، جب ملک بندی کی گئی، اسی وقت یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ برسراقتدارپارٹی کی نگاہ میں دولت اور کرسی محبوب ہے،عوام کی حیثیت توان کی نگاہ میں ایک جانورکے برابربھی نہیں ہے، اورجانور کی بھی حیثیت ان کی نگاہ میں بس اتنی ہے کہ اسی کے ذریعہ سے ان کی سیاست کی روٹی چمکتی ہے ، ورنہ پارٹی اورذہنی طورپراس سے ہم آہنگی رکھنے والے افراد بیف اکسپورٹنگ کی بڑی بڑی کمپنیاں نہیں رکھتے، اس سے معلوم ہواکہ ان کی سوچ یہ ہے کہ کرسی اوردولت کے لئے کچھ بھی کیاجاسکتاہے، حتی کہ اپنے خاص کرتادھرتاکی بھی جان لی جاسکتی ہے اورماتاکی بھی بلی دی جاسکتی ہے۔

ملک کے لوگ اس وقت اپنی تمام ترپریشانیوں کاحل سنناچاہتے ہیں؛ لیکن وزیراعظم یاتوجان بوجھ کر، یاپوری پلاننگ کے ساتھ اس سے کتراتے ہیںاورایسی بات کرتے ہیں، جس سے لوگ بھنبھنا توسکتے ہیں؛ مگرکچھ کرنہیں سکتے، یا پھرکومیڈین سمجھ کرہنس کرخاموش رہ لیں گے، آدمی جب بہت زیادہ پریشانی میں ہوتاہے توبسااوقات ایک قسم کادورہ پڑتاہے، جس میں کسی چیزکااحساس ختم ہوجاتاہے، شایداب یہی حالت ہمارے ملک کی عوام کی ہوچکی ہے، یہی وجہ ہے کہ مسائل کے حل کے سمت کی طرف قدم نہ اٹھائے جانے کے باوجود بغیرکسی ٹینشن کے وہ جی رہی ہے اورمفت چاول پاکرخوش ہیں، بس بیٹ بھرنے کومل جارہاہے توبس یہ کافی ہے، یہ حالت اس وقت ہوتی ہے ، جب مسائل لامحدودہوں اوروسائل یاتوبہت کم یابالکل بھی نہ ہوں۔

ایسے وقت میں وزیراعظم صاحب ’’من کی بات‘‘ کرتے ہیں تولوگوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں کہ دیکھیں کہ چراغ میں سے کونساجن نکلتاہے؛ لیکن یہ کیا؟ حکومت نے تواپنے ہاتھ کھڑے کرلئے ہیں، بالکل اس طرح، جیسے پندرہ لاکھ میں کئے، جیسے روزگارکے سوال پرپکوڑے بیچنے کاروزگاردیاگیا، جیسے تعلیمی فیس کی کمی کی مانگ پرغنڈوں کے ڈنڈوں سے پوری کی گئی، جیسے جامعہ کے پرامن احتجاج کاجواب گولیوں کے ذریعہ سے دیا گئیا، جیسے پیاز کی قیمت کے بڑھ جانے کے سوال کاجواب یہ دیاگیاکہ ’’میں توپیاز نہیں کھاتی‘‘، اب پھرایساہی ٹکاساجواب دیاگیاہے۔

ایک طرف کوروناکے کیسیز (بقول ان کے )تھم نہیں رہے ہیں، دوسری طرف آج تک اس کے لئے کوئی قابل قبول حل تلاش نہیں کیاجاسکاہے، پی ایم کیئرفنڈ کے ذریعہ سے یہ تواعلان کردیاگیاکہ بہارمیں کوڈ-۱۹ کے دواسپتال کھولے جائیں گے؛ لیکن کیاآپ کواس اعلان پربھروسہ ہے؟ پھریہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ اعلان اس وقت کیاگیاہے، جب کہ بہارکے الیکشن کی تیاریاں چل رہی ہیں اوراس کے لئے ورچول ریلیاں بھی منعقد ہوچکی اورہورہی ہیں، کمال ہے صاحب! بڑے گرآتے ہیں، کب کس تھیلی سے کون سی بلی نکالنی ہے؟ یہ خوب پتاہے۔

اس وقت ملک کاہرباشندہ پریشان حال ہے، نہیں ہے توبرسراقتدارپارٹی، نیتا اوروہ افراد، جو ملک کی کم ازکم دوتہائی دولت پرکنڈلی مارکربیٹھے ہوئے ہیں، حکومت بھی ان کے سپورٹ میں ہے اورحکومت اب اپنی ذمہ داریوں سے آہستہ آہستہ سبک دوش بھی ہورہی ہے، ہرچیزکوپرائیوٹ سیکٹرمیں تبدیل کیاجارہاہے؛ تاکہ حکومت کوکچھ کرنانہ پڑے اورشاہانہ ٹھاٹ سے بس مزے ہی لوٹے، لوگوں کی پریشانیوں کاحل نکالنے کے بجائے اللے تللے مشورے دئے جارہے ہیں، اب مشورہ یہ دیاگیاہے کہ نئے تاجرین کھلونوں کی طرف توجہ دیں، یعنی توجہ بھی آپ ہی دیجئے، حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ دسیوں جگہوں پرفیکٹریاں قائم کرکے بے روزگاروں کوروزگارمہیاکرے؛ لیکن جب اس کی طرف دھیان ہو، یہاں توسوچ یہ ہے کہ جوکچھ کرناہے ، آپ کوخود کرناہے، حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، یہی توہے ’’آتم نربھر‘‘کافارمولا، سب کچھ خود کیجئے اوراپنی گاڑھی کمائی کاایک حصہ بطورٹیکس اداکیجئے، یہ آپ کی ذمہ داری ہے، ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کریں گے اورٹیکس بری طرح وصول کریں گے، ہمیں صرف لولی پاپ اورکھلونے دے کربہلایاجارہاہے، نہ تعلیمی پیش رفت ہے، نہ معاشی حل، یعنی عوام کوکالانعام رہنے دیاجائے ، ان سے بیگارکاکام لیاجائے اورنیتا اپنے بچوں کواچھی تعلیم سے آراستہ کریں، اچھی نوکریاں اوراچھے عہدے سب ان کے لئے، ہمارے لئے توبس پکوڑے اورکھلونے۔

سوچ کواگردیکھناہوتویہ دیکھئے کہ پی ایم کیاکہہ رہے ہیں: ’’میں اپنے نئے کاروباریوں سے کہتاہوں کہ آیئے بطورٹیم مل کرکھلونا بنائیں، اب وقت آگیاہے کہ ہرشخص کو لوکل کھلونوں کے لئے ووکل ہوناچاہئے، آیئے ہم اپنے نوجوانوں کے لئے اچھے معیارکے کھلونے بناتے ہیں‘‘(رابطہ ٹائمزدہلی، ۳۱؍اگست۲۰۲۰)، یعنی نوجوانوں کواب نوکری کی ضرورت نہیں ہے، ان کے ہاتھ میں کھولنے دئے جائیں اوروہ اپنے بچپن کویادکرکے کھیلیں، جب کھیل کرتھک جائیں توگلیوں پرشورمچاتے پھریں: ’’کھلونے دے کے بہلایاگیا ہوں‘‘، یہ ہے تازہ مشورہ، آب بھی نوٹ کریں، ہم نے توکردیاہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)