خواتین مسجد جاسکتی ہیں ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

خواتین کے مسجد میں داخلے کا مسئلہ نظری طور پر چاہے اختلافی ہو اور بعض لوگ اس کے جواز کی رائے رکھتے ہوں ، لیکن عملی طور سے اس بات پر تقریباً اتفاق پایا جاتا ہے کہ ان کا نماز کے لیے مسجد جانا درست نہیں، اسی لیے وہاں ان کے لیے کچھ بھی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں ـ عموماً ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ کوئی دین دار جوڑا مسجد کے پاس سے گزرتا ہے ، کسی نماز کا وقت ہو تو شوہر مسجد کے اندر جاکر نماز باجماعت ادا کرلیتا ہے ، لیکن عورت مسجد کے باہر بیٹھی انتظار کرتی رہتی ہے ـ اس کے لیے موقع نہیں ہوتا کہ وہ مسجد میں داخل ہوکر باجماعت یا الگ کہیں تنہا نماز پڑھ سکےـ ایسے میں اگر کوئی تحریر ایسی نظر سے گزرے جس میں خواتین کے مسجد میں داخلہ کی پُر زور حمایت کی گئی ہو ، اس کے فوائد بیان کیے گئے ہوں اور اس کے خلاف پیش کیے جانے والے دلائل کا رد کیا گیا ہو تو بہت خوشی ہوتی ہے ـ مولانا الیاس نعمانی کا کتابچہ "مساجد میں خواتین کی آمد:ایک تاریخی و فقہی مطالعہ”دیکھ کر ایسی ہی خوشی ہوئی ـ
مولانا الیاس نعمانی دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فارغ التحصیل ہیں ـ دینی اور سماجی موضوعات پر ان کی تحریریں برابر سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں ، جن سے ان کی سلامتئ فکر ، متانت اور اعتدال پسندی کا اظہار ہوتا ہےـ وہ ماشاء اللہ عملی میدان میں بھی خوب سرگرم ہیں اور رفاہی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں ـ مجھے ان سے محبّت اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ میرے مشفق استاذ اور مُحسن و مربّی مولانا محمد زکریا سنبھلی حفظہ اللہ کے ہونہار صاحب زادے ہیں ـ ان کی یہ تحریر پہلے سوشل میڈیا پر آچکی ہے اور پی ڈی ایف کی شکل میں بھی عام کی جاچکی ہےـ اب افادۂ عام کے لیے کتابچہ کی شکل میں بھی اسے طبع کردیا گیا ہےـ
یہ کتابچہ (30 صفحات) دو مباحث پر مشتمل ہے : ابتدا میں عہد نبوی سے اب تک اسلامی تاریخ میں خواتین کے مسجد میں داخلہ کی روایت پر روشنی ڈالی گئی ہےـ اس کے بعد اس موضوع کے فقہی پہلو سے بحث کی گئی ہےـ انھوں نے لکھا ہے کہ عہد نبوی میں خواتین پابندی سے مسجد جایا کرتی تھیں ـ وہ نمازوں میں شامل ہونے کے علاوہ مسجد میں ہونے والی تعلیمی سرگرمیوں میں بھی شریک ہوتی تھیں ـ عہد خلافت راشدہ میں بھی یہ معمول جاری رہاـ بعد کے ادوار میں مساجد میں خواتین کے حلقے لگتے تھے ، جن میں وہ حدیث کا درس اور وعظ و ارشاد کی خدمت انجام دیتی تھیں ـ بعد میں فقہا خواتین کے مسجد میں جانے کو مکروہ کہنے لگے ، بلکہ ان میں سے بعض نے تو مکروہ تحریمی تک کہہ ڈالا اور اس کا سبب ‘فتنہ’ کو قرار دیاـ مصنف نے بہت عمدہ اسلوب میں لکھا ہے کہ اسے نہ مکروہ تحریمی کہنا درست ہے نہ فتنہ کو اس کی بنیاد بنایا جاسکتا ہےـ فتنہ کا اندیشہ عہدِ نبوی میں بھی تھا ، لیکن اس کے باوجود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں مسجد میں آنے سے نہیں روکا ، بلکہ آنے کی اجازت دینے کے ساتھ ان کے تحفّظ کے متعدّد اقدامات کیے ـ آخر میں انھوں نے زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ مساجد میں پنج وقتہ اور جمعہ کی نمازوں کے علاوہ دینی پروگرام ، اصلاحی بیانات اور وعظ و ارشاد کی مجلسیں ہوتی ہیں ـ مساجد کے دروازے خواتین کے لیے بھی کھلے ہوں تو مردوں کی طرح وہ بھی ان سے فائدہ اٹھاسکتی ہیں ـ متعدد اسباب سے خواتین کی دینی تعلیم و تربیت میں کمی پائی جاتی ہےـ مساجد میں ان کی آمد کے مواقع فراہم کرکے اس کمی کی بڑی حد تک تلافی کی جاسکتی ہےـ
یہ کتابچہ وقت کے ایک اہم موضوع سے بحث کرتا ہے ـ ضرورت ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے ، تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں اور اصلاحِ معاشرہ میں مدد ملےـ اسے مکتبہ احسن لکھنؤ نے شائع کیا ہےـ قیمت : 40 روپے ہےـ مصنف سے رابطہ اس واٹس ایپ نمبر پر کیا جاسکتا ہے :
+91- 9005302800

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*