خواتین کی بہبود کے لیے قانون سازی،عالمی بنک نے سعودی عرب کوسرفہرست قرار دیا

ریاض:عالمی بنک کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی اور اصلاحات کے میدان میں نمایاں خدمات کی فراہمی کا اعتراف کرتے ہوئے سعودی عرب کو خواتین کی بہبود اور اصلاحات کے لیے کام کرنے والے ممالک میں سر فہرست قرار دیا ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے ملازمت اور کاروباری سیکٹر میں خواتین کے لیے قانون سازی اور انہیں زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کا اعتراف کرتے ہوئے مْملکت کو 100 میں 80 نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے حوالے سے اصلاحات کے میدان میں سعودی عرب 190 ممالک میں سر فہرست ہے۔عالمی بنک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے مسلسل دوسرے سال بھی خواتین کے لیے اصلاحات کے حوالے سے اپنا ریکارڈ برقرار رکھا ہے۔ رپورٹ کی تیاری میں نقل وحرکت، رہائش، روزگار، شادی، بچوں کی پرورش، ریٹائرمنٹ، اجرت کا حصول اور جائیداد جیسے 8 اشاریوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی حکومت نے خواتین کی نقل وحرکت کی آزادی، ملازمت کے مقام، کاروبار کوفروغ دینے، ریٹائرمنٹ اور اجرت کے حصول جیسے پانچ اہم پوائنٹ میں 100 فی صد نتائج حاصل کیے۔یہ رپورٹ سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی اصلاحات، قانون سازی، اقصادی ترقی میں خواتین کے کردار، علاقائی اور عالمی سطح پر خواتین کو مقابلوں میں حصہ فراہم کرنے کی اجازت دینے اور مملکت میں مردو خواتین کے درمیان مساوات کے اصول کو اپنانے کا واضح ثبوت ہے۔سعودی عرب کی حکومت نے 21 سال یا سے بڑی عمر کی خواتین کو آزادانہ سفری اجازت دینے، اپنے خاندان کے تمام ضروری کوائف خود تیار کرانے، مردو خواتین کی ریٹائرمنٹ کی مدت میں برابری، خواتین کو زیادہ سے زیادہ روزگار کی فراہمی میں مدد کرنے، ملازمت کے مقامات اور دفاتر میں خواتین کو امتیازی سلوک سے تحفظ فراہم کرنے جیسے حقوق فراہم کیے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ویڑن 2030 نے مملکت میں خواتین کے لیے اصلاحات کو آسان بنا دیا ہے۔ سعودی عرب میں ترقی کی علامت قرار دیے جانے والے ویژن 2030 میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ با اختیار کرنے کا اصول اپنایا گیا ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ منظر عام پرآنے کے بعد سعودی وزیر تجارت نے مملکت کی قیادت اور قوم کو مبارک باد پیش کی ہے۔