20 C
نئی دہلی
Image default
خواتین واطفال

خواتین قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے آگے آئیں

 

کامران غنی صبا

آج عالمی یوم خواتین ہے. سوشل میڈیا پر خواتین کے حقوق اور ان کی آزادی کے تعلق سے باتیں ہو رہی ہیں. میں ان مباحث میں پڑنا نہیں چاہتا. دنیا جہان کی عورتیں کیا چاہتی ہیں، ان کی کیا سرگرمیاں ہیں، گھر اور سماج میں ان کی کیا حیثیت ہے… ان تمام باتوں سے قطع نظر اس وقت میری گفتگو کا موضوع ہمارے گھر، خاندان اور آس پاس کی ویسی عورتیں، طالبات اور بچیاں ہیں جو ہم جیسے متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہیں، کسی قدر تعلیم یافتہ اور باشعور بھی ہیں اور کسی نہ کسی حد تک مذہبی ذہن و شعور بھی رکھتی ہیں. اب ذرا ایمانداری سے جائزہ لے کر بتاییے کہ ہمارے اور آپ کے گھروں کی خواتین میں سے کتنی عورتیں مذہبی، علمی، ادبی، سیاسی اور دیگر کسی بھی قسم کی تعمیری سرگرمی میں براہ راست طور پر حصہ لیتی ہیں؟ اگر ہم اس بات کے دعویدار ہیں کہ ہم مذہبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں تو اپنے گھروں کی عورتوں اور بچیوں سے بہت بنیادی سطح کے چند فقہی سوالات (عام زندگی سے متعلق) پوچھ کر دیکھ لیں،یقین جانیں چند ایک گھروں کو چھوڑ کر بیشتر جگہ محرومی اور مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا،اپنے گھروں کا جائزہ لے کر دیکھ لیجیے کہ کتنی عورتیں پابندی کے ساتھ اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرتی ہیں،ان کا سیاسی شعور کیسا ہے، ان کے اندر شعری و ادبی ذوق کس قدر ہے؟

ذرا تصور کیجیے کہ جب ہم اور آپ جیسے لوگوں کے یہاں صورت حال اس قدر افسوسناک ہے تو گاؤں دیہات اور کم تعلیم یافتہ گھروں کی عورتوں کی حالت کیا ہوگی؟

خواتین کی اس صورت حال کے ذمہ دار بہت حد تک باپ، بیٹا، بھائی اور شوہر کے روپ میں مرد حضرات ہیں جو اپنے گھر کی عورتوں کو باورچی خانہ اور بچوں کی پرورش سے آگے کسی کام میں دیکھنا ہی نہیں چاہتے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ جن گھروں میں عورتوں پر بے جا سختیاں اور پابندیاں عائد نہیں کی جاتیں ان گھروں کی عورتیں بھی اپنا اضافی وقت تعمیری کاموں میں لگانے کی بجائے ٹی وی سیریلز دیکھنے، اسمارٹ فون چلانے، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی شکایت کرنے، گھریلو سیاست کرنے اور ساس بہو کے جھگڑوں کی نذر کرتی ہیں.

عورتوں میں کام کرنے کا جذبہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے. وہ اگر چاہیں تو اپنے اضافی وقت کا صحیح استعمال کر کے قوم و ملت کی عورتوں اور بچیوں کے لیے بڑے کام کر سکتی ہیں. مثال کے طور پر:

گاؤں یا محلہ میں ہفتہ وار/ماہانہ نشست کا اہتمام. ان نشستوں میں درس قرآن، درس حدیث، علاقائی، قومی یا بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہےـ

اس پاس کی چھوٹی بچیوں کے لیے اردو/عربی/دینیات وغیرہ کا مکتب کھولا جا سکتا ہےـ

جو خواتین کسی طرح کا ہنر جانتی ہوں، مثلا سلائی، نقاشی وہ اس کی تربیت کا سنٹر بھی چلا سکتی ہیں ـ

مذہبی علم رکھنے والی عالمہ، فاضلہ خواتین تجوید قرآن، تدبر قرآن اور عورتوں کے فقہی مسائل پر مبنی شارٹ ٹرم کورس چلا سکتی ہیں ـ

کالج یونیورسٹی کی پڑھی ہوئی عورتیں روزانہ گھنٹہ دو گھنٹہ کار خیر کی نیت سے اپنے پاس پڑوس کی معاشی اعتبار سے کمزور طالبات کو ٹیوشن دے سکتی ہیں ـ

آج عالمی یوم خواتین کے موقع سے اپنے گھر کی عورتوں کو تیار کیجیے کہ وہ بھی قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے آگے آئیں اور اپنی استطاعت بھر کوشش شروع کر دیں. انہیں بتاییے کہ صحابیات رسول کس طرح اپنے شوہر، بچے اور اہل خانہ کے حقوق کو پورا کرنے کے بعد بھی دین کی ترویج و اشاعت کے لئے وقت نکال لیا کرتی تھیں. انہیں خواتین اسلام کی بے مثال خدمات سے واقف کرواییے. ان کے اعتماد کو بحال کیجیے. ان کے گھریلو بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کیجیے اور انہیں تیار کیجیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے قوم کی عورتوں اور بچیوں کو فیضیاب کر سکیں ـ

متعلقہ خبریں

Leave a Comment