خواتین اورجوانوں میں دینی شعور عام کرنا وقت کی اہم ضرورت:مفتی محمد سہراب ندوی

ویشالی:خواتین گھروں کانور اورجوان سماج کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان دونوں طبقے کے اندر جس قدر اسلامی طریقۂ زندگی کا شعور اوردین وایمان کی روشنی ہوگی اسی اعتبار سے ہمارا معاشرہ اسلامی تہذیب وتمدن کا آئینہ داراوردینی رنگ وآہنگ کا نمونہ بنے گا، موجودہ وقت میں فیشن پرستی اورمغربیت پسندی کے بڑھتے رجحان نے ہماری خواتین اورجوانوں کوخاص طورپر متاثر کیاہے، جوانوں کے رنگ وروپ اورطرز زندگی کا رشتہ اپنے مذہبی آداب وروایات سے ٹوٹتاجارہاہے، فیشن پرستی کی لعنت نے بے حیائی، بے پردگی اورآوارگی کو غیرمعمولی ہوادیاہے، نئی نسل پر والدین اورسماج کی گرفت بھی ڈھیلی پڑچکی ہے، اورمعاشرہ روز بروز خرابیوں میں ڈوبتاجارہاہے، تہذیبی ارتداد کا طوفان ہمارے دروازے کو دستک دے رہاہے، یہ حالات نہ صرف تشویشناک بلکہ بے حد خطرناک ہیں، ضرورت ہے کہ علماء،ائمہ اورسماج کے بااثرافراد اورگھروں کے ذمہ داران پوری فکرمندی کے ساتھ جوانوں اورخواتین کے اندر دینی شعور کو عام کرنے کی عملی کوشش کریں، ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانامفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب نے پہاڑپور ویشالی اور رسول پور میں امارت شرعیہ کے زیراہتمام منعقد ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ امارت شرعیہ اس سلسلہ میں مسلسل فکرمند ہے، اورحضرت امیر شریعت مدظلہ مختلف جہتوں سے اس اہم دینی ضرورت پر توجہ دے رہے ہیں،وفد امارت شرعیہ کا یہ دورہ ٔویشالی بھی انہیں اصلاحی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے طے پایا اورآپ اس وقت اس کے پیغام کو سن رہے ہیں۔امارت شرعیہ کے معاون ناظم جناب مولاناقمرانیس قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کی خدمات کا مفصل تعارف کراتے ہوئے آپسی اختلافات کو سب سے مہلک مرض قرار دیا اورکہاکہ جس طرح دلوں کا جوڑنا باعث ثواب ہے، اسی طرح دلوں کا توڑنا حرام اورباعث گناہ ہے، مولانا عبداللہ انس قاسمی معاون قاضی امارت شرعیہ نے اخلاق حسنہ اور حق وراثت کے موضوع پر خطاب کیا اورکہاکہ کسی وارث سے صرف زبانی حق چھوڑنے کی بات کہلوا لینا کافی نہیں بلکہ اس کا حق اس کے سپرد کرنے کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے اپنے حصہ کی چیز حوالہ کرے تب ہی جواز کی شکل بنے گی ورنہ نہیں، مولانا محی الدین رحمانی نے نظامت کی اورمولانا شعیب قاسمی صاحب نے نظم وضبط کیا،۳۰؍تاریخ کو دن میں فتحپوروتینڈامیں بھی اجلاس منعقد ہوئے۔