کھتولی کی شہید مسجد الجمیل کی حقیقت ـ مہدی حسن عینی

کھتولی مظفرنگر کی الجمیل مسجد تین روز قبل شہید کردی گئی،صورت حال کی تحقیق کے لیے احقر نے کوشش شروع کی،اس تعلق سے مسجد کے متولی اور ذمے داران کی یہ بات ہر جگہ وائرل ہوئی ہے کہ ان کے پاس کاغذات موجود ہیں.
قاضی نبیل چئیرمین کھتولی مظفرنگر کو میں نے کئی مرتبہ فون کیا لیکن انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا،گزشتہ شب سنی سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی صاحب سے میں نے طویل گفتگو کی
اور جو بات سامنے آئی، وہ یہ ہے:
مسجد الجمیل چند مہینوں پہلے ایک قبرستان کی زمین پر تعمیر کی گئی تھی اور وہ قبرستان کے نام پر وقف بورڈ میں درج ہے،مسجد الجمیل کی تعمیر سے پہلے نہ تو اس کے لیے وقف بورڈ سے اجازت لی گئی اور نا ہی شہری ترقیاتی اتھارٹی سے اس کی اجازت طلب کی گئی اور نا ہی میونسپل کارپوریشن سے اس کا نقشہ پاس کرایا گیا،کچی دیواروں کے ساتھ ٹین شیڈ ڈال کر نماز شروع کردی گئی اور ایک مکتب بھی شروع کردیا گیاـ
ایس ڈی ایم کے بقول اس مسجد کے غیر قانونی ہونے پر جو درخواست انتظامیہ کو موصول ہوئی تھی وہ بھی مسلمانوں کی طرف سے تھی
اور پولیس کے ساتھ مسلم سماج کے لوگوں نے مل کر اس عمارت کو منہدم کیا ہےـ
یہاں پر دو باتیں اہم ہیں:
مسجد کے خلاف شکایت خود مسلمانوں نے کی ہےـ اگر یہ سچ ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم بحیثیت سماج کہاں پہنچ چکے ہیں.
دوسری بات یہ ہے کہ بغیر نقشہ پاس کرائے جب ہم اپنا گھر نہیں بناسکتے تو ایسے مخدوش حالات میں مسجد کی تعمیر وہ بھی قبرستان کی زمین پر کہاں کی عقلمندی ہے؟جبکہ مذکورہ زمین میونسپل کارپوریشن کے دائرے میں واقع ہےـ
تیسری بات یہ ہے کہ اگر قبرستان کی زمین میں مسجد الجمیل کو دوبارہ تعمیر کرنی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے کمیٹی سنی سینٹرل وقف بورڈ سے قبرستان کی زمین پر مسجد تعمیر کرنے کی اجازت لے،
اجازت حاصل ہونے کے بعد شہری ترقیاتی اتھارٹی سے نقشہ پاس کراکے مسجد تعمیر کرائی جائے،نیز سردست چونکہ یہ زمین اب متنازع ہے اور عین ممکن ہے کہ حکومت اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے اس لیے کمیٹی کی جانب سے ایک رٹ الہ آباد ہائی کورٹ میں دائر کردیا جائے تاکہ فسطائی حکومت اس زمین پر قبضہ نہ کرسکےـ
اس تعلق سے ہم سے جو کچھ ہوسکے گا ضرور کریں گےـ ان شاء اللہ
آخری درخواست سبھی مساجد کے متولیان اور کمیٹیوں کے ذمے داران سے ہے کہ خدا کے واسطے مساجد کے کاغذات درست کرائیں،وقف بورڈ میں رجسٹرڈ کرائیں،ضلعی ترقیاتی اتھارٹی اور میونسپل کارپوریشن سے نقشہ پاس کرواکے پوری فائل محفوظ کرلی جائے،کیونکہ فسطائی حکومت نے اب مساجد اور مدارس کو ٹارگٹ کرکے اپنے مشن کو پانے کی کوشش شروع کردی ہے اور یہ سلسلہ اب دراز ہوگاـ