خانوادۂ حسنی کے عظیم فرد کی رحلت ـ عبدالمالک بلند شہری

آسمانِ علم و ادب کے درخشاں ستاروں کے ٹوٹنے کا سلسلہ پورے تسلسل کے ساتھ جاری ہےـ حالیہ دنوں میں جہاں مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی ممتاز ہستیوں نے دنیا دوں سے منھ موڑا ہے وہیں خود مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے بھی وابستہ شخصیات نے رحلت فرمائی ہےـ ممتاز شاعر مولانا رئیس الشاکری ندوی کی وفات کے معا بعد ندوۃ العلماء ہی کے معتمد مالیات جناب اطہر حسین بھی داغ مفارقت دے گئےـ ابھی ان صدموں سے پوری طرح سنبھلے بھی نہ پائے تھے اور آہ و فغاں کا سلسلہ تھما بھی نہ تھا کہ ایک اور غم انگیز خبر پردہ سماعت سے ٹکرائی اور بدن پر لرزہ طاری کرگئی ـ کئی ساعتوں تک تو یقین ہی نہ ہواـ انتہائی بے بسی کیفیت میں اس خبر وحشت اثر کی تصدیق ہوئی کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے نائب ناظم اور خانوادہ حسنی کے ممتاز فرد مولانا سید حمزہ حسنی ندوی بھی کاروان رفتہ میں شامل ہوگئےـ
مولانا حمزہ ندوی خانوادہ حسنی کے عظیم فرد تھےـ ان کے والد ماجد مولانا سید محمد ثانی حسنی ندوی (١٩٢٥-١٩٨٢) اپنے عہد کے ممتاز قلم کار اور شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی قدس سرہ (١٨٩٨-١٩٨٢) کے خلیفہ اجل و مجاز بیعت اور مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی قدس سرہ کے حقیقی بھانجے تھے ـ انھیں کے گہوارہ علم و عمل میں حمزہ حسنی صاحب کی ولادت 1950ء مطابق١٣٧٠ ھ میں ہوئی ـ ابتدائی تعلیم معہد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں حاصل کی جب کہ عالمیت و فضیلت کی سند دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے حاصل کی ـ آپ کے اساتذہ میں مولانا عبدالستار اعظمی قدس سرہ، مولانا سید رابع حسنی ندوی ،ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی مدظلہ سمیت کئی باکمال شخصیات شامل ہیں ـ ندوہ کے دوران قیام آپ نے مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی نور اللہ مرقدہ کی سفر و حضر میں خدمت کی اور ان کی خصوصیات اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی ـ ان کی طبیعت بنیادی طور پر تصوف و سلوک کی طرف مائل تھی. اس سلسلہ میں وہ مولانا زکریا کاندھلوی قدس سرہ کے میکدہ روحانی کے بادہ خوار تھے…ان کو اپنے دور کے بزرگوں سے بھی بڑی محبت و عقیدت تھی ـ مولانا احمد پرتابگڑھی قدس سرہ، مولانا قاری صدیق باندوی قدس سرہ اور مولانا ابرار الحق ہردوئی سمیت متعدد بزرگوں سے بھی ربط تھاـ حمزہ حسنی صاحب کے اندر پچپن سے ہی اپنے بڑوں کی عظمت کا احساس پنہاں تھاـ اسی وجہ سے وہ ہمہ وقت ان کی خدمت کرنے اور انھیں راحت پہنچانے کے مواقع تلاش کرتے تھےـ تبلیغی جماعت کے عظیم کارکن اور لکھنؤ کے صاحب نسبت بزرگ، صوفی انعام اللہ لکھنوی خلیفہ مجاز حضرت رائے پوری قدس سرہ کے مرض وفات میں آپ نے ان کی بہت ہی مخلصانہ خدمت کی تھی ـ صوفی صاحب آپ کی خاندانی خصوصیات اور روحانی کمالات سے خوب آگاہ تھےـ اسی لیے انھوں نے انھیں اپنی جانب سے سلاسل اربعہ میں اجازت و خلافت سے نوازا تھاـ مولانا حمزہ نے ان کے وصال کے بعد خود کو اپنے سسر اور خاندان کے بڑے و سرپرست مولانا سید رابع حسنی ندوی زید مجدہم کے تابع رکھا اور ان کی رہبری و رہنمائی میں دینی و انتظامی خدمات انجام دیں ـ مولانا رابع حسنی نے بھی ان کو اپنی طرف سے مجاز بیعت بنایا تھا…. حمزہ حسنی ص نے بھی مولانا نثار الحق ندوی کو اپنی طرف سے مجاز بناکر سلسلہ کی اشاعت کا کام کیا تھاـ
وہ اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد سے لے کر اپنے انتقال تک اردو رسالہ ماہنامہ رضوان کے مدیر بھی رہے تھے جس میں ان کی اصلاحی نگارشات تسلسل سے شائع ہوتیں اور لوگوں کو ان مضامین سے فائدہ ہوتاـ انھیں رفاہی و اصلاحی سرگرمیوں سے بھی دلچسپی تھی.اسی نیک مقصد کی تکمیل کے لیے آپ نے رائے بریلی میں مولانا سید ثانی حسنی ندوی سوسائٹی کے نام سے ایک رفاہی ادارہ قائم کیا جس کے تحت طالبات کے لیے جامعۃ ام المومنین عائشہ للبنات قائم کیا جو آج بھی ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے.اسی طرح آپ ندوہ کے ترجمان تعمیر حیات کے نگراں بھی تھےـ
وہ عرصہ تک دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مرکزی ذمہ داروں میں شامل رہےـ ایک عرصہ تک ناظر عام کے منصب پر فائز رہے پھر رئیس الفقہاء حضرت مولانا مفتی ظہور عالم ندوی سابق مفتی اعظم و نائب ناظم دارالعلوم ندوہ العلماء لکھنؤ (١٩٢٧-٢٠١٦) کے وصال کے بعد نائب ناظم کے منصب پر بھی انھیں فائز کردیا گیا تھاـ مرحوم بنیادی طور پر ایک خاموش مزاج اور کم آمیز بزرگ تھے. انتظامی معاملات کی تحلیل سے زیادہ انفرادی اصلاح پر توجہ دیتے جس کا اثر وہاں کے ماحول پر بھی ہوتا تھاـ
ان کے دور آخر میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں اختلاف رونما ہوا اور بدامنی و بدنظمی کی فضا بنی لیکن اس موقع پر بھی آپ اپنی افتاد طبع سے مجبور ہوکر میدان عمل سے دور رہے اور طلبا سے ملاقات کرکے، ان کی شکایتوں کو رفع کرنے کے سلسلہ میں کوتاہی برتی جس کی وجہ سے طلبا کی ایک بڑی تعداد کو ان سے شکایت بھی ہوئی لیکن میرا خیال یہ ہے کہ وہ محض وقتی تاثر تھا جو مرور ایام کے ساتھ دور ہوگیاـ سچی بات تو یہ ہے کہ ان جیسے قلندر مزاج اور فرشتہ صفت بزرگ سے انتظامی معاملات کے معاملہ میں اصلاح کی امید رکھنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے حسان بن ثابت سے نیزہ بازی و تیغ زنی کی امید کرنا لیکن ان سب کے باوجود ان کے اخلاص و خدمت انسانیت کے صالح جذبہ کی نفی کرنا ناممکن ہےـ
ان کی وفات سے بڑا قلبی صدمہ ہوا، خدا سے دعاء ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کے سسر اور امت کے جلیل القدر بزرگ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ کو صحت و عافیت سے رکھے ان کا سایہ دراز فرمائےـ