خاندان اسلام کے ‘آذر’ ـ یاور رحمن

ملا کو یہ زعم ہے کہ وہ دین کا عالِم ہے اور مسٹر کو یہ گھمنڈ کہ وہ دنیا کا جانکار ہے۔ سچ یہ ہے کہ دونوں ایک سخت خوش فہمی کا شکار ہیں اور یہی خوش فہمی جہل کا اصل سبب ہے۔ علم کے اصل محور و مرکز اور مخزن سے دور دونوں اپنے اپنے علم کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ البتہ ملا کو مذہب کا ایڈوانٹیج مل جاتا ہے۔ اسی کا فائدہ وہ اٹھا تا آیا ہے۔ آہ ! اس فائدے کے طوفان میں امّت کے کیسے کیسے مخلص داغدار کر دئے گئے !

وضاحت کرتا چلوں کہ ملا سے میری مراد صرف وہی علما ہیں جو مسلکی اور گروہی تعصب کے علمبردار ہیں۔ اب چاہے وہ نام ہزار گز کا کیوں نہ ہو۔

اکثر علما کی عادت ہے کہ وہ مسلمانو ں کو علما کی عظمت و فضیلت سمجھاتے رہتے ہیں۔ پتا نہیں انہیں اسکی ضرورت کیوں پڑتی ہے ؟ حالانکہ اگر وہ ‘علما’ کی فضیلت سمجھانے کے بجاۓ علم کی فضیلت سمجھاتے تو یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

یہ بات سہی ہے کہ اللہ‎ کی عدالت میں کوئی یہ کہکر نہیں بچ سکے گا کہ ‘مجھے معلوم نہیں تھا’ ۔ جیسے دنیا میں کوئی مجرم عدالت میں یہ کہکر نہیں بچ سکتا کہ اسنے قانون کی کتاب پڑھی ہی نہیں تھی ، اس لئے اس سے یہ جرم سرزد ہو گیا۔

بلکہ قبر میں ہونے والے بنیادی سوالات کا جواب دے دینے والے شخص سے اس کے source of knowledge کے بارے میں بھی پوچھا جاۓ گا۔ اور ناکام شخص سے یہی پوچھا جاۓ گا کہ اسے دنیا میں ان سوالات کے جوابات ہر ممکن صورت میں مہیا کرا دئے گئے تھے، تو اس نے ان سے آنکھیں موند لی تھیں اس لئے آج اس انجام کو پہنچا ہے۔

وہاں یہ سنی سنائی باتوں سے کام نہیں چلے گا۔ مولوی صاحب ، شیخ صاحب اور پیر جی سے سنا ہوا علم قبر میں ہی مصیبت کا ناگ بن کر نمودار ہوگا۔ پھر وہاں کوئی کام نہیں آ پاۓ گا۔ اس لئے لازم ہے کہ چار دن کی ملازمت اور تنخواہوں کے لئے اپنے اندر professional qualification پیدا کرنے کی جیسی جی توڑ کوششیں ہم یہاں کرتے ہیں، ان سے زیادہ کوشش، توجہ اور محنت اس دنیا کی کامیابی کے لئے کرنے کی ضرورت ہے جس کے بارے میں ہمارا ایمان و عقیدہ ہے کہ وہی اصل اور کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔

اب اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے تو دل پہ ہاتھ رکھ کے سوچے کہ آخر کیوں ممکن نہیں ہے ؟ دنیا کے مشکل ترین موضوعات کو اسکول سے لیکر یونیور سٹی تک سمجھا جا سکتا ہے پھر قرآن و سیرت کیوں نہیں ؟ دنیا کی ہر زبان سیکھی جا سکتی ہے تو عربی کیوں نہیں ؟ دنیا کی تاریخ پڑھی اور سمجھی جا سکتی ہے تو اسلام کی تاریخ و تہذیب کیوں نہیں ؟ دنیا میں مشکل سے مشکل سبجیکٹ پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے مگر صرف اللہ‎ کی کتاب ہی ایک کتاب ہے جسے سمجھا نہیں جا سکتا ؟

دنیا کے جز وقتی ہیروؤں کی biographies پڑھی جا سکتی ہیں اور رسول اللہ‎ کی سیرت معاذاللہ اس لائق بھی نہیں ؟؟؟ صرف جمعہ کے خطبوں ، جلسوں، میلادوں اور سیمیناروں میں انہیں سنکر ہم اپنے اصل قائد و رہنما کو سمجھ لینگے ؟ یہ خیال اگر دل میں ہے تو سمجھ لیجئے کہ آپ کے اندر ایک گستاخ رسول بیٹھا ہوا ہے اور خود آپ کے وجود کے اندر قرآن کی عظمت اور اس کی ضرورت کا ایک منکر چھپا بیٹھا ہے!

سچ یہی ہے کہ ہم نے خود بھی کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور ملا بھی صرف درس نظامی سمجھتا اور سمجھاتا رہا، خود اسنے بھی دین کو صرف مدرسے کا نصاب سمجھ کر پڑھا۔ قرآن کو تو اس نے بھی ٹھیک سے نہیں سمجھا۔ بلکہ اسے علم الکلام کا اکھاڑہ بنا رکھا ہے۔

اسی لئے امت مسلک اور عقیدے کے جھگڑے میں آج تک پڑی ہوئی ہے ۔ اور انہیں بانٹنے والے مذہبی رہنما انکے دلوں میں اللہ‎ اور اس کے رسول صل اللہ‎ علیہ وسلم کی محبّت کوٹ کوٹ کر بھرنے کے بجاے مولوی اور پیر و شیخ کی عظمت اور فضیلت بھر رہے ہیں۔ انکے دلوں میں قرآن کی عظمت بٹھانے اور انکے اندر قرآن فہمی کی پیاس پیدا کرنے کے بجاۓ انہیں اپنے مسلک و منہج کی کتابوں سے باندھتے ہیں۔ گویا ان سے کہتے ہیں کہ تمہاری جنت کا راستہ ہمارے دار العلوم سے گزرتا ہے۔ اپنے نام نہاد اداروں، جماعتوں، جمیعتوں اور دار العلوموں کی ‘عظیم خدمات’ کی رٹ لگاتے ہیں ۔ یعنی یہ خاندان اسلام کے ‘آذر’ ہیں جو اپنے تراشے ہوئے بتوں کو فرزندان اسلام کا ‘خدا’ بنا رہے ہیں۔

اور یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ مولوی بھی کتاب ھدایت کے اصل روحانی استفادے سے محروم ہے۔ قرآن توحید اور رسالت کی دلیل ہے، لیکن آج علما کی غالب اکثریت نے اسے بہر تجارت اپنی قابلیت کی دلیل بنالیا ہے اسلئے انکی زبان سے وہ سب نہیں نکل پاتا جو اس کتاب ہدایت کا اصل اعجاز ہے۔ بھلا قرآن کو سمجھنے والا کبھی اپنے علم و تقویٰ کے فریب میں مبتلا ہو سکتا ہے؟ اور کیا وہ اس قدر تنگ دل، تنگ ذہن اور تنگ نظر ہو سکتا ہے جتنا آج ہم اپنے ‘بڑوں’ کو دیکھ رہے ہیں ؟؟؟

مدرسے کے یہ %٩٩ علما دنیا کے معاملے میں اتنے ہی جاہل اور لا علم ہیں جتنے انگریزی تعلیم یافتہ لوگ دین کے علم و فہم سے بے خبر اور جاہل ہیں۔

قرآن ام الکتاب ہے، زندگی کے صرف پانچ سال اس پر لگا کے دیکھئے، اسے سمجھنے کی کوشش کیجئے، پھر دیکھئے کہ علم کا یہ سمندر (قرآن پاک ) آپ کو علم کے موتیوں سے کیسے سجا دے گا۔ مدرسے کے فارغین کے لئے یہ راہ تو اور بھی آسان ہے۔

خدا کی قسم ! دین و دنیا کی کامیابیوں کے تمام راستے اسی کتاب ہدایت کی رہنمائی میں ملیں گے۔ مولوی ہو یا مسٹر ، جو اس کتاب کو پکڑے گا، کامیابی اسے ہی ملے گی!!!

  • علی عبداللہ
    26 ستمبر, 2020 at 12:23

    بہت جذباتی تحریر ہے جس میں نہ تو قرانی کے روحانی استفادے کا طریقہ بتایا مصنف نے اور نہ ہی یہ بتایا کہ 99٪ علماء اگر اصل روح سے بے بہرہ ہیں تو پھر عام آدمی کس سے سیکھے؟ 5 سال لگائے تو کیسے اور کس کے پاس؟ جزباتی تحریر لکھ دینا بہت آسان ہے مگر عملی طو رپہ مسئلے کا حل بتانا مشکل

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*