Home قومی خبریں خان لطیف خان کو اردو یونیورسٹی کا خراج،اردو صحافت رجحان ساز مدیر سے محروم:پروفیسر رحمت اللہ و پروفیسر محمود صدیقی

خان لطیف خان کو اردو یونیورسٹی کا خراج،اردو صحافت رجحان ساز مدیر سے محروم:پروفیسر رحمت اللہ و پروفیسر محمود صدیقی

by قندیل

حیدرآباد:مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی کے وائس چانسلرانچارج پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے خان لطیف محمدخان‘ ایڈیٹرانچیف روزنامہ منصف‘ حیدرآ باد کے سانحہ ارتحال پر اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے تعزیتی پیام میں موصوف کی اردو صحافت کے لیے گراں قدر خدمات کو خراج پیش کرتے ہوئے انہیں رجحان ساز مدیر قرار دیا اور کہا کہ روزنامہ منصف کے احیا کے ذریعے مرحوم نے اردو صحافت کو نئی سمت عطا کی۔ جناب خان لطیف خان نے اردو اخبارات کو ملٹی کلر اشاعت سے آراستہ کیا اور مختلف موضوعات پر ہفتہ واری سپلیمنٹ کا آغاز کیا۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود‘ رجسٹرار انچارج نے اپنے تعزیتی بیان میں اردو یونیورسٹی سے مرحوم کے تعلق خاطر کا تذکرہ کیا۔ 2006 میں یونیورسٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر وہ بحیثیت مہمانِ خصوصی شریک ہوئے اور لیکچر دیا۔ مرحوم نے پیشہ ور اردو صحافیوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ وصحافت کے ٹاپرس کو خان لطیف خان گولڈ میڈل دینے کا آغاز کیا تھا ۔ جناب خان لطیف خان نے بالخصوص اردو یونیورسٹی کے ابتدائی ایام میں جس انداز میں یونیورسٹی کی خبروں کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرتے ہوئے غیر معمولی تعاون کا مظاہرہ کیا وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ تعاون کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ پروفیسر رحمت اللہ اور پروفیسر محمود صدیقی نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے غمزدہ ارکانِ خاندان و منصف ارکان سے دلی تعزیت ظاہر کی۔

You may also like

Leave a Comment