خالد محمود اور ان کی’ شعر زمین‘-رضوان الدین فاروقی

خالد محمودہمارے سرونج کے وہ گل سرسبد ہیں جن کی دلکشی اور مہک پوری اردو دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بحیثیت صدر شعبۂ اردو سبک دوش ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہمکتبہ جامعہ کے مینجنگ ڈائریکٹر رہے،دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئر مین رہے اور آج بھی بہت سے ادبی اور سماجی اداروں سے وابستہ ہیں۔ان کی اب تک تقریباً دو درجن سے زائد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کتابوں میں تنقیدی اور تحقیقی کتابیں بھی ہیں۔خاکے اور انشائیے بھی ہیں اور شعری مجموعے بھی۔ میں یہاں ان کی شاعری پر گفتگو کرنا چاہ رہاہوں۔ اور اس حوالے سے ان کا شعری مجموعہ ”شعر زمین“میرے سامنے ہے۔ جس میں غزلیں بھی ہیں اور چند نظمیں بھی۔ ان کی ایک معروف نظم ”در مدح آم“ اپنے آپ میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس نظم کا پس منظر یہ ہے کہ لکھنؤ کے ایک صاحب ثروت چودھر ی شرف الدین آموں کے موسم میں ایک بڑی دعوت”آم اور غالب“کے عنوان سے کرتے ہیں ،جس میں لکھنؤ اور اطراف کے باکمال شعر ا و ادبا کو دعوت دیتے ہیں۔ اتفاق سے پروفیسر خالد محمود کو بھی اپنے دوست اور لکھنؤ یونی ورسٹی کے پروفیسر شاہ عبدالسلام کے ساتھ اس دعوت آم میں شرکت کا موقع ملا۔ متذکرہ نظم اسی دعوت کی سچی اور کھری تصویر ہے۔ پروفیسرخالد محمود کو زبان و بیان پر جو قدرت حاصل ہے، اس کا بھرپور اظہار اس نظم میں موجود ہے۔ بلا مبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ تسلسل،روانی، لفظوں کی نشست و برخاست ہر لحاظ سے یہ نظم عصر حاضر کے اردو اثاثے میں گراں بہا اضافہ ہے۔ ہمارے عہد کے معروف شاعراور نقاد فرحت احساس اس نظم کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ ”خالد محمود کا طرزِ احسا س اور بات چیت خوش طبعی کے ایک فکری میلان سے عبارت ہے، جس نے اپنی نہایت زود رفتاراور زودرس حس مزاح بخشی ہے؛ لیکن یہ حسِ مزاح لوگوں، چیزوں، باتوں اور احوال و اعمال کے مضحک پہلوؤں پر محض ہنس لینے یا ہنسی اڑانے یا ٹھٹول کرلینے پر آمادہ نظر نہیں آتی؛ بلکہ ناموزونیوں اور نا ہمواریوں اور معمول سے بہت کم یا بہت زیادہ ہونے یا ہوجانے پر ایک ایسے رد عمل میں ظاہر ہوتی ہے، جس میں خوش مزاقی اور خوش طبعی اصلاح حال کے در پردہ مقصد کے تحت سرگرم رہتی ہے‘‘۔
اسی مضمون میں فرحت احساس آگے لکھتے ہیں کہ ’’خالد محمود کی ”در مدح آم“ میں جہاں آموں سے آلودہ اور حواس کو ان کی لذتوں سے شرابور کرنے کی کیفیات اور منظر نمایاں ہیں۔ اس پوری صورت حال کو اس کے تہذیبی ، سماجی پس منظر میں رکھ کر اس میں درپردہ موجود ایک خاص طرح کی غم گینی کو محسوس کرانے کی بھی کوشش کی گئی ہے‘‘۔چوں کہ فرحت احساس نے اس نظم کا تفصیلی تعار ف پیش کردیا ہے اس لیے اس نظم پر میں سمجھتا ہوں یہاں گفتگو کا کوئی محل نہیں ہے۔
میں یہاں’’ شعر زمین‘‘ کے چند اشعار پیش کرنا چاہوں گا جنہوں نے دوران مطالعہ مجھے متاثر کیالیکن اس سے پہلے میں شعر زمین پر لکھے ہوئے خالد محمود کے احوال واقعی کا وہ اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں، جو انہوں نے اپنے مادر وطن سرونج کے تعلق سے لکھا ہے۔ خالد محمود جنہوں نے سرونج کے قصباتی فضا میں نموپائی، بھوپال کے علمی ماحول میں سرسبز و شاداب ہوئے اور دلی جیسے عالم میں انتخاب شہر میں باوقار ہوئے۔ وہ خود احوال واقعی کے تحت اپنے مادر وطن سرونج کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ سرونج میرا مرزبوم ہے؛ چنانچہ جذبۂ حب الوطنی نے سب سے پہلے اسی کا قلمی چہرہ کچھ یوں تیار کیا ہے:سرونج کے نام جس کے سایۂ عاطفت میں میری پیدائش، پرورش اور تربیت ہوئی۔ جس کے ریاض المدارس نے پہلا سبق پڑھایا اور جس کے ”ریاض الاسلام“ سے میری تدریسی زندگی کا آغاز ہوا، جس کی زمین زرخیز، جس کی ہوا عطربیز، جس کی خاک عبیر، جس کا پانی آب زلال، جس کی فضا خوشگوار، جس کا آسمان تاروں بھرا، جس کی کلیاں سبک، جس کے غنچے سڈول، جس کے پھول شگفتہ، جس کے پھل شیریں، جس کی گلیاں روشن، جس کے بازارپر رونق، جس کے پرندآزاد، جس کی مسجدیں آباد، جس کے عقیدے راسخ، جس کا ایمان مضبوط، جس کے حفاظ خوش الحان، جس کی تہذیب سلامت، جس کی آبادی شیر و شکر، جس کا شین قاف درست، جس کے موسم معتدل، جس کے جنگل گھنے، جس کے باغات سرسبز، جس کی سبزیاں تازہ،جس کے کھیت ہرے بھرے، جس کے کسان سادہ لوح، جس کے پرند خوش آواز، جس کا جنوں ہوش مند، جس کا ہوش انا پسند، جس کے مزاج میں جذباتیت، جس کے جذبات میں شدت، جس کے خلوص میں حدت، جس کی تکلیف میں آرام، جس کے آرام میں آسودگی، جس کے گھروں میں مہمان، جس کے میزبانوں میں تواضع، جس کے رزق میں برکت، جس کے کھانوں میں لذت، جس کے نیاز میں بے نیازی، جس کی سرشت میں سیر چشمی، جس کے شب و روز میں آرام پسندی، جس کی طبیعت میں قناعت، جس کی قناعت میں تن آسانی، جس کے مزاج میں مزاح، جس کے مزاح میں شائستگی، جس کے مرد خوش اطوار، جس کی عورتیں وفا شعار، جس کی محفلیں زعفران زار، جس کے باشندے خوش قامت، جس کے جوان خوش طالع، جس کے بزرگ خوش مزاج، جس کے بچے تنو مند، جس کی بیٹیاں حیا شعار، جس کے بیٹے خوش گفتار، جس میں اردو زندہ، جس میں ادب فرخندہ،جس کی رہائش میں سادگی، جس کی آرائش میں زیبائی، جس کی توجہ میں اپنائیت، جس کی آنکھوں میں مروت، جس کے چھوٹوں میں ادب، جس کے بڑوں میں لحاظ، جس کی محبت میں خفگی، جس کی خفگی میں محبت، جس کی باتوں میں حسن،جس کے حسن میں لطافت،جس کی لطافت میں دل نوازی، جس کے رشتوں میں مٹھاس، جس کے اخلاق میں انکسار، جس کے معاملات میں رواداری، جس کے لباس میں شرافت، جس کے گھروں میں نفاست، جس کی پیشانیاں کشادہ، جس کی داڑھیاں گھنی، جس کی زلفیں دراز، جس کی الفت نہاں، جس کی خفگی عیاں، جس کی خوراک ماشاء اللہ!جس کی عمریں الحمدللہ! جس کے نقوش سبحان اللہ!جس کے نفوس بارک اللہ!خدا ان خوبیوں کو سلامت رکھے۔آمین یا رب العالمین!
خالد محمود کی نثر ہو یا شاعری، انہوں نے روزمرہ کے الفاظ، محاورات اور تمثیلات کے حوالے سے جوکچھ بھی قرطاس قلم کیا ہے وہ اپنی برجستگی کے سبب ہمارے اذہان پر اپنا دیر پا اثر چھوڑتا ہے۔ خالد محمود کی شاعری میں روایتی اظہار یقیناً اہم ہے جو ہمارے عصری مسائل کا ایک آئینہ ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر جو اہم بات ہے وہ یہ کہ وہ اپنے روز مرہ کے سماجی رکھ رکھاؤ میں کلاسیکی قدروں کے امین ہیں۔ اس حوالے سے یہ چند اشعار دیکھیے:

بڑی لمبی پلاننگ کررہی ہے
ہماری زندگی لمحات والی

ہمارے دن گئے خالی پڑی ہیں
سبھی الماریاں سوغات والی

نہ اب وہ گھر میں تہذیبی توازن
نہ اب وہ کوٹھری جنات والی

جسے دیکھو چھپا پھرتا ہے خالد
جماعت آگئی میوات والی

ایک ہی غزل کے یہ تمام اشعار جس تہذیبی پس منظر سے ہمیں روشناس کراتے ہیں وہ یقیناً بہت اہم ہے۔ مثلا ًپہلا ہی شعر دیکھیے کہ ہم یہ سمجھتے ہوئے کہ زندگی چند روزہ ہے پھر بھی بڑی لمبی لمبی پلاننگ کرنے میں لگے رہتے ہیں (یہاں انگریزی لفظ پلاننگ کا جو تخلیقی استعمال ہوا ہے وہ شعر کے حسن میں اضافے کا باعث ہے)۔ اسی طرح دوسرے شعر میں خالد صاحب نے جس کرب کا اظہار کیا ہے اس کا تعلق پوری قوم سے ہے۔ ہم سب جانتے ہیں اہل ثروت پر جب زوال آتا ہے تو گھر کا کیا کیا اثاثہ بکتا ہے اور وہ الماریاں جو قیمتی نوادرات اور سوغات سے بھری رہتی تھیں پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر خالی کردی جاتی ہیں۔
اسی تہذیبی سلسلے کا تیسر ا شعر بھی ہے جس میں جناتوں والی کوٹھری کا تذکرہ ہے۔ ہو سکتا ہے نئی نسل کو اس کوٹھری میں اجنبیت دکھائی دے لیکن آج سے نصف صدی قبل وہ مکان اور وہ ماحول گردش کرنے لگتا ہے جہاں مسلمانوں کے یہاں ایک حصہ تبرکات اور مذہبی تقدس کے طور پر محفوظ کردیا جاتا ہے۔ جنات والی کوٹھری اسی کی علامت ہے۔ اس غزل کا یہ آخری شعر جس میں میوات والی جماعت کا ذکر ہے جو لوگ تبلیغی جماعت کی تاریخ سے کما حقہ واقف ہیں وہ میواتی جماعت کا لطف یقینا لیں گے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ جب بھی جماعت والے گشت کے لیے آتے ہیں تو کئی لوگ انہیں دیکھ کر چھپ جاتے ہیں۔چوں کہ خالد محمود کے مزاج میں شگفتگی اور شوخی کا عنصر نمایاں ہے اسی لیے اس کا اظہار ان کے سنجیدہ اشعار میں بھی نظر آتا رہتا ہے۔ اسی طرح مندرجہ ذیل اشعار بھی دیکھیے جو متانت اور سنجیدگی کے ایوانوں میں فکر و فلسفے کے چراغ کی مانند روشن ہے:

شکستہ بادباں، پتوار ٹوٹی،رات بھاری ہے
اتر جائے وہ کشتی سے کہ جس کو جان پیاری ہے

دن نکلتے ہی مرا پاؤں جہاں پڑتا ہے
راہ میں ایک بھی کانٹا نہیں رہنے دیتا

اسے دیکھیں تو ساحل توڑنے لگتی ہے موجِ خوں
نہیں دیکھیں تو جائیں بھی کہاں مہتاب سے بچ کے

موج خوں کا ساحل (بدن) توڑنا یقیناً اردو شاعری کا ایک حسین اور رومانی استعارہ ہے۔
روایتوں، محاوروں اور علامتوں کا جیسا خلاقانہ استعمال خالد محمود کے یہاں ملتا ہے وہ یقیناً انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے۔یہ ایک ایسا روایتی اظہار ہے جو عصری مسائل کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتا ہے۔ خالد محمود کے شعری اثاثے میں اس طرح کی واضح اشاریت اور علامت جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ اس روایت کا تعلق صرف لفظیات کی حد تک ہے ورنہ جہاں تک معنی کا تعلق ہے یا فکری پرواز کے جو قرینے ہیں ان کا تعلق اس شاعری سے ہے جو بیس ویں صدی کی آخری دہائیوں میں حرف اعتبار حاصل کرسکیں۔
میں اپنے محدود مطالعے کی روشنی میں اس قیمتی شعری مجموعے کی کسی قدر و قیمت کا تعین تو نہیں کرسکتا لیکن جن اشعار کو پڑھ کر ہماری فکر کے دریچے ہمیں نئے افق سے روشناس کرائیں وہ شاعری یقیناً ہم سب کے لیے اہم ہے۔ میں یہاں اپنے پسندیدہ اشعار کو پیش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں:
ہزاروں فلسفی قبضہ کیے بیٹھے ہیں ذہنوں پر
مرے قابو میں یارب میرا سر اب تک نہیں آیا

ہمارے سر پر ہے سایہ فگن امید کا سورج
ہماری راہ میں کوئی شجر اب تک نہیں آیا

تعجب ہے مجھی کو اپنی محفل میں نہیں دیکھا
نہیں دیکھا اگر تم نے تو دیکھا کیوں نہیں کرتے

اٹھا کر روز لے جاتا ہے میرے خواب کا منظر
وہ مجھ سے روز کہتا ہے بھروسا کیوں نہیں کرتے

فلیٹوں میں بشکلِ قیدیِ زنداں گزرتی ہے
یہیں رہتے ہیں خالد مہرِ عالم تاب سے بچ کے

محشر بہ زیرِ پا ہے قیامت پناہ ہو
نکلے ہو اس اد ا سے کہ عالم پناہ ہو

اللہ! کیا یہ تم ہو! اف اللہ کی پناہ!
واللہ! سر سے پاؤں تلک بے پناہ ہو

لہجہ وہجہ، شوخی ووخی، سارے ان کے کھیل
دونوں شاطر، دونوں پُرفن، اک غالبؔ اک میرؔ

پیچھے پیچھے سارے شاعر وہ بھی کتنی دور
آگے آگے دو ہی سجّن، اک غالبؔ اک میرؔ

ہر کس و ناکس پہ کرلیتا ہے فوراً اعتبار
بے خبر کتنا ہے خالد با خبر ہوتے ہوئے

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*