خواجہ حسن نظامی:نثار یا شاعرِ نثر؟ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

مصور فطرت خوا جہ حسن نظامی اردو زبان کے ان ادبا میں سے ہیں جن کی البیلی تحریروں نے ایک زمانے تک ادبی دنیا میں دھوم مچائی اور آج بھی ان کی گونج قائم ہے ۔وہ ایک طرف تو صوفی ہیں اور دوسری طرف صحافی،روز نامچہ نگار ، سفرنامہ نگار ، خاکہ نگار ، اور انشائیہ نگار بھی ۔ ادبی دنیا میں بطور ِ انشائیہ نگار خواجہ صاحب کی شناخت مستحکم ہے ۔ خواجہ حسن نظامی کی تفہیم سے قبل ذرا سیاق و سباق کا مطالعہ بھی ضروری ہے ۔ اولاً تو وہ ایک خاندانی صوفی تھے۔ دوم لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے تربیت یافتہ تھے ۔ سوم وہ اپنے ادبی سفر میں مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا عبد الحلیم شرر کی تحریروں کو لفظی استاذ اور فطرت کو اپنا معنوی استاذ گردانتے تھے ۔
یوں تو اہل نقد و نظر نے لفظی و معنوی لحاظ سے نثر کی بہت سے اقسام بیان کی ہیں ۔ عاری ، مرجز ، مسجع ، مقفیٰ ، دقیق رنگین ، دقیق سادہ ، سلیس رنگین اور سلیس سادہ وغیرہ لیکن عام طور پر ان اقسام میں عاری اور سلیس سادہ کا رواج زیادہ مقبول و مروج ہے ۔ بقیہ اقسام اب یا تو متروک ہیں یاپھر عصر ِ موجود میں نثر کے مقاصد کے پیش ِ نظر انھیں معیوب قرار دیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ وضاحت نثر کی اولین شرط ہے۔” کسی نے ایک فرانسیسی نقاد سینت بوو( Sainte-Beuve)سے پوچھا کہ نثر میں کیا خوبیاں ہونا چاہئیں ۔ اس نے کہا کہ نثر میں تین خوبیاں اشد ضروری ہیں ۔ اول ضاحت، دوم وضاحت، سوم وضاحت ۔“(درسِ بلاغت ، مشمولہ مضمون ’ اقسامِ نثر ‘ قومی کونسل برائے فروغ ِ اردو زبان، نئی دہلی(2009 تیسرا ایڈیشن ) ص : 173)
اگر نثر کا مقصد وضاحت ہے اور یقیناً ہے تو پھر نثر ِ عاری اور سلیس سادہ کے علاوہ بقیہ دیگر اقسام اس راہ میں کسی نہ کسی قدر رکاوٹ کا باعث ہیں کیوں کہ فی زمانہ ایک عمدہ اور مقبول نثر اسی کو سمجھا جاتا ہے جو بالکل واضح اور غیر مبہم ہو اور گنجلک و پیچیدہ نہ ہو ۔ آل احمد سرور نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے : ” نثری حسنِ بیان کے لیے وضاحت پہلی شرط قرار پائی ۔ اس وضاحت کے راستے میں جو چیز بھی حائل ہو وہ عیب ہے ۔“(اسالیب ِ نثر پر ایک نظر ، مرتب : ڈاکٹر ضیاءالدین ، مشمولہ مضمون ’ نثر کا اسٹائل ‘ ادارہ فکرِ جدید ، نئی دہلی (1989) ص : 39)قابل ِ غور بات یہ ہے کہ خواجہ حسن نظامی مرحوم نے دقیق رنگین کو چھوڑ کر بقیہ تمام قسموں کو اپنی جملہ تحریروں میں بخوبی برتا ہے بلکہ نثر ِ عاری ان کے یہاں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے ۔
سرِدست خواجہ صاحب کے انشائیوں کا مجموعہ ” سی پارہ ٔدل “ زیر ِ بحث ہے ۔ اگر شاعرانہ انداز میں اس کتاب کا جائزہ لیا جائے تو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کا پہلا باب حمد و ثنا ، دوسرا باب نعت ِ رسول ِ مقبول ﷺ پر مشتمل ہے اور اس کے بعد کے ابواب غزل و نظم کے لیے مختص ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اگر اس کتاب کو نثر کے زمرے سے ہٹا لیا جائے تو یہ خود بخود نثری نظم کا مجموعہ ٹھہرے گی اور اس سلسلے میں منٹو صاحب کی اولیت بھی جاتی رہے گی ۔ کبھی کبھی تو خواجہ صاحب کی نثر ِ مرجز اس دور کی متشاعری اور ہندی کاویہ سے زیادہ موزوں محسوس ہوتی ہے ۔ خواجہ صاحب کے عشقیہ اسلوب اور لہجے کے والہانہ پن کو دیکھ کر تو ان کی نثر کو غزلیہ نثر کہنے کو جی چاہتا ہے۔یہ تو حقیقت ہے کہ ان کی نثر شعریت سے معمور ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملا واحدی شبلی کا قول نقل فرماتے ہیں کہ خواجہ صاحب نثر میں ایسی بے نظیر شاعری کرتے ہیں جس کا اثر آج کل کی نظموں میں بہت کم پایا جاتا ہے ۔(سی پارہ دل ، ص : 15)
یہ کتاب اپنے نام ہی سے اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ یہ محض ادب پارہ نہیں ہے ۔خواجہ صاحب نے سی پارۂ دل کی صورت میں دین و ادب کا شاندار نمونہ پیش کیا ہے ۔انھوں نے قرآنی اسلوب کو شعوری طور پر برتنے کی کوشش کی ہے ۔ خواجہ صاحب نے اپنی اس کتاب کا نام سی پارہ دل رکھا ۔سی پارہ کے معنی ٰ تیسواں حصہ ہے اسی لیے قرآن کے الگ الگ پارے کو بھی سی پارہ کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک کی کل سات منزلیں ہیں ۔خواجہ صاحب کی یہ کتاب بھی پانچ مزلوں پر مشتمل ہے ۔ ممکن ہے بقیہ دو منزل اس کی دوسری جلد میں شامل ہوںاس لیے کہ یہ پہلی جلد ہے ۔ قرآن کی کل چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات ہیں ، ان میں صرف پانچ سو آیات احکام کے ہیں بقیہ آیتیں انسانوں کے لیے ترغیب و ترہیب یعنی اولاد ِ آدم کو نیکیوں پر ابھارا گیا ہے اور برائیوںسے روکا اور ڈرایا گیا ہے ۔ خواجہ صاحب کے یہاں بھی قرآنی اسلوب کا یہ رنگ دیکھا جا سکتا ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی معمولی مخلوقات مچھر ، مکھی ، مکڑی اور گدھے وغیرہ کے ذریعے اپنے بندوں کو سمجھایا ہے ۔ خواجہ صاحب بھی اپنے انشائیوں میں مچھر ، مکھی ، جھینگراور الو وغیرہ کو کردار بناتے ہیں اور ان سے انتہائی اچھوتے اور سبق آموز نتائج برآمد کرتے ہیں ۔ ان کے ایک انشائیے کا عنوان ہے ” الکبریت ماالکبریت وما ادراک ما الکبریت“ جو خالص قرآنی اسلوب ہے ۔
کہنے کو تو یہ انشائیے ہیں لیکن مطالعہ کرتے ہوئے کبھی افسانے کا حظ ملتا ہے اور کبھی ڈرامے کا لطف ۔ ان میں طنز کی نشتریت بھی ہے اور مزاح کی بھینی بھینی خوشنو بھی ۔شوخی بھی ہے ، شکوہ بھی اور جواب ِ شکوہ بھی ۔ یہاں ہندوستانیت کا حسن بھی ہے ، حب الوطنی کا جمال بھی اور سفید فاموں کے خلاف صدائے احتجاج بھی ۔ خواجہ صاحب کے یہاں اخلاق کی روشنی بھی ہے ، اصلاح کا رنگ بھی اور حکمت و دانائی کے جواہر پارے بھی ۔ خلاصہ یہ کہ کتاب الگ الگ رنگ و خوشبو کے پھولوں کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے ۔
خواجہ صاحب نے ایک الگ انداز کی نثر خلق کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے ۔ بہت سے مقامات پر انھوں نے اردوئے معلیٰ کے ساتھ ہندوستانی اور ہندی زبان کو بھی بڑی خوش اسلوبی سے برتا ہے ۔ چند اقتباسات پیش ہیں :
” سر حاضر ہے ، کھنچے کٹاری ، عشق کی اگنی ، چِتا ہماری ، ست پکاریں ، ست بن جائیں ، جز کو تیاگیں کل ہو جائیں “۔(’ بھگت کے بس میں آ بھگوان‘ ص: 44) ” زلفوں والے پیتم پیارے ، یثرب باشی ، موہن کنہیا کی بانسری کے بلہاری ، حجازی پربت میں کھڑے ہو کر ایسی بجائی کہ جنم جنم کے دکھ کلیش دور ہو گئے ، روح،آتما، جیو، شریر سب کو سرشار و پر کیف بنا دیا “۔ ( ’مدنی شیام سندر‘ ص : 92 )
چوں کہ اکبر الٰہ آبادی خواجہ صاحب کے ادبی پیر تھے اس لیے ان کے یہاں بھی مغربی تہذیب پر طنزیہ تیر کو دیکھا اور اس کے خلاف احتجاجیہ لے کو بآسانی سنا جا سکتا ہے :
” اس دنیا ئے جدید کی کیا بات ہے ، عید قرباں کی مستانی رات ہے ، ہوٹل کا اکیلا کمرہ ہے ، سامنے کمپنی باغ ہے ، میز پر آئینہ کے سامنے لیمپ جل رہا ہے ، پرانی دنیا کا کوئی پروانہ نہیں ہے۔نور جہاں اسی منظر کے لیے کہہ گئی تھی ۔ ع
نے پر ِ پروانہ سوزد ، نے صدائے بلبلے “ (ص: 127)
ایک انشائیے کا عنوان ہے ” مکھی “ ۔ اس میں مکھیوں کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں ۔ یہ انشائیہ چھوت چھات کی رسم ِ بد پر کاری ضرب بھی ہے ، استعماری قوت کے مظالم کے خلاف احتجاجیہ استعارہ بھی اور ساتھ ہی ایک حقیر مخلوق ِ خدا کے ذریعے اشرف المخلوقات انسان کے لیے بہترین درس و نصیحت بھی ہے :
” شہد کی مکھی ابتدا سے خود مختاربادشاہ کے تحت ہے ۔ آدمی کی طرح رنگ نہیں بدلتی ۔ اس کو نہ گزٹ میں اعلان کرنے کی ضرورت ہے نہ وائسرائے اور ڈپٹی کمشنر کی معرفت کی تلاش ، جب ذرا پروں کو حرکت دی اور آنکھوں کو سامنے کرکے بھنبھنائی فوراً سب رعایا تعمیل کے لیے کھڑی ہو گئی ۔ اس کی رعایا ایسی اطاعت گزار ہے کہ ملکہ خواہش کرے تو سارا شہد اس کے حوالے کر دے یا کم سے کم جو زائد ٹیکس ان پر لگایا جائے اس کو خوشی خوشی برداشت کر لے مگر ایسا نہیں ہوتا ،ملکہ رعیت کے حصے پر بری نگاہ نہیں ڈالتی اور قناعت سے اپنے حصے پر زندگی بسر کر لیتی ہے ۔ “ ( ’مکھی ‘ص : 163)
طنز کے ساتھ ساتھ خواجہ صاحب لطیف مزاح کا رس بھی اپنے انشائیوں میں گھولتے ہیں البتہ ان کا طنز مزاح پر حاوی ہوتا ہے ۔ انشائیہ ” الو “ کا رنگ ِ مزاح ملاحظہ فرمائیں :
” دن بھر صائم رہتا ہے اور شام کو سورج چھپنے کے بعد رزق کی تلاش میں نکلتا ہے اور جوں ہی نکلا خدا تعالیٰ شکار کے چند لقمے دلوادیتا ہے جن سے روزہ افطار کر کے کسی ٹوٹے ہوئے گنبد یا جھکی ہوئی دیوار پر آ بیٹھتا ہے اور ہو ہو کے نعرے لگانے لگتا ہے ۔ اسی ذکر و شغل اور یاد ِ الٰہی میں صبح ہوجاتی ہے ۔“ (’ الو ‘ ص : 170)
ان اقتباسات سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے جملوں اور سادے اندا ز و الفاظ میں خواجہ صاحب کا بیانیہ آبشار کس قدر رواں دواں ہے۔ ان کے قلم کی ایک اہم خوبی فطرت نگاری ہے ۔ مشاہدہ اس قدر گہرا کہ جس شئی کی تصویر کشی کرتے ہیں اس کے ایک ایک کل پرزے کو کھول کر رکھ دیتے ہیں ۔ ذرا مچھر کی چہرہ نگاری کا انداز ملاحظہ ہو :
” انسان کہتا ہے کہ مچھر بڑا کم ذات ہے ، کوڑے کرکٹ ، میل کچیل سے پیدا ہوتا ہے اور گندی موریوں میں زندگی بسر کرتا ہے اور بزدلی تو دیکھو اس وقت حملہ کرتا ہے جب کہ ہم سوجاتے ہیں ۔ سوئے پر وار کرنا ، بے خبر کے چرکے لگانا مردانگی نہیں ، انتہا درجے کی کمینگی ہے ۔ صورت تو دیکھو ! کالا بھتنا، لمبے لمبے پاﺅں ، بے ڈول چہرہ ۔“ (’ مچھر ‘ ص : 155) ایک تو فطرت نگاری تس پر جزئیات نگاری کو دیکھ کر ہی تو اہلِ نظر نے خواجہ صاحب کو ” مصور ِ فطرت “ کے خوب صورت لقب سے نوازا ہے ۔
منٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے افسانوں میں ایسے ایسے کرداروں کو جگہ دی ہے جن کی سماج میں کوئی حیثیت نہیں تھی اور یہ سچ بھی ہے لیکن منٹو کی پیدائش سے پہلے ہی خواجہ صاحب اپنے انشائیوں میں اس طرح کے کرداروں کو برت چکے تھے ۔ خواجہ حسن نظامی کے یہان عنوانات کے اچھوتے پن پر بھی ایک باب قائم کیا جا سکتا ہے ۔ بقول ملا واحدی ایک ایک عنوان کے لیے خواجہ صاحب نے تین تین دن صرف کیے ہیں ۔ خواجہ صاحب کا خیال ہے : ” میں مضمون سے زیادہ عنوان کو ضروری سمجھتا ہوں ، میری کوشش ہوتی ہے کہ عنوان سے سارا مضمون سمجھ میں آجائے ، اس پر طرہ یہ کہ مختصر ہو ، نظر کش ہو اور تقلید سے آزاد ہو ۔ “ (ص : 19 )
ان کے بیشتر عنوانات اردو میں ، کبھی ہندی میں اور کبھی کبھی عربی میں بھی ہوتے ہیں ، پھر ایک عنوان کے تحت کئی کئی ذیلی عنوانات بھی ہوتے ہیں ۔ بادی النظر میں خواجہ صاحب کا یہ عمل بڑا اٹ پٹا سا محسوس ہوتا ہے تا ہم مطالعے کے بعد ساری اجنبیت ختم ہوجاتی ہے ۔
اردو ادب میں نظامی صاحب کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے سائنس کو معجزہ و کرامت سے ہم رشتہ کر دیا ۔ ایسے ہی دین و ادب کو بھی باہم شیر و شکر کر دیا ہے ۔ ملا واحدی نے مقدمے میں لکھا ہے کہ خواجہ صاحب کی تحریر میں غالب مقصد تصوف ہے ۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے لیکن مذہب و ادب کے مابین خواجہ صاحب کا جو توازن ہے وہ دعوت ِ فکر دیتا ہے ۔ مولوی عبد الحق مرحوم نے بجا فرمایا ہے :
” یہ اخلاقی مضامین نہیں لیکن اخلاق کا رنگ ان سے ٹپکتا ہے ۔ ان میں تصوف کا دعویٰ نہیں لیکن تصوف کی بو ان میں پائی جاتی ہے ۔ یہ معاشرتی تحریریں نہیں لیکن معاشرت کی اصلاح ان میں نظر آتی ہے ۔ یہ حکیمانہ رسائل نہیں لیکن حکمت ان کی تہہ میں ہے “ ۔ ( دیباچہ کتاب ، ص : 9)
اردو ادب میں آج مذہب بیزاری کا رجحان بڑی تیزی سے جڑ پکڑتا جا رہا ہے جو در اصل اپنی لسانی روح سے محرومی اور تہذیبی جڑوں سے کٹ جانے کے مترادف ہے ۔ ایسے اذہان کے لیے خواجہ حسن نظامی مرحوم کی تحریریں تریاق کا کام کر سکتی ہیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*