خیرِ کثیر ـ عبدالغفار سلفی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 269 میں فرمایا :

يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًا كَثِيرًا

اللہ جسے چاہتا ہے حکمت سے نوازتا ہے اور جسے حکمت سے نواز دیا جائے تو یقیناً وہ بہت ساری بھلائیوں سے نواز دیا گیا.

اس آیت میں غور و فکر کے بعد عبرت و نصیحت کے عجیب وغریب در وا ہوتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں :

1. یہ آیت قرآنی ترتیب میں إنفاق فی سبیل اللہ کے تعلق سے مختلف احکامات کے بعد ہے، گویا مال خرچ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے علم وحكمت کا ذکر کر کے یہ سمجھایا کہ جس دولتِ دنیا کے پیچھے تم بھاگتے ہو اس سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل علم وحكمت کی دولت ہے، لہذا تمہیں حصولِ علم کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہیے.

2. حکمت کے متعلق علماء تفسیر کے مختلف اقوال ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ حکمت سے مراد دین کی فہم اور درستگیِ رائے ہے. ظاہر ہے دین کی سمجھ اسی کو ملتی ہے جسے رب ذو المنن بھلائیوں سے نوازنا چاہتا ہے. فرمان نبوی ہے : مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے ہی دین کی سمجھ عطا کرتا ہے. (صحیح بخاری : 71)

3. اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو (بشمول تمام وسائلِ مال ودولت) "متاع قلیل” قرار دیا ہے اور یہاں حکمت کو "خیر کثیر” سے تعبیر کیاـ مال پر علم کی فضیلت کی اس سے واضح کیا دلیل ہوگی؟

4. علم سے ایک قدم آگے کی چیز ہوتی ہے عقل وفہم.. بعض دفعہ ہم کسی چیز کا علم تو رکھتے ہیں مگر اس کی صحیح فہم سے قاصر ہوتے ہیں. حکمت کے اندر علم کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کا مفہوم بھی شامل ہے. چنانچہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

فصلاح القلب وحقه، والذي خلق من أجله هو: أن يعقل الأشياء؛ لا أقول أن يعلمها فقط؛ فقد يعلم الشيء من لا يكون عاقلا له، بل غافلا عنه مُلغيا له. والذي يعقل الشيء هو الذي يقيده، ويضبطه، ويعيه، ويثبته في قلبه؛ فيكون وقت الحاجة إليه غنيا، فيطابق عمله قوله، وباطنه ظاهره؛ وذلك هو الذي أوتي الحكمة

"دل کا درست اور حق پر ہونا اور جس مقصد کے لیے دل کو بنایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان چیزوں کو سمجھے. میں یہ نہیں کہتا کہ صرف علم رکھے ، بسا اوقات کسی چیز کا علم ایسے شخص کو بھی ہوتا ہے جو اسے سمجھتا نہیں ہے بلکہ اس سے غافل ہوتا ہے اور اسے ضائع کر دیتا ہے. جو شخص کسی چیز کی عقل وفہم سے بہرہ ور ہوتا ہے وہ اس کی حفاظت و نگرانی کرتا ہے، اسے اپنے دل میں مضبوطی کے ساتھ محفوظ کر لیتا ہے اور پھر جب اس چیز کی ضرورت پڑے تو وہ اس کے سلسلے میں بے نیاز ہوتا ہےـ اس کے قول وعمل میں اور ظاہر وباطن میں مطابقت ہوتی ہے. یہی ہے وہ شخص جسے حکمت سے نوازا گیا ہے”ـ (مجموع الفتاوى : 1/599)

5. حکمت کا ایک مفہوم” إتقان العمل ” بھی ہے یعنی جب کوئی کام کیا جائے تو پوری مضبوطی سے اس کے سارے تقاضے نبھاتے ہوئے کیا جائے. انفاق کے احکامات کے بعد حکمت کا ذکر کر کے یہ نکتہ بھی دے دیا گیا کہ انفاق کے سلسلے میں حکمت یہی ہے کہ اسے رضائے رب کی خاطر ریاکاری وغیرہ سے بچتے ہوئے اخلاص کی بنیاد پر انجام دیا جائےـ

6. اس سے پہلے کی آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ شیطان إنفاق فی سبیل اللہ کے موقع پر فقر وفاقہ کی دھمکیاں دیتا ہے اور طرح طرح کے اندیشے ذہن میں لاتا ہے جب کہ دوسری طرف رحمان کا وعدہ ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کی مغفرت اور فضل وکرم کا پروانہ ملے گا.. اس کے معاً بعد حکمت کا ذکر کر کے یہ پیغام دیا گیا کہ جسے اللہ علم وحكمت سے نوازتا ہے وہ شیطان کی دھمکیوں کی قطعاً پرواہ نہیں کرتا ہے، اس کی زندگی کا حاصل تو رب کی مغفرت ہوتی ہے جس کا وعدہ رحمان نے اہل ایمان سے کر رکھا ہے لہٰذا وہ بلا خوف وخطر رضائے الٰہی کے لیے خرچ کرتا ہےـ

7. حکمت کا سرچشمہ قرآن حکیم ہے، اسی لیے حکمت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم کی آیات میں غور وفکر اور اس کی سمجھ ہے..لہٰذا جو شخص خیر کثیر کا طالب ہے اسے چاہیے کہ قرآن کریم کو لازم پکڑ لے، اس کی آیات میں تدبر وتفکر کو اپنا وطیرہ بنا لے اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا دستور العمل بنا لےـ

8. مادیت کی اس دنیا میں ہم انسانوں کی نظر ہمیشہ دولت دنیا پر ہوتی ہے اور ہمارے سلوک ومعاملات کی بنیاد عموماً مال ودولت کی بنیاد پر ہوتی ہےـ مذکورہ آیت کریمہ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ دنیا کی تمام تر دولت اس علم وحكمت کے سامنے ہیچ ہے جسے اللہ اپنے منتخب بندوں کو عطا کرتا ہے. تاریخ گواہ ہے کہ علم کی دولت نے بڑے بڑے بادشاہوں کے تاج کا غرور خاک میں ملا دیا.. کتنے اہل علم ہیں کہ بدن پر ڈھنگ کے کپڑے نہیں، کوئی خاص شکل و صورت نہیں، مگر متلاشیان علم کا جم غفیر ان کے دروازے پر دست بستہ یوں کھڑا ہے کہ شاہان وقت بھی انگشت بدنداں ہیں ـ سچ ہے ذلك فضل الله يؤتيه من يشاءـ

9. حکمت کی ایک تفسیر خشیت الہی سے بھی کی گئی ہے.. گویا حقیقی علم وہ ہے جو دل کی بنجر زمین کو خشیت الہی سے سیراب کر دے، جو انسان کو اس کے رب سے قریب کر دے . وہ علم ہی کیا جس سے انسان کے سیرت وسلوک پر کوئی فرق نہ پڑے.،وہ علم ہی کیا جس کی حدود گفتار سے آگے جاتی ہی نہ ہوں. علم وہ ہے جو انسان کے ظاہر وباطن کو نکھار دے، جو دل کی خشک زمین کو تقویٰ کی پھواروں سے سیراب کر دے.

10. آیت کریمہ میں لفظ "حکمت” کو دوبار لایا گیا ہے، حالانکہ دوسری مرتبہ ضمیر بھی لائی جا سکتی تھی. رب تعالیٰ نے ایسا حکمت کی فضیلت واہمیت جتانے کے لیے کیا. یعنی یہ حکمت وہ شے ہے جسے بار بار ذکر کیا جائے، جس کے حصول کے لیے کدو کاوش کی جائے. حدیث نبوی سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ راہ حق میں مال خرچ کرنے کے علاوہ علم وحكمت ہی واحد ایسی شے ہے جس کے لیے رشک کرنا شریعت میں مطلوب ومحمود ہے، فرمان رسالت ہے : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ". رشک کرنا صرف دو چیزوں میں عظمت کا حامل ہے. ایک وہ شخص کہ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق بھی اسے دی گئی. دوسرا وہ شخص کہ جسے اللہ نے حکمت سے نوازا اور وہ اسی کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہو اور دوسروں کو تعلیم دیتا ہو. (صحیح بخاری : 73 صحیح مسلم : 816)
رب العالمين ہمیں اس "خیر کثیر” سے بہرہ ور فرمائےـ آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*