Home تجزیہ کیجریوال کی باتوں کا مطلب !-شکیل رشید

کیجریوال کی باتوں کا مطلب !-شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

عارضی ضمانت پر رہائی کے بعد ، دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے پہلی پریس کانفرنس میں جو باتیں کہی ہیں ، انہیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالا نہیں جا سکتا ۔ کیجریوال کی یہ بات کہ پی ایم نریندر مودی ووٹ اپنے لیے نہیں امیت شاہ کے لیے مانگ رہے ہیں ، کیونکہ اس بار وزیراعظم وہ خود نہیں امیت شاہ بنیں گے ، ہو سکتا ہے کہ درست نہ ہو ۔ کیجریوال کا یہ دعویٰ اس بنیاد پر ہے کہ ، مودی نے خود یہ قانون بنایا ہے کہ بی جے پی کا وہ رکن جو ٧٥ سال کا ہو جائے ، کسی عہدے پر نہیں رہ سکتا ، اور آئندہ ستمبر میں مودی ٧٥ سال کے ہو رہے ہیں ۔ لیکن جو وزیراعظم ملک کے قوانین کو بدل سکتا ہے اس کے لیے آپنے ہی بنائے ہوئے کسی قانون کو بدلنا کیا مشکل ہوگا ! اور یہی بات تشویش کا باعث ہے ۔ کسی کے ذریعے قانون یا قوانین کو اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے گڑھنا اور بدلنا ، نہ ملک کے لیے اچھا ہے اور نہ ہی ملک میں رہنے والوں کے لیے ! ایسا کام کوئی آمر ہی کر سکتا ہے اور آمریت ہمیشہ عوام مخالف رہی ہے ۔ مزید ایک بات کیجریوال نے کہی ہے کہ مودی اپوزیشن کے تمام لیڈروں کو جیل میں ٹھونس دیں گے ، اور بی جے پی کے لیڈروں کو بھی ، جیسے یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی ، ٹھکانے لگا دیں گے ۔ اسے انہوں نے ون نیشن ون لیڈر مشن کہا ہے ۔ یہ دعویٰ بہت ممکن کہ صحیح ہو کیونکہ پی ایم مودی کے دماغ میں ون نیشن ون الیکشن اور ایسے ہی کئی منصوبے پک رہے ہیں ، ان منصوبوں کا واحد مقصد اپنی گدی یا اپنے بعد آنے والے کسی اور سنگھی لیڈر کی گدی کو محفوظ بنانا ہے ۔ خبر یہی ہے کہ ساری پارٹیاں ختم کرکے ملک کو ون نیشن ون پارٹی کے فارمولے پر چلانا ہے ۔ نہ کانگریس چاہیے اور نہ سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں ، بس بی جے پی اور اس کا ایک لیڈر چاہیے ۔ یہ ممکن ہے یا نہیں لیکن کیجریوال کا دعویٰ ہے کہ اس مشن پر کام چل رہا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب بھی ملک کو آمریت کی جانب لے جانا ہے ۔ کیجریوال نے یہ سچ ہی کہا ہے کہ مودی نے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، رمن سنگھ ، یشونت سنہا ، شیوراج چوہان ، کھٹر اور وسندھرا راجے سندھیا سب کو ٹھکانے لگا دیا ہے ۔ یہ سب مودی کے اقتدار کے لیے چیلنج بن سکتے تھے ، اب سب سے بڑا چیلنج یوگی ہیں ، کیا مودی انہیں برداشت کر سکتے ہیں؟ کیجریوال کی مانیں تو مودی اگر الیکشن جیتے تو یوگی کی سیاست کو دو مہینے میں ختم کر دیں گے ۔ یہ بھی آمریت ہے ۔ اب گیند ووٹروں کے پالے میں ہے ، ان کا فیصلہ ملک کی قسمت کا فیصلہ کرے گا ۔ اروند کیجریوال کو تو جو کہنا تھا وہ انہوں نے کہہ دیا اور ان کی باتوں کا کیا مطلب ہے اس پر بھی بہت کچھ کہا جا چکا ہے ۔ اپوزیشن کے لیڈران گھوم پھر کر ملک کے آج کے اور آنے والے کل کے ممکنہ حالات پر روشنی ڈال رہے ہیں ، عوام کو سمجھا رہے ہیں ، عوام کو بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ ان کے فیصلے پر ہی یہ طے ہوگا کہ ملک میں جمہوریت ، جیسی بھی اچھی بری ہے ، بچے گی یا نہیں بچے گی ۔ اگر جمہوریت نہ بچی تو آمریت منھ پھاڑے کھڑی ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like