کشمیر میں آرٹیکل 370 کی بحالی کا وعدہ، فاروق عبداللہ نے دگوجے کاشکریہ اداکیا

نئی دہلی:کانگریسی لیڈر دگوجے سنگھ کے ایک بیان:’ اگر مرکز میں کانگریس برسراقتدار آتی ہے، تو جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کی بحالی پر غور کیا جائے گا‘،پر جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دگ وجے سنگھ کا شکریہ ادا کیا ہے ،اور کہا ہے کہ وہ ان کے بیان پر مشکور ہیں ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبد اللہ نے کہا کہ میں دگ وجے سنگھ کا بیحد مشکور ہوں۔ انہوں نے لوگوں کے جذبات کو محسوس کیا ہے۔ میں دل سے ان کا ا ور ان کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ حکومت اس پر ایک بار پھر غور کرے گی۔ واضح ہوکہ دگ وجے سنگھ نے کلب ہاؤس چیٹ میں آرٹیکل 370 کو بحال کرنے کی بات کی تھی۔ وہاں ایک پاکستانی صحافی بھی یہاں موجود تھے۔اس کلب ہاؤس چیٹ میں پاکستانی صحافی کے سوال کے جواب میں دگ وجے سنگھ نے مبینہ طور پر کہا کہ جب انہوں نے آرٹیکل 370 کو کشمیر سے ہٹایا، تو وہاں جمہوریت نہیں تھی،وہاں انسانیت بھی نہیں تھی ، کیونکہ تمام شہریوں کو بندوق کے نوک پر جیل میں ڈال دیا گیا تھا، کشمیریت وہاں کے سیکولرازم کا حصہ ہے ، کیونکہ مسلم اکثریتی ریاست کا بادشاہ’ ہندو‘تھا اور دونوں نے مل کرکشمیر کےلیے کام کیا۔ یہاں تک کہ کشمیر میں کشمیری پنڈتوں  کے لیے سرکاری ملازمت میں ریزرویشن مختص کیا گیا تھا۔ اس صورتحال میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے فیصلے پر انتہائی افسوس ہوا، جب کانگریس اقتدار میں آئے گی ،تو 370 کی بحالی کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ واضح ہوکہ بی جے پی کے ترجمان امت مالویہ نے دگ وجے سنگھ کے کلب ہاؤس چیٹ کا کچھ حصہ ٹویٹر پر شیئر کیا ہے۔