کشمیر پر او آئی سی کا تبصرہ غلط اور قابلِ مسترد:ہندوستانی وزارتِ خارجہ

نئی دہلی:ہندوستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) پر شدید حملہ کیا۔ جس میں اس نے یہ الزام لگایا ہے کہ نائیجریا میں ایک اجلاس میں اس گروپ کی طرف سے منظور کی جانے والی قرار دادوں نے جموں و کشمیر کے بارے میں غلط اور نامناسب حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا ایک لازمی اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ہندوستان نے او آئی سی کو مستقبل میں اس طرح کے تبصرے سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ یہ گروہ اپنے آپ کو کسی خاص ملک جس کی مذہبی عدم رواداری، بنیاد پرستی اور اقلیتوں پر ظلم و ستم کی اجازت دیتا ہے۔ جس کا ایک ریکارڈ موجود ہے۔اس کی حمایت کررہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 27-29 نومبر کو ہونے والی اس میٹنگ میں او آئی سی (سی ایف ایم) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 47 ویں اجلاس میں جموں و کشمیر سے متعلق ہندوستان کی پالیسیوں کے حوالے سے تبصرہ کیا گیا تھا۔ وزارت خارجہ نے او آئی سی کے ذریعہ اپنا ئے گئے قراردادوں میں ہندوستان کے متعلق غلط اور نامناسب تبصرے کی سختی سے تردید کی ہے۔وزارت نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ یہ یقینی بنایا ہے کہ ہندوستان اور جموں و کشمیر کے معاملے میں او آئی سی کی مداخلت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وزارت نے کہا کہ ہندوستان او آئی سی کو سختی سے مشورہ دیتا ہے کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے تبصرے کرنے سے باز رہے۔