20 C
نئی دہلی
Image default
بین الاقوامی خبریں

کشمیرپرتنقیدکرنے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ کوواپس بھیجاگیا

ممبرپارلیمنٹ کاالزام ،صحیح وجہ نہیں بتائی گئی،مجرموں کی طرح سلوک کیاگیا
نئی دہلی:بھارت نے برطانوی ممبرپارلیمنٹ اور لیبر پارٹی کی لیڈر ڈیبی ابراہم کو پیر کو اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔ وہ دو دن کے سفرکے لیے بھارت پہنچی تھیں۔ان کی ساتھی ہرپریت اپل نے نیوزایجنسی کو بتایا کہ ایئر پورٹ پر حکام نے ان کے بھارتی ویزا کو مسترد کر دیا۔تاہم، حکام نے ابراہم کے ویزا منسوخ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی جبکہ ویزا اکتوبر 2020 تک درست تھا۔بتا دیں کہ ابراہم اور اپل دبئی سے نئی دہلی صبح 9 بجے پہنچیں تھیں۔بھارت میں داخل ہو جانے سے روکنے کے بعد ابراہم واپس دبئی لوٹ گئیں۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ابراہم کے پاس سفر کرنے کے لیے جائز ویزا نہیں تھا۔ اس لیے انہیں بھارت میں داخل ہونے سے روک دیاگیا۔انہوں نے بتایاہے کہ ان کے ای ویزا کو پہلے ہی منسوخ کر دیا گیا تھا اور اس کی معلومات ان سے پہلے دے دی گئی تھیں۔ابراہمس 2011 سے ایم پی ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ میں نے یہ جاننے کی کافی کوشش کی کہ آخر میرا ویزا مسترد کیوں ہوا؟ پھر مجھے ویزا آن اراول بھی مل سکتا تھا، جبکہ وہ بھی نہیں دیاگیاجس افسر نے میرا ویزا منسوخ کیا، اسے بھی اس کے پیچھے کی وجہ سے نہیں جانتاتھا۔اس نے اس کے لیے معافی بھی مانگی۔اب میں یہاں سے واپس جانے کا انتظار کر رہی ہوں۔میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میرے ساتھ یہاں پر مجرموں کی طرح سلوک ہوا۔مجھے امید تھی کہ وہ اس دورے کے دوران مجھے میرے خاندان اور دوستوں سے ملنے کاموقع دیں گے۔5 اگست 2019 کو کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کو لے کر پارلیمنٹ ابراہمس نے حکومت ہند پرتنقید کی تھی۔ انہوں نے برطانیہ میں بھارتی ہائی کمیشن کو خط لکھ کر کہا تھا کہ حکومت کا یہ قدم کشمیر کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ ابراہمس برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر مسئلے کو لے کر قائم پارلیمانی گروپ کی صدارت بھی کرچکی ہیں۔حال ہی میں حکومت ہند کی طرف سے 25 سفارت کاروں کو کشمیر کا دو دن کا دورہ کروایا گیا تھا۔ اس کا مقصد کشمیر کی حالیہ صورت حال سے غیر ملکی سفارت کاروں کو آگاہ کراناتھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment