کاشی متھرا معاملہ:جمعیۃعلمائے ہند پرالزام بے بنیاد:گلزار احمد اعظمی

ممبئی:کل بروز جمعرات(مورخہ23؍ جولائی 2020ء) رپبلک اردو آن لائن نیوز پورٹل پر متھرا کاشی معاملے میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی مداخلت کار کی عرضداشت پر تبصرہ کیا گیا ہے اور تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد احمد ولی نے لکھا ہے کہ جمعیۃ علماء ہندنے اپنی عرضداشت میں لکھا ہے کہ ــ’’ ان تمام قطع نظر اگر عرض گذار کے تمام اعتراضات اور الزامات کو سچ تصور کرلیا جائے تو یہ کچھ نہیں سوائے تاریخ کی غلطیوں کی درستگی کا مطالبہ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ مسلم سلاطین کے ذریعہ ہندو عبادت گاہوں کی مبینہ مسماری اور اس پر مسلم عبادت گاہیں تعمیر کرنا ہے” ۔ اولاً معترض کی مذکورہ عبارت ہی کافی گنجلک اور مبہم ہے ،جس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں ،ثانیاً یہ اعتراض برائے اعتراض ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔جبکہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کا سوال سادھوئوں کی تنظیم نے کیا ہے اور جمعیۃ علماء ہند نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کی عرضداشت کے پیراگراف 9(ix) میں لکھا ہے کہ بابری مسجد فیصلہ میں عدالت پہلے ہی یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنا عدالت کا کام نہیں ہے ۔اس لئے اس پٹیشن کو خارج کیا جائے۔(یہی خبر ملک کے دوسرے اخبارات میں بھی ایجنسی کے ذریعہ چھپی ہے)تبصرہ نگار اخباری بیان کا سہارا لینے سے پہلے اگر جمعیۃ علماء ہند سے وضاحت طلب کرلیتے یا وہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کا مطالعہ کرلیتے جس کو ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے تیار کیا تھا اور جسے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون نے فائنل کیا تھاتوشاید ان کو اتنا طویل مضمون لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اس طرح کے حساس معاملات پر تبصرہ کرنے سے قبل بابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس فیصلہ میں عدالت نے کہا ہے کہ پلیس آف ورشپ قانون کے تحت عبادت گاہوں کو تحفظ حاصل ہے ۔جہاں تک گیان واپی معاملے میں جمعیۃ علماء ہند کے مداخلت کار بننے کا سوال ہے تو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ مرکزی حکومت پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور جمعیۃعلماء ہند جس کے بنیادی اغراض و مقاصد کی سب سے پہلی شق میں اسلام،شعائر اسلام اور مسلمانوں کے مآثر و معابد کی حفاظت شامل ہے ، ایسے نازک وقت میں جمعیۃ علماء ہند کیسے خاموش تماشائی بنی رہ سکتی تھی۔اسی وجہ سے جمعیت نے اس پٹیشن کی مخالفت کرنا اپنا فرض منصبی سمجھا ہے۔