کاش صفورہ انسان نہ ہوتی-شکیل رشید

کاش صفورہ زرگر انسان نہ ہوتی، حیوان ہوتی!
اس کا ایک انسان ہونا، اور ستم بالائے ستم اس انسانی گروہ میں سے ہونا جس سے نفرت آج کے دنوں میں جمہوری بھارت میں مباح ہے، اسے ایک حیوان کے مقابلے اس ملک کی ایک بڑی تعداد کی نظروں میں کمتر بنا دیتا ہے ۔اور ایسا کمتر کہ حاملہ ہونے کے باوجود اور کورونا کی مہلک وباکے ان دنوں میں جبکہ بڑے بڑے مجرم بھی کال کوٹھڑیوں سے قانوناً رہائی پارہے ہیں، اسے زندان کی تاریکی میں جھونک دیا گیا ہے ۔بس چند آنکھیں ہی ہیں جو صفورہ زرگر کی اسیری پر آنسوؤں سے تر ہوئی ہیں۔ چند ہی آوازیں ہیں جو اس کی رہائی کے لیے بلند ہوئی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ جن مسلمانوں کی شہریت کو یقینی بنانے کے لیے صفورہ زرگر نے کالے قانون سی اے اے کے خلاف احتجاجی آواز بلند کی تھی ان کی ایک بڑی تعداد صفورہ زرگر اور دیگر سی اے اے مظاہرین کی گرفتاریوں اور اسیری پر خاموشی کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔ مسلمانوں کی وی وی آئی پی شخصیات میں سے بھی بس کچھ ہی ہیں جنہوں نے ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، مسلم تنظیموں اور جماعتوں کی طرف سے بھی کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ہاں حقوق انسانی کے ہندو، مسلم اور دیگر ذات پات کے کارکنان ضرور آواز اٹھا رہے ہیں۔
اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں ۔صوبۂ کیرلا میں ایک حاملہ ہتھنی انسانوں کی بےحسی کی شکار ہوئی، اس نے دھماکہ خیز بارود سے بھرا ہوا کوئی پھل، غالباً انَناس کھالیا ، جس کے نتیجہ میں دھماکہ ہوا اور ہتھنی کا منھ، چہرہ اور حلق شدید زخمی ہو گیا، وہ ہفتہ بھر بڑے کرب سے گزری، اس سے کچھ بھی کھایا نہیں گیا ، اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہو سکا اور ایک دن وہ خاموشی سے ندی میں جاکر کھڑی ہو گئی، تین دن تک وہ اسی طرح کھڑی رہی اور پھر ڈوب کر مر گئی ۔بڑی ہی المناک موت تھی، ایسی موت کہ لوگوں کا دکھ اور افسوس کرنا فطری تھا۔اور بڑی تعداد میں لوگوں نے دکھ جتایا بھی۔دکھ کا اظہار کرنے والوں میں فلمی ستارے بھی تھے، دیگر فنکار بھی، دانشور اور صنعت کار بھی اور عوام و سیاست دان بھی۔ اظہارِ غم لازمی بھی تھا۔ہتھنی کی ظالمانہ موت پر اگر کسی کو دکھ نہیں ہے تو اسے بےرحم کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ پر حیرت یہ ہے کہ ان دکھی لوگوں میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں مہاجر مزدوروں کی بےبسی پر، سڑک کنارے بچہ جنتی ماں پر، ریل کی پڑی اور سڑکوں پر حادثات میں مرتے غریبوں پر اورحاملہ صفورہ زرگر کی اسیری پر کسی نے دکھ اور افسوس کا ایک کلمہ ادا کرتے ہوئے نہیں سنا، نہ ہی اندھادھند گرفتاریوں پر اظہارِ تشویش کرتے پایا۔ مثال سابق مرکزی وزیر مینکا گاندھی کی لے لیں، انہوں نے ہتھنی کی موت کی مذمت تو کی کہ انہیں جانوروں سے بڑی محبت ہے، ساتھ ہی انہوں نے اسے ‘فرقہ وارانہ’ رنگ بھی دے دیا اور اس واقعے کو کیرلا کے مسلم اکثریتی ضلع ملپّرم سے جوڑ کر سارے ملک کو غلط طور پر یہ باور کرانے کا کام کیا کہ ہتھنی کی موت کے ذمےدار مسلمان ہیں۔ظاہر ہے مسلمانوں کے خلاف ایک لہر اٹھی بالخصوص سوشل میڈیا پر، حالانکہ یہ واقعہ پلکّڑ کا ہے اور اس معاملے میں ولسن نام کے ایک شخص کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل بھی ہتھنی کی موت کا سوگ منانے اور ملپّرم کے بہانے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں خوب سرگرم رہا۔ مرکزی وزیر برائے ماحولیات پرکاش جاوڈیکر بھی خوب گرجے برسے۔گویا یہ کہ ساری بی جے پی اور اشرافیہ ہتھنی کی موت کے غم میں یکجٹ ہو گیا، عزم کیا گیا کہ مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔ یہ اچھی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اقلیتوں، پچھڑوں اور غریبوں کا جب ہتھنی جیسا حال ہوتا ہے تو کیوں کسی کو نہ بخشنے کا عزم نہیں کیا جاتا اور کیوں ان کی زبانیں بند رہتی ہیں یا کیوں جھوٹ پھیلاتی ہیں؟
کیا ہتھنی اور صفورہ زرگر کی داستان ایک جیسی نہیں ہے؟ ہتھنی حاملہ تھی، حاملہ صفورہ زرگر بھی ہے ۔لیکن شاید فرق ہے ۔صفورہ کوئی بےنام اور بےذات پات کی ہتھنی کا نام نہیں ہے اس کی ایک شناخت ہے، فرقہ پرست مخالف کی۔اور یہ جو ہتھنی کی موت پر افسوس کر رہے ہیں ان میں، سب نہیں لیکن ایک بڑی تعداد مودی نوازوں کی ہے، یہ بھلا صفورہ زرگر کی اسیری پر کیسے اظہارِ غم کر سکتے ہیں! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گجرات میں کوثر بی جیسی کتنی خواتین کے رحم چاک کر کے جنینوں کو ترشولوں پر اچھالا ہے اور اقتدار کے نشہ میں چُور ہوکر اناؤ سے لے کر وارانسی تک نہ جانے کتنی عورتوں کی عصمتیں لوٹی ہیں ۔نہ جانے گائے کے نام پر انہوں نے کتنے محمد اخلاق اور پہلو خان کی لنچنگ کی ہے۔ یہ جانوروں کی موت پر ہی دکھ ویکت کر سکتے بلکہ جانیں بھی لے سکتے ہیں کیونکہ یہ ان ہی کی قبیل سے ہیں۔ کاش صفورہ انسان نہ ہوتیں ، ان کی شناخت ایک ہتھنی یا گائے کی ہوتی!! اگر ایسا ہوتا تو آج ان کے لیے بھی آوازیں اٹھ رہی ہوتیں، لوگ اسکیچ بنا رہے ہوتے ۔
ہتھنی کی موت اور صفورہ زرگر کی اسیری کے پس منظر میں اس اس جمہوری سماج سے،پولیس اور عدالتوں اور سیاستدانوں سے ایک سوال ہے:کیا اس ملک کی اقلیتیں بشمول مسلمان ، پچھڑے، دلت اور غریب و لاچار افراد گرفتاریوں سے اور نا انصافیوں سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے یہ اعلان کر دیں کہ ہم انسان نہیں ہیں ہاتھی، ہتھنی اور گائے اور بیل ہیں؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*