کاش کورونا ارنب گوسوامی ہوتا؟ ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
خبر پڑھ کر ہنسی آگئی،مگر ہنسی کے ساتھ آنسو بھی تھے، دکھ اور افسوس کے آنسو۔ ویسے بھی یہ ہنسی کا نہیں رونے کا موقع ہے۔ جب آس پاس کے لوگ مررہے ہوں، وہ لوگ جن میں واقف کار، عزیز اور شناسا بھی ہوں، تب رونا تو آئے گا ہی۔خبر کی پھر بات کروں گا ،اس سے پہلے موت پر بات کرنا ضروری ہے۔ موت سے کوئی پندرہ دن پہلے مشرف عالم ذوقی سے بات ہوئی تھی، اپنا نیا ناول ’مردہ خانہ میں عورت‘ بھجوانے کے لیے ایڈریس مانگ رہے تھے۔ اور پندرہ دنوں کے درمیان کتنا کچھ بدل گیا! مشرف عالم ذوقی اپنے پیچھے اپنا وہ قہقہہ اور اپنی بھاری آواز چھوڑ کر چلے گئے ، جو فون کی گفتگو بند ہونے کے بعد بھی دیر تک کانوں میں گونجتی رہتی تھی۔ دم دار آواز ، زندگی سے بھر پور قہقہہ ۔۔کتنی باتیں تھیں جو مرحوم سے ہوئی تھیں۔ اپنے نئے ناول کا ذکر وہ بار بار کرتے تھے کہ شکیل یہ ناول ’مرگ انبوہ‘ سے کچھ ہٹ کر ہے، ہے تو اس کی ہی ایک کڑی مگر اس کے مقابلے حقیقت سے اور قریب۔ ذوقی مرحوم ’سچ‘ ہی لکھتے تھے، چاہے اپنی ذاتی کہانی لکھ رہے ہوتے یا دنیا کی کہانی۔ کتنی کہانیاں ایک ساتھ ذوقی مرحوم کے دماغ میں چلتی رہتی تھیں ۔ ایک دفعہ بتانے لگے کہ ’مرگ انبوہ‘ کے چار سلسلے وار ناول ہیں ، دوسرا ’مردہ خانہ میں عورت‘ ، تیسرا ’ہائی وے پر کھڑا آدمی‘ اور چوتھا بلاعنوان۔ پتہ نہیں اب باقی کے دو ناولوں کا کیا ہوگا؟ یہ سوال اہم اس لیے ہے کہ آج کی دنیا میں ’سچ‘ لکھنے اور حالات حاضرہ کو ’ناول‘ کی صورت میں آئندہ کی نسلوں کےلیے ’دستاویز‘ کی شکل میں ڈھالنے والے اردو زبان میں کہاں پائے جاتے ہیں! ذوقی مرحوم نے ’مرگ انبوہ‘ میں اس ’جادوگر‘ کو جو ہنستے ہنستے لوگوں کی جانیں لیتا ہے ایک کردار کی صورت میں پیش کرکے آنے والوں کےلیے ’ریکارڈ‘ کردیا ہے۔ اگر مرحوم زندہ ہوتے تو جو کچھ آج کے بھارت میں ہورہا ہے ، لوگ جن حالات کے شکار ہیں انہیں اپنے آئندہ کے ناولوں اور اپنی تحریروں میں ہمیشہ کےلیے ریکارڈ کرلیتے جو تاریخ کا ایک حصہ بن جاتے۔ اللہ مرحوم ذوقی کی مغفرت کرے، انہیں ٹوٹ کر چاہنے والی اہلیہ مرحومہ تبسم فاطمہ کی مغفرت کرے، جو ان کی موت کے ایک دن بعد ہی ان سے جاملیں، اور ان کے بیٹے ’شاشا ‘ کو سلامت رکھے۔ آمین۔
بات ’خبر‘ کی ہورہی تھی، ‘خبر‘ کا تعلق آج کے حالات سے ہے اور آج کے حالات کا ذکر بغیر مرحوم ذوقی کے ذکر کے ممکن نہیں تھا۔ لہذا بات ’خبر‘ سے ذوقی مرحوم تک آپہنچی۔ ملک کورونا کی دوسری لہر سے جنگ کررہا ہے، ملک کے شہری بے یارومدد گار ہیں، نہ اسپتال میں دوائیں، نہ آکسیجن نہ ویکسن اور نہ بیڈ۔ ملک کے جو ہائی کورٹ ہیں انہو ںنے مودی سرکار کی خوب خبر لی ہے، اتنی خبر کہ اگر ذرا سی بھی شرم ہوتی تو مودی حکومت ملک بھر سے اپنی نااہلی کےلیے معافی مانگ لیتی اور سارے کے سارے وزراء بشمول وزیر اعظم مستعفی ہوجاتے۔ مگر بے شرموں کو کہاں شرم! تو ہوا یہ کہ ہائی کورٹ جو ہیں وہ مودی سرکار سے سوال پوچھ رہے ہیں اور ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے جب کورونا سے نمٹنے میں مرکزی سرکار کی لاپروائی کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا توحالات کو قومی ایمرجنسی جیسے بتانے کے باوجود سماعت منگل تک کےلیے ٹال دی! کیوں؟ ملک کو آج ویکسن اور آکسیجن کی ضرورت ہے منگل کو سماعت کیوں؟ یہ ہنسی کا موقع تھا ، دکھ بھری ہنسی کا، اسی لیے ’خبر‘ پڑھ کر ہنسی آگئی۔ کاش کورونا، ارنب گوسوامی ہوتا! پھر سپریم کورٹ سے فیصلہ ایک ہی دن میں کردیاجاتا۔